آئین پر حملہ

آئین پر حملہ
آئین پر حملہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


جس حکومت نے کام کرنا ہوتا ہے وہ اپنے پہلے چند ماہ کے قلیل عرصہ میں بھی بہت سے کارنامے انجام دے لیتی ہے۔پاکستان میں اس کی سب سے بڑی مثال ذوالفقار علی بھٹو حکومت ہے، جس نے اپنے پہلے دو سالوں میں تاریخی کام کئے۔اس دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بناناہے۔ ذوالفقار علی بھٹو اگرچہ منتقم مزاج تھے اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی،لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ اچھرہ جا کر مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ کیا وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا میاں نواز شریف کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی”کسی کو نہیں چھوڑوں گا“ کا نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ اگر وہ چھوٹے صوبوں کے قوم پرست لیڈروں کے دستخط آئین کی دستاویز پر نہ کرواتے تو بعد کے عشروں میں رونما ہونے والے سیاسی واقعات میں فیڈریشن کو شدید خطرات لاحق رہتے۔ اپنی حکومت کے چوتھے سال میں بھی وزیراعظم عمران خان اس نکتہ کو سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں کہ اہم قومی معاملات پر سیاسی اتفاق رائے کتنا ضروری ہوتا ہے۔ ان کی گرومنگ ایک کرکٹ کے کھلاڑی کے طور پر ہوئی تھی، سیاست دان کے طور پر نہیں۔اِس لئے وہ سیاسی محاذ آرائی سے تو واقف ہیں لیکن سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت سے نہیں۔ 


عمران خان حکومت اگر اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جا رہی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ اگر انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ فیڈریشن آف پاکستان کی سالمیت کی واحد وجہ 1973ء کا آئین متفقہ طور پر منظور ہونا ہے۔ وفاقی وزراء کے الیکشن کمیشن جیسے اہم آئینی وفاقی ادارہ کے بارے میں بیانات فیڈریشن کے مستقبل کے بارے میں کوئی نیک شگون نہیں۔ کوئی ذمہ دار وفاقی وزیر یہ بیان دے ہی نہیں سکتا کہ الیکشن کمیشن نے پیسے پکڑے ہوئے ہیں یا الیکشن کمیشن کو آگ لگا دینی چاہئے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایسے بیانات دینے والے وزراء ایک آدھ کو چھوڑ کر وہ ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب نہیں لڑتے،بلکہ اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر بنتے ہیں، جس نے الیکشن میں عوام کا سامنا کرنا ہو وہ نسبتاً زیادہ ذمہ دارہوتا ہے، البتہ ان میں سے کچھ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کے چکر میں ایسی باتیں کر جاتے ہیں۔ کوئی وزیر اس وقت تک قومی اداروں پر حملہ آور نہیں ہو سکتا جب تک اس کی پارٹی کا قائد اس کی یہ ڈیوٹی نہ لگائے۔ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔الیکشن کمیشن اور سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی دونوں کا آئینی سٹیٹس انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کا اختیار دیتا ہے (آئین کا آرٹیکل 213(3)) اور چونکہ الیکشن کمیشن پاکستان پر حملہ سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی میں کیا گیا ہے اس لئے دونوں ادارے توہین عدالت کی کاروائی کے مجاز ہیں۔ 


موجودہ چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ کے خلاف حملہ اس لئے کیا گیا ہے کہ کچھ دوسرے لوگوں کی طرح وہ ”اچھا بچہ“ بن کر رہنے کی بجائے میرٹ اور شفافیت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ حکومت کی فرمانبرداری میں یکطرفہ کی بجائے تمام فیصلے آئین اور قانون کے مطابق کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان حکومت نے انہیں ٹارگٹ کرتے ہوئے اپنے وفاقی وزیر ان پر چڑھا دئیے ہیں۔ اب یہ کہنا کہ وہ سابق بیوروکریٹ اور وزیراعظم میاں نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی کے داماد ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) کے وفادار ہیں، حقائق کو بھونڈے انداز میں مسخ کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ان کا نام چیف الیکشن کمشنر کے طور پر خود وزیراعظم نے پیش کیا تھا، جس پر اپوزیشن لیڈر نے اتفاق کیا تھا۔ آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے اس کی منظوری دی تھی، جس کی سربراہ وفاقی وزیر ڈاکٹر شیریں مزاری تھیں۔ ایک ایسا شخص جس کا نام خود وزیراعظم عمران خان نے تجویز کیا اور اپوزیشن لیڈر نے اتفاق کیا اور بعد میں ڈاکٹر شیریں مزاری کی زیر سربراہی کمیٹی نے منظور کیا ہو، وہ کیسے میاں نواز شریف کا وفادار کہلایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر سکندر سلطان راجہ کا سعید مہدی کے داماد ہونے کی وجہ سے تانے بانے میاں نواز شریف سے ملائے جا رہے ہیں، لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ سعید مہدی کے بیٹے عامر علی احمد کو عمران خان حکومت نے اسلام آباد کا نہ صرف چیف کمشنراورCDA کا چیئرمین مقرر کیا ہوا ہے بلکہ ابھی ان کے CDA چیئرمین کی معیاد میں پانچ سا ل کی توسیع بھی کی ہے۔ یہ سعید مہدی کیسے میاں نواز شریف کے وفادار ہیں جن کے بیٹے کو عمران خان حکومت نے اسلام آباد کا چیف کمشنر اور CDA چیئرمین لگایا ہوا ہے اور داماد کا نام چیف الیکشن کمشنر کے لئے خود تجویز کیا تھا۔ خیر، چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہو چکی ہے، جس کی اس ہفتہ سماعت ہونا ہے۔ بات انتہائی سادہ ہے، ملک سیاسی معاملات کو پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے یا صدارتی آرڈیننسوں سے آگے نہیں چلے گا بلکہ آئین پر حملہ (آئین کے آرٹیکلز 213 تا 221)سے فیڈریشن کمزور ہوگی اور یہ بات تمام ادارے اگر سمجھ جائیں تو اسی میں ملک کی بھلائی ہے۔  

مزید :

رائے -کالم -