مصر ی پولیس نے جنسی زیادتی کو ہتھیار بنا لیا

مصر ی پولیس نے جنسی زیادتی کو ہتھیار بنا لیا
مصر ی پولیس نے جنسی زیادتی کو ہتھیار بنا لیا
کیپشن: egypt strike

  

 مصر (بیورو رپورٹ)صدر مرسی کو حراست میں لئے جانے کے بعد سے مصرمیں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔بین الاقوامی میڈیا کے مطابق مصری قانون نافذ کرنے والے ان مظاہرین کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنارہے ہیں۔ اب تک 16000سے زائد لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور چند روز قبل مختصر سماعت کے بعد مرسی کے 529حامیوں کو سزائے موت بھی سنائی گئی تھی۔اب برطانوی اخبار”گارڈین“نے انکشاف کیا ہے کہ زیر حراست مظاہرین کو مصری پولیس کی جانب سے جنسی تشدد کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں میں مظاہروں کے لیڈر عمر الشوقیہ کو پولیس نے 24مارچ کو حراست میں لیا۔ اس کے رشتے داروں کی جانب سے ”سمگل“کئے جانے والے بیان حلفی میں اس کا کہنا ہے کہ حراست کے بعد سادہ لباس میں ملبوس پولیس اہلکاروں نے اسے جسمانی و جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسی طرح ایک اور نوجوان فادی سمیر کو 8جنوری کو گرفتار کیا گیا اور اس کی 42روزہ حراست میں مسلسل ایسا ہی سلوک کیا جاتا رہا۔ اخبار کے مطابق جیلوں میں قید بیشتر ملزمان کو اسی انداز میں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہاہے اور بار بار وزارت داخلہ کی توجہ اس طرف دلانے کے باوجود ان کی فریادوں پر کان نہیں دھرے گئے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ابتدا میں مظاہرین کی بڑی تعداد اسلام پسندوں کی تھی لیکن اب حکومت کے مظالم کو دیکھتے ہوئے معاشرے کے دیگر طبقے بھی ان مظاہروں میں شامل ہوتے جار ہے ہیں۔ 

مزید :

بین الاقوامی -