اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی غزہ پر بمباری، 2عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں 

اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی غزہ پر بمباری، 2عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


  غزہ،منامہ(آئی این پی) اسرائیلی طیاروں نے غزہ میں ایک بار پھر بمباری کی، فضائی حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم دو عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں جن کے بارے میں اسرائیلی فوج نے دعوی کیا ہے کہ وہ حماس کے ٹریننگ سینٹر تھے  اسرائیلی فضائیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ غزہ کے علاقے سے اسرائیلی سرزمین پر راکٹ حملے کیے گئے جس کے جواب میں فضائی کارروائی کی اور حماس کے ٹریننگ سینٹر کو تباہ کردیا۔اسرائیل غزہ پر حملے کا جواز ہمیشہ سے حماس کے آتش گیر غباروں یا پھر راکٹ حملوں کو قرار دیتا آیا ہے تاہم وہ اپنے دعوے کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں اسرائیلی جیل سے کموڈ کے راستے سرنگ بناکر فلسطینی رہنماوں کے نکلنے کے بعد سے اسرائیلی فورسز میں غصہ پایا جاتا ہے جس کا اظہار فضائی حملے کرکے کیا گیا۔دوسری جانب  اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے  کے  خلاف بحرینی عوام  کا  احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری،بحرینی عوام نے آل خلیفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ بحرینی  میڈیا کے مطابق بحرینی عوام نے   آل خلیفہ حکومت کے اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی مذمت اور  مظاہرہ کیا  ان مظاہروں میں بحرینی عوام نے آل خلیفہ حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ بحرینی عوام نے ملک کی جیلوں میں قید سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط اور فوری رہائی کا مطالبہ دہرایا اس سے پہلے تل ابیب میں آل خلیفہ کے سفیر کی تعیناتی کے اقدام پر رد عمل میں بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق کے نائب سیکرٹری شیخ حسین الدیہی نے کہا تھا کہ تل ابیب میں بحرین کا سفیر خالد یوسف الجلاہمہ اپنا اور اسکا نمائندہ ہے جس نے اسے بھیجا ہے الوفاق پارٹی کے نائب سیکرٹری نے کہا ہے کہ بحرینی قوم الجلاھمہ کو اپنا نمائندہ نہیں مانتی اوراسرائیلی حکومت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گی الدیھی نے  اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کو غداری اور کلنک کا ٹیکہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بحرین فلسطینیوں کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہے گا۔
اسرائیل بمباری

مزید :

صفحہ آخر -