عسکریت پسندوں کا مشرقی یوکرین کی سرکاری عمارات پر قبضہ ،فورسز سے جھڑپیں

عسکریت پسندوں کا مشرقی یوکرین کی سرکاری عمارات پر قبضہ ،فورسز سے جھڑپیں

  

 ماسکو/واشنگٹن(این این آئی)روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین کے حکام کی جانب سے ملک کے مشرقی حصوں میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی سے مجوزہ مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے،ادھر امریکہ نے مشرقی یوکرین میں بڑھتے ہوئے تشدد میں روس کے کردار کی شدید مذمت کی ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق اتوار کو عسکریت پسندوں کے یوکرین کے شمالی شہر کراماتورسک میں پولیس کے صدر دفتر پر حملے کے بعد انہوں نے کہاکہ یوکرین کے حکام کی جانب سے ملک کے مشرقی حصوں میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی سے مجوزہ مذاکرات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے،جمعرات کو جنیوا میں یوکرین، روس، امریکہ اور یوپی یونین کے درمیان مذاکرت ہو ں گے ،اسے پہلے یوکرین کے مقامی میڈیا اور عینی شاہدین نے بتایا کہ کہ روس حامی عسکریت پسندوں نے شمالی یوکرین کے شہر کراماتورسک کے پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کر لیا ،اس کے نتیجے میں حملہ آوروں اور پولیس کے درمیان گولی باری ہوئی کیونکہ پولیس اس عمارت کو بچانا چاہ رہی تھی،حملہ آور رائفلوں سے لیس تھے اور انھوں نے چہروں کو ماسک اور دوسری چیزوں سے چھپا رکھا تھا۔ انھوں نے اپنا تعارف عوامی ملیشیا کے طور پر دیا اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم یوکرینی فوج نہیں ہیں ہم عوام کے جنگجو ہیں ہم وہ لوگ ہیں جو بدعنوان کئف پولیس کو بھگانے کے لیے کھڑے ہوئے ہیں،دونتسک کے علاقے میں کئی سرکاری عمارتوں پر قبضے کی اطلاعات ہیں،یہ تصادم یوکرین میں نئی حکومت اور روس حامی مظاہرین کے درمیان روز افزوں کشیدگی کا نتیجہ ہیں،امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن آئندہ 10 دنوں میں یوکرین کا دورہ کریں گے -

مزید :

عالمی منظر -