امیر جماعت اسلامی پنجاب کاطویل لوڈشیڈنگ پر شدید رد عمل کا اظہار

امیر جماعت اسلامی پنجاب کاطویل لوڈشیڈنگ پر شدید رد عمل کا اظہار

  

لاہور(سٹاف رپورٹر)پارلیمانی لیڈر اور امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے شہروں میں16اور دیہات میں20گھنٹے تک لوڈشیڈنگ پر شدید رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے کہاہے کہ حکمران عوام کوریلیف فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔توانائی بحران کو6ماہ میں ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والے اپنے5سالہ دور اقتدار میں اسے ختم کرنے کی باتیں کررہے ہیں۔موجودہ نواز شریف حکومت کو11ماہ ہوچکے ہیں لیکن بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اب بھی جاری ہے۔18کروڑ عوام کی زندگی عملاً اجیرن ہوچکی ہے۔ملک میں جاری بدترین توانائی بحران کے لئے ضروری ہے کہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر فوراً شروع کی جائے اور پاک،ایران گیس پائپ لائن کو بغیر کسی بیرونی دباﺅ کے مکمل کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ ملکی حالات کے پیش نظر سرمایہ دار پاکستان نہیں آرہے۔بجلی کی لوڈشیڈنگ نے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاہے۔صنعتیں بھارت،بنگلہ دیش،چین ،ملائیشیا اوردوسرے ممالک میں منتقل ہورہی ہیں۔مزدور طبقہ بے روزگاری کے باعث فاقوں اور خودکشیوں پر مجبور ہوچکاہے۔ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بری طرح متاثر ہوچکے ہیں۔جماعت اسلامی کے رہنماﺅں نے مزیدکہاکہ گرمی بڑھنے سے شارٹ فال2500میگاواٹ تک پہنچ گیاہے۔بجلی کی طلب اور رسد میں واضح فرق پیداہوچکاہے۔لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے تمام دعوے ریت کی دیوار کی طرح زمین بوس ہوچکے ہیں۔این ٹی ڈی سی حکام کے مطابق ملک بھر میں بجلی کی کل پیداوار 9ہزار میگاواٹ ہے۔ہائیڈرل ذرائع سے 172میگاواٹ،تھرمل سے1370میگاواٹ اور آئی پی پیز سے5910میگاواٹ پیدا ہوتی ہے۔بجلی کی غیر اعلانیہ طول لوڈشیڈنگ سے کاروباری شعبہ شدیدمتاثر ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -