ذہنی صحت

 ذہنی صحت
 ذہنی صحت

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


آجکل ٹی وی چینل دیکھیں تو سیاسی منظرنامہ ہر طرف چھایا ہوا نظر آتا ہے۔ انتخابات کب ہوں گے نوازشریف کب آئیں گے۔ عمران خان اور اُس کی پارٹی کا مستقبل کیا ہے۔ کپتان پر کتنے کیس ہیں۔ جیل میں انہیں کون کون سی سہولتیں حاصل ہیں۔ عدلیہ کا رول کیا ہے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے آج کیا کمنٹس دیئے ہیں نچلی عدالتوں نے کپتان اور اِس کی پارٹی کے دوسرے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ہے۔ کتنے کیسوں کی ضمانتیں ہوتی ہیں۔ نیوز بلیٹن کے آخری حصے میں حادثوں، دہشت گردی کے واقعات، گرفتاریوں،خودکشیوں،چوری ڈاکے اور قتل کی وارداتوں کی تفصیل ہوتی ہے۔ پہلے حصے پر توجہ دینے سے مایوسی ہوتی ہے کہ کوئی چیز بھی یقینی نظر نہیں آتی۔ سینئر تجزیہ کار سارا تجزیہ کرکے کہہ دیتے ہیں کہ ویسے پاکستان میں کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ باتیں سن کر عام آدمی اپنے اور ملک کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو جاتا ہے لیکن دوسرا حصہ سن کر انسان ایک اذیت میں مبتلا ہو جاتا ہے کیونکہ ٹریفک اور ریل کے حادثوں میں سینکڑوں آدمی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ہر دوسرے دن دہشت گردی کی واردات میں بہت سے بے گناہ شہری اور سیکورٹی ایجنسیوں کے جوان موت کا شکار ہو جاتے ہیں پھر خبر آتی ہے کہ کم سن بچی کے ساتھ زیادتی ہو گئی ہے کہیں سے دینی مدرسے میں بدفعلی کی خبر آتی ہے کہیں بیٹا باپ کو اذیت دے کر قتل کر دیتا ہے۔ کہیں گھر میں کام کرنے والے بچوں کی پسلیاں توڑ دی جاتی ہیں۔
اِس مایوس کن صورتحال کی کئی وجوہات ہیں۔ لاقانونیت، غربت، بیماریاں، قدرتی حادثے، وبائیں معاشرتی مسائل بھی کم وبیش ہر معاشرے میں ہوتے ہیں۔ وباؤں پر کسی کا کنٹرول نہیں حال ہی میں کووڈ لاکھوں زندگیوں کا چراغ گل کر گیا ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی ایک خواب ہے قانون صرف طاقتور کے حق میں ہوتا ہے۔ اِن سب چیزوں پر بہرحال کئی فورمز پر بحث مباحثہ ہوتا رہتا ہے اور حکومت بھی ان معاملات کے سدھار کے لئے جھوٹے سچے وعدے اور کوشش کرتی رہتی ہے لیکن ایک چیز کو حکومت اور معاشرہ تقریباً نظرانداز کر رہا ہے وہ ہے ذہنی بیماریاں، کووڈ آیا تو پوری دنیا اِس کی روک تھام میں لگ گئی۔ پولیو کے لئے دنیا بھر میں دوائی کے قطرے پلائے جا رہے ہیں اور بڑی حد تک اِس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہی صورتحال دوسری کئی بیماریوں کی ہے لیکن ذہنی بیماریوں کے خلاف دنیا میں کوئی مہم نہیں چل رہی غالباً کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی۔


پاکستان اِس معاملے میں دوسرے مسئلوں کی طرح دنیا میں شاید سب سے پیچھے ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں اِس بات کا شعور ہی نہیں ہم اِس بیماری کو بیماری ہی نہیں سمجھتے تو پھر علاج کیسا۔ اگر کسی کو ضرورت سے زیادہ غصہ آتا ہے اور اور وہ کچھ غلط کرتا ہے تو ہم یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ یہ شروع سے ہی غصے والا ہے۔ اگر کوئی زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتا ہے اورذہنی طور پر نکما ہے تو ہم اُسے لاپرواہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں۔ اگر کوئی ماں باپ کو قتل کر دیتا ہے یا پورے خاندان کو قتل کر دیتا ہے تو بھی ہمارا ذہن بیماری کی طرف نہیں جاتا۔ ہم یہ نہیں سوچ سکتے کہ ذہنی طور پر نارمل کوئی آدمی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ ہم ایسے واقعات کو غربت یا کسی وجہ سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اِس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ معاملہ گھمبیر ہوتا جا رہا ہے۔ کیا ذہنی طور پر نارمل انسان کسی غریب بچی کی پسلیاں توڑ سکتاہے۔حال ہی میں پنجاب میں ایک پولیس افسر کو محکمے نے ذہنی مریض قرار دیا ہے اور اُس کا علاج کروایا ہے یہ تو ایک کیس میں آئی جی نے حقیقت کو تسلیم کیا ہے ورنہ بے شمار لوگ اسی قبیل کے موجود ہیں۔


چونکہ ہمارے ہاں ذہنی بیماری کو رجسٹر ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ایسے مریض اور اہل خاندان شرمندگی محسوس کرتے ہیں اور اِسے چھپا کر رکھتے ہیں۔ اِس صورتحال میں ذہنی امراض کے ڈاکٹر بھی کافی کم ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے معاشرے میں تقریباً 20 فیصد لوگ ذہنی امراض کے شکار ہیں لیکن عملی طور پر ایک لاکھ آبادی کیلئے ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے پروفیسر سعد بشیر کی قیادت میں ذہنی مریضوں کے علاج کے لئے ایک ٹاسک فورس بنائی ہے یہ ایک اچھا فیصلہ ہے کم از کم کسی لیول پر اِس مسئلے کا ادراک پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ کافی نہیں ضرورت اِس بات کی ہے کہ قومی سطح پر اس معاملے پر غور کیا جائے اور ضروری اقدامات کئے جائیں۔ ٹیلی وژن چینلز پر سیاست سے ہٹ کر اِس قسم کے مسائل پر بھی بحث کی جائے۔ سیاست میں ٹھہراؤ پیدا کیا جائے۔ سیاست میں نفرت، شدید محاذ آرائی اور گالی گلوچ کے کلچر کی حوصلہ شکنی کی جائے کیونکہ یہ کسی کے مفاد میں نہیں بلکہ معاشرے کی تباہی کا باعث ہے۔ غربت اور جہالت کے خاتمے سے مجموعی معاشرتی صورتحال پر یقینا مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔ لائبریری کلچر، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کو فرو غ دینے کی ضرورت ہے۔
 

مزید :

رائے -کالم -