رائے ارشاد کمال مرحوم ایک بے مثال شخصیت! 

رائے ارشاد کمال مرحوم ایک بے مثال شخصیت! 
رائے ارشاد کمال مرحوم ایک بے مثال شخصیت! 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


گذشتہ دنوں راقم الحروف اپنے بااعتماد دوست،شفیق استاد کے سایہ محبت سے محروم ہوگیا مرحوم زندگی کے ہر موڑ پر مسکرائے۔تعلیم وتدریس،وکالت،مصنف،کالم نویسی ان کا پیشہ تھا جسے انہوں نے ایمانداری سے نبھایا۔انہیں رائے ارشاد کمال کے نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ان کے شاگرد تعلق دار اب روتے اور دعاؤں میں یاد کرتے ہیں۔وہ زندگی سے کبھی مایوس نہ ہوئے صحت کے مسائل زندگی کے ساتھ چلتے رہے ان کا عقیدہ تھا کہ موت تو ایک نعمت ہے جو بندے کو خداوندکریم سے جاملاتی ہے۔کسیسے،تحصیل پنڈی بھٹیاں ضلع حافظ آباد ایک زرخیز قصبہ ہے رائے ارشاد کمال کا مسکن!وہ ایک پھول تھا جو دست قضا میں بکھر گیا بس ایک بات ہے کہ خوشبو کے بدن کو چھوا نہیں جاسکتا یہ بھی زندگی کا دوسرا روپ ہے میرا رائے ارشاد کمال سے باضابطہ تعارف سیاسی شخصیت چوہدری ظہیر عباس بھٹی کو ٹ سرور کی رعایت سے ہوا تھا  ،لاہور چوہدری عاصم شہزاد بھٹی ایڈووکیٹ کے ساتھ ملاقات ہوئی پہلی ملاقات میں ایسا لگا کہ اجنبیت کا کوئی تصور موجود ہی نہیں ہے دوستی کی فضا ہی بن گئی بس پھر تو باتوں اور ملاقاتوں کا ایک سلسلہ چل نکلا ان سے وابستہ یادوں کا ایک دریا ہے جو دلوں اور دماغ کے کناروں میں بہتا چلا آتا ہے سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں؟مجھے بہت کچھ یاد آرہا ہے لیکن بھول جاتا ہوں بھولنا بھی دراصل  یاد کی ایک کڑی ہے۔
ؔؔ   جن سے مل کر زندگی میں عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید دیکھے نہ ہوں مگر ایسے بھی ہیں 


رائے ارشاد کمال متعدد کتابوں کے مصنف ہیں جن میں قابل ذکر غازی علم دین شہید،ناموس رسالت ﷺ کے سات شہید،سازشوں کا دیباچہ،ہاں یہ بھٹوہے،روح کربلا  شامل ہیں انہوں نے" ناقابل تردید "کے عنوان سے قومی اخبارات  روزنامہ انصاف،  روزنامہ پاکستان،  روزنامہ مشرق میں خوب لکھا  ادبی حلقوں میں ان کی تحریریں بے حد پسند کی جاتی رہی ہیں چند ماہ پہلے اتفاق سے رائے ارشاد کمال کے ساتھ سچے عاشق رسول ﷺعلامہ خادم حسین مرحوم کی مرقد پر حاضری دی مسجد یارسول اللہ ﷺ تحریک لبیک کے سربراہ  علامہ سعد رضوی اور ان کے ساتھیوں نے پرتپاک استقبال کیا،لبیک یارسول اللہ ﷺ کے نعروں سے صدائیں بلند ہوئیں علامہ خادم حسین رضوی مرحوم اور ان کے فرزند ارجمندعلامہ سعد رضوی  اکثر تقریروں میں شہدائے ناموس رسالت ﷺ پر لکھی گئی تصانیف  کا ذکر اپنی تقریروں میں کرتے رہے۔ سچے عاشق رسول ﷺ،  قلم دوست، محب الوطن،روحانیت کا داعی،عوام دوست اپنے خالق حقیقی سے جاملا  ان کے نماز جنازہ میں ہر مکتبہ فکر کے ہزاروں افراد نے شرکت کی عالم اسلام ملک وقوم کے عظیم سپوت کی خدمات ناقابل فراموش ہیں  دعاہے کہ  اللہ رب العزت بغیر حساب کتاب کے باغ فردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائیں (آمین ثمہ آمین)     ؔ؎
آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے 
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے 

مزید :

رائے -کالم -