نائب تحصیلداروں کی آبائی شہروں میں ٹرانسفار پر عائد پابندی ختم

نائب تحصیلداروں کی آبائی شہروں میں ٹرانسفار پر عائد پابندی ختم

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)پنجاب حکومت کی جانب سے نائب تحصیلدار کی آبائی شہر میں ٹرانسفر پر عائد پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پنجاب بھر کے تمام نائب تحصیلدار اس کوشش میں سرگرداں ہو گئے ہیں کہ ان کی ٹرانسفر ،ان کے آبائی شہر اور مند پسند قانون گوئی میں کی جائے روزنامہ پاکستان کو ملنے والی معلومات کے مطابق پنجاب بھر میں نائب تحصیلداروں کی اکھاڑ پچھاڑ شروع ہو گئی ہے جس میں سے زیادہ تر نائب تحصیلداروں کو ان کے آبائی شہروں میں ٹرانسفر کیا جا رہا ہے پنجاب حکومت کی طرف سے ٹرانسفر کی پابندی2 سال قبل لاگو کی گئی تھی کی کوئی بھی نائب تحصیلدار اپنے آبائی شہر میں نہ تو تعینات ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کی ٹرانسفر کی جا سکتی ہے دریں اثنا گزشتہ سال گورنر پنجاب کے آفس میں اس قانون کو چیلنج کیا گیا اس اب3 ماہ قبل پنجاب حکومت کی طرف سے عائد اس پابندی کو ختم کر دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت نے ٹرانسفر کے حوالے سے اپنے ان احکامات کو واپس لے لیا ہے اس آبائی شہر میں تعیناتی کے ٹرانسفر پر پابندی ختم ہوتی ہے تمام نائب تحصیلدار اس کوشش میں مصروفِ عمل ہو گئے ہیں کہ ان کی ٹرانسفر ان کے آبائی شہر میں کی جائے اور اپنی پسند جگہ پر ٹرانسفر کروانے کے لیے وہ ہر ممکن اقدام ہو بروئے کار لا رہے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ آخر نائب تحصیلدار اپنے آبائی شہر میں ہی ٹرانسفر کروانے کے لیے زور کیوں لگا رہے ہیں کیا وہ اپنے آبائی شہریوں کے لیے باعث رحمت بن کر جانا چاہ رہے ہیں تا باعث زحمت۔ دوسری جانب ٹرانسفرہونے والے نائب تحصیلدار وں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آبائی شہروں میں ٹرانسفر کروانے کے لیے اس لیے خواہش مند ہیں کہ وہ اپنے آبائی شہریوں کی بھلائی کے لیے اقدامات کریں اور اپنے اپنے علاقے کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کروانے میں بہتر طور پر مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے جا ن توڑ محنت بھی کریں گے تا کہ کمپیوٹرائزیشن سسٹم مکمل ہو جانے کے بعد عام شہری کو فردات، مصدقہ نقول، ٹرانسفر جائیداد اور دوسرے تمام معاملات میں آسانی حاصل ہو سکے اور ان کا مزید یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو قانونی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے بہت ساری سہولیات مہیا کر سکتے ہیں

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -