21ستمبر، سیلز ٹیکس،جبری رجسٹریشن کیخلاف ملک گیر تاجر کنونشن

21ستمبر، سیلز ٹیکس،جبری رجسٹریشن کیخلاف ملک گیر تاجر کنونشن

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ملتان (نیوز رپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا ہے کہ سیلز ٹیکس، پوئنٹ آف سیلر، پراپرٹی ٹیکس،  سیلز ٹیکس میں (بقیہ نمبر53صفحہ6پر)
جبری رجسٹریشن کے خلاف ملک گیر تاجر کنونشن کی بجائے 21ستمبر بروز بروز منگل رات 8بجے بمقام مغل اعظم میرج ہال معصوم شاہ روڈ پر مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی، صوبائی، تحصیل، ضلع، سٹی کے عہدیداران شرکت کریں گے اور تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل کے سلسلے میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی ا ن خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر عہدیداران سے خطاب میں کیا جس میں مرکزی سنیئر نائب صدر حاجی بابر قریشی، جنوبی پنجاب کے صدرشیخ جاوید اختر، چیئرمین جنوبی پنجاب جاوید اختر خان، ضلعی صدر سید جعفر علی شاہ، صدرملتان خالد محمود قریشی، جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب ذیشان صدیقی، جنرل سیکرٹری ملتان مرزا نعیم بیگ، صدر غلہ منڈی راجہ مدثر، سنیئر وائس چیئرمین ملتان شیخ الطاف حسین، میاں مقبول قریشی، محمد شہباز قریشی، چوہدری عبدالحمید جٹ، حاکم علی قریشی، چوہدری ارشاد، عبداللہ خان، یعقوب راجپوت، شیخ شفیق،خواجہ عقیل صدیقی ودیگر نے شرکت کی خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ گذشتہ ڈیڑھ سال سے کرونا وبا کے باعث لاک ڈان نے ملک بھر کے پچاس لاکھ سے زائد چھوٹے تاجروں کو معاشی طور پر بدحال کرکے رکھ دیا ہے رہی سہی کسر امپورٹڈ وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایما پر آئے روز نت نئے ظالمانہ ٹیکسز لگا کر پوری کردی ہے جب تک امپورٹڈ وزیر خزانہ کی مشین بند نہیں ہوتی تب تک چھوٹے تاجروں پر ایسے ظالمانہ خنجر چلتے رہیں گے اسی لئے امپورٹڈ وزیر خزانہ کی انٹری کا سلسلہ بند کیا جائے انہوں نے کہا کہ تاجر برادری نے ہمیشہ ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے اربوں روپے کے ٹیکسز دیئے اور آج بھی ٹیکسز دے رہے ہیں لیکن افسوس کہ آئے روز نت نئے ٹیکسز نے چھوٹے تاجروں کو شدید پریشانی سے دوچار کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ وزیر خزانہ بین الاقوامی سطح پر تو ٹیکسز لگائے جانے بارے نظر رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں وہ زمینی حقائق کو مدنظر نہیں رکھتے کہ پاکستان کے کیا حالات ہیں جو کہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اور گذشتہ ڈیڑھ سال سے کرونا وبا  کی زد میں ہے اور لاک ڈان کی وجہ سے یہاں کے لاکھوں چھوٹے تاجر شدید مشکلات کا شکار ہیں لیکن صورتحال یہ ہے کہ معاشی بدحالی کا شکار لاکھوں چھوٹے تاجروں کے مسائل کے حل کی بجائے الٹا ان پر مزید ظلم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں تاجر تنظیموں کے عوامی نمائندوں کے ساتھ حکومت کی کوئی مشاورت نہیں ہے جب تک زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تاجر تنظیموں کے نمائندوں سے مشاورت نہیں ہو گی مسائل حل نہیں ہوں گے اس سلسلے میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مشاورتی اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔