دنیا کاکوئی آئین اورقانون تنقیدسے نہیں روکتا ،ناصراقبال خان

دنیا کاکوئی آئین اورقانون تنقیدسے نہیں روکتا ،ناصراقبال خان

  

 ( پ ر ) ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،مرکزی سینئر نائب صدر محمدفاروق چوہان ، صدرمدینہ منورہ سرفرازخان نیازی،صدرکراچی یونس میمن،صدرپنجاب محمدیونس ملک،نائب صدورپنجاب عزت رسول ایڈووکیٹ،احدحنیف،شیخ طلال امجد اورصدرفیصل آبادندیم مصطفی نے کہا ہے کہ تنقیداورتوہین میں زمین آسمان کافرق ہے۔دنیا کا کوئی آئین اورقانون تنقیدکرنے سے نہیں روکتا،تاہم کسی کو تنقید کی آڑمیں توہین کرنے کاحق نہیں پہنچتا۔جہاں تنقیداوراختلاف رائے کاحق سلب کرلیا جائے وہاں بگاڑپیداہوتا ہے۔تعمیر،تدبراورتدبیر کاراستہ تنقیدسے ہوکرجاتا ہے۔خاموش صرف قبرستان ہوتے ہیںجبکہ ہرزندہ معاشرہ سوچتااور بولتا ہے ۔ہمارے ہاں جمہوریت ہویاآمریت دونوں صورتوں میں تعمیری تنقید کااحترام نہیں کیا جاتا ۔ تنقید درحقیقت اختلاف رائے کے اظہار کامہذب ذریعہ ہے ۔بحیثیت باوردی صدرپرویز مشرف کے ماورائے آئین اقدامات پرتنقید جائز اورشہریوں کاآئینی وانسانی حق ہے تاہم اس آڑ میں کسی بھی فردیاادارے کوتوہین کانشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔وہ ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔محمدناصراقبال خان نے کہا کہ پاکستان میں آج بھی آئین اورقانون کی حکمرانی محض ایک خواب ہے جوخداجانے کب شرمندہ تعبیر ہوگا۔جمہوریت ہویاآمریت عام آدمی کی حالت زارنہیں بدلی ،چہروں کابدلناکوئی معنی نہیں رکھتا۔انہوں نے کہا کہ جہاں انسان پینے کے صاف پانی ،صحت کی جدیدسہولیات اورتعلیم سمیت بنیادی ضروریات سے محروم ہوں وہاں شاہراہوں پرپیسہ بربادنہیں کیا جاتا ۔جعلی سروے چھپوانے سے حقیقت نہیں بدلے گی ،پاکستان کومقبول نہیں معقول حکمرانوں کی ضرورت ہے جوجعلی شہرت کیلئے شعبدہ بازی نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ صرف آئین شکنی نہیں بلکہ عہدشکنی پربھی سزاملنی چاہئے ،پرویزمشرف کوسزاملے یا نہ ملے مگر پاکستان کے عام لوگ پچھلی کئی دہائیوں سے جرم بیگناہی کی سزابھگت رہے ہیں۔جوچھوٹی جیل میں ہیں انہیں تین وقت خوراک مل جاتی ہے مگرجو بیچارے بڑی جیل میں ہیں انہیں پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے کبھی اپنا خون توکبھی گردہ بیچناپڑتا ہے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -