پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد نہ ہو سکا عوام ریلیف سے محروم

پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد نہ ہو سکا عوام ریلیف سے محروم

  

پ لاہور(عامر بٹ سے)صوبائی دارالحکومت کے محکمہ ریونیو میں کرپشن اور لاقانونیت نے مستقل بنیادوں پر ڈیرے لگا لیے پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کروانے کی پریکٹس بوگس اور خود ساختہ نکلی دفتر قانونگو، رجسٹریشن برانچ اور پٹواریوں کی آپسی ملی بھگت کے باعث عوام الناس کو کوئی ریلیف نہ مل سکا ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان میمن اور ڈی سی او لاہور کی جانب سے کی جانے والی کوشش بھی دھری کی دھری رہ گئی پرچہ رجسٹری قانون پر عمل درآمد کی افواہیں سنانے والے شہریوں کی اکثریت کی امیدیں بھی دم توڑ گئی پٹوار خانہ جات میں انتہائی ڈھٹائی سے انتقالات کے اندراج کے لیے حسب روٹین کے مطابق وصولیاں کی جانے لگیں قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ ریونیو کے اعلی افسران کو بھجوائی جانے والی پرچہ رجسٹری انتقالات کی فہرست بھی بوگس تیار کی جا رہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہ ہیں روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے محکمہ ریونیو کے ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور احمد جاوید قاضی اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر لاہور عرفان نواز میمن نے پرچہ رجسٹری قانونی پر مکمل عمل درآمد کروانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پٹواریوں کی جانب سے کی جانے والی کرپشن کی روک تھام کی حکمت عملی کی جس کے مطابق9 ٹاؤنوں کے سب رجسٹراروں کی جانب سے بھیجی جانے والی پرچہ رجسٹریوں پر انتقالات نمبر درج کرتے ہوئے ریونیو سٹاف حلقہ پٹواریاں بھجوائے گا ور رجسٹری ہذاکا مالک، وثیقہ نویس، لوکل کمیشن رجسٹریشن برانچوں سے ان رجسٹری دستاویزات پر درج کیے جانے والے انتقالات کے نمبر لے سکیں گے بلکہ ڈی ڈی او رجسٹریشن کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ وہ انتقالات کی فہرست برانچوں کے باہر دیوار پر چسپاں کریں گے اور عوام الناس کے اس ضمن میں آگاہی بھی دیں گے تاہم یہ حکمت عملی اس وقت دھر ی کی دھری رہ گئی جب رجسٹریشن برانچ کے عملے ، پٹواریوں اور دفتر قانونگو سٹاف نے آپس میں ملی بھگت کرتے ہوئے کرپشن کی نئی راہ نکال لی جس کے مطابق رجسٹریشن برانچوں کی جانب سے پرچہ رجسٹری بھجوانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی جانے لگی اور انتہائی سست روی سے پرچہ رجسٹریوں کو پٹوار خانوں میں بھیجا جانے لگا جو کہ رجسٹریشن برانچوں کی پاسنگ اور اعتراض ڈاک دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے دوسری جانب پٹواریوں نے پرچہ رجسٹری کے مطابق صرف 10 سے12انتقال درج کرنے لگے اور باقی ان نمبروں کی جعلی فہرست تیار کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کلکٹر کو بھجوانے لگے جبکہ جن انتقالات کو پرچہ رجسٹری کے مطابق درج کیا جاتا رہا

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -