سرکاری ہسپتالوں کے با اثر ڈاکٹروں نے اہم سیٹوں کو جاگیر بنا لیا

سرکاری ہسپتالوں کے با اثر ڈاکٹروں نے اہم سیٹوں کو جاگیر بنا لیا

  

                                                                              لاہور(جاوید اقبال)صوبائی دارلحکومت کے ہسپتالوں کوڈسپینسریوں،سٹورو ںاور انتظامی امور کی سیٹوں پر سالہا سال سے تعینات 3درجن ڈاکٹروں نے جاگیر بنالیا ہے یہ لوگ کئی کئی سالوں سے ایک ہی سیٹ پر تعینات ہیں اور کروڑوںروپے کی ہیرا پھیری میں ملوث ہیں خود لاکھوں کماکر قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا سالانہ نقصان پہنچا نے کا باعث بن رہے ہیں۔ ان مٹھی بھرمبینہ طور پر کرپشن میں ملوث ملازمین نے ہر ہسپتال کے شعبہ پرچیز کو اپنی ریاست بنا رکھا ہے شعبہ جات میں ہونے والی بدعنوانی میں چیف فارماسسٹ، پرچیز کلرک ایڈیشنل میڈیکل، سپرنٹنڈنٹس،ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس بھی ملوث ہیں جنہیں کئی کئی سالوں سے تبدیل نہیں کیا گیا ان کے سامنے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ،پرنسپلز اور بورڈ آف منیجمنٹ بھی بے بس ہیں یہ لو گ کمپنیوں سے کروڑوں روپے کی خریداری کی فرضی انٹریاں ڈال کر سامان لینے کی بجائے کل واجبات کوففٹی ففٹی کی بنیاد پر بانٹ لیتے ہیں۔ سروسز ہسپتال کے شعبہ پرچیز کی طرف سے کی گئی سرجیکل اور ڈسپوزیبل اشیاءکی خریداری میں اس طرح کے طاقتور مافیا نے کمپنیوں سے سال2013-14کے لئے خریدی گئی سرجیکل ڈسپوزیبل سوچرز سمیت دیگر سامان جن کی مالیت کروڑوں روپے بنتی ہے ان کی کاغذوں میں فرضی انٹریاں ڈال دیں۔کاغذوں میں فرضی طور پر سامان کی خریداری ظاہر کی اور حقیقت میں انسٹرومنٹ سٹور میں یہ سامان آیا ہی نہیں ،ریکارڈ کے معائنہ کے دوران معلوم ہوا کہ 520درجن ویکرل آپریشن کا دھاگہ اور 250سو درجن گیٹ گیٹ کادھاگہ سمیت 14اقسام کی سرجیکل آلات کی کاغذوں میں خریداری کی گئی مگر حقیقت میں مال خریدا ہی نہیں گیا اور کمپنیوں کو اس کی ادائیگی کردی گئیں ۔گھپلا پکڑے جانے پر انتظامیہ نے سٹور میں ایسے فنکار لوگ لگا دیئے ہیں جنہیں کہا گیا کہ وہ فرضی استعمال کی انٹریاں ڈال کر گھپلے کو پاک کردیں اس طرح جناح ہسپتال ،میو ہسپتال ،گنگا رام ہسپتال ،لاہور جنرل ہسپتال ،چلڈرن ہسپتال ،پی آئی سی ،لیڈی ویلنگڈن اور لیڈی ایچی سن ہسپتال میں فرضی اندراج کرکے کروڑوں روپے مالیت کی خریداری ظاہر کرکے سامان حاصل کئے بغیر ادائیگیاں کر دی گئی ہیں بتایا گیا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ ہسپتالوں میں مختلف شعبہ جات جن میں پرچیز سر فہرست ہے کئی کئی سالوں سے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ،ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹس ،فارماسسٹ،کلیریکل سٹاف ،سٹور کیپرز اور ڈسپینسرز تعینات ہیں جو اپنی فنکاریوں اور سامان فراہم کرنے والی کمپنیوں سے گہرے تعلقات بناچکے ہیں اور ہسپتالوں کے خزانوں کو کروڑوں روپے کا سالانہ نقصان پہنچارہے ہیں اس مافیا کے تعلقات ہسپتالوں کے شعبہ اکاﺅنٹس ،فنانس اور ایڈمن سے بھی ہے ۔جہاں سے فرضی انٹریاں کی کلیئرنس کرالیتے ہیں ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر سلمان کاظمی نے کہا ہے کہ سیکرٹری صحت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور سالہا سال سے شعبہ پرچیز ،میڈیکل ،جنرل ،انسومنٹس سٹوروں میں بیٹھے ملازمین کو تبدیل کریں تاکہ ہسپتالوں کے اندر غریب ملازمین کے فنڈز کرپشن کی نذر نہ ہوسکیں۔اس حوالے سے سیکرٹری صحت ڈاکٹر اعجاز منیر نے کہا کہ معاملے کی چھان بین کی جائے گی جن ہسپتال میں سروس پالیسی کے برعکس ملازمین تعینات ہیں انہیں تبدیل کیاجائے گا اور کرپشن میں ملوث لوگوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -