مقبوضہ کشمیر میں کالا قانون عوامی حقوق کا قاتل

مقبوضہ کشمیر میں کالا قانون عوامی حقوق کا قاتل
مقبوضہ کشمیر میں کالا قانون عوامی حقوق کا قاتل
کیپشن: riaz

  

سینئر بھارتی صحافی اور معروف مصنفہ ارون دھتی رائے نے مقبوضہ کشمیر میں لاگو کالے قوانین کو عوامی حقوق کا قاتل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے ۔امن، ترقی کے تمام دروازے بنداور حالات انتہائی نامساعد ہیں۔ آفسپا اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین نے کشمیری عوام کے حقوق سلب کررکھے ہیں ۔لوگ پریشانیوں اور مشکلات کا شکار ہیں ۔بھارتی اور ریاستی حکومتوں کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ سینکڑوں افراد کو جیلوں میں ٹھونس کر ان پر ملک اور حکومت دشمنی کا الزام لگا دیا گیا ہے اور ان ریاستوں میں قانون اور فوج کی تلوار غریبوں پر لٹکائی جارہی ہے۔ افسپا ،پبلک سیفٹی ایکٹ ایک ایسی بیماری ہے جس کا اگر بروقت علاج نہ کیا گیا تو یہ لاعلاج بیماری بن سکتی ہے۔ جموں وکشمیر ، منی پور ، ناگالینڈ کی ریاستوں میں لوگوں کے سروں پر فوج تعینات ہے۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام انسانی حقوق کمشن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، اٹلی، ناروے، ترکی، فرانس نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مکمل انسانی حقوق دینے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ انٹرنیشنل انسانی حقوق کمشن کے اجلاس یو پی آر انڈیا کے اجلاس کے موقع پر 90 ممالک نے بحث میں حصہ لیا۔ یو پی آر انڈیا کا یہ اجلاس بھارت میں انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لئے منعقد ہوا تھا۔ انٹرنیشنل انسانی حقوق کمشن نے ممالک کے اندر انسانی حقوق کا جائزہ لینے کے لئے یو پی آر کا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ اس اہم اجلاس سے قبل بھارت و دیگر جو ممالک ایک دوسرے کے حق میں زبردست لابنگ کرتے ہوئے نظر آئے بھارت کو ایک چیلنج کا سامنا تھا جو 70 رکنی وفد کے ہمراہ اٹارنی جنرل آف انڈیا کی قیادت میں موجود تھا۔ دوسری طرف کشمیریوں کی بات کرنے کے لئے حسب روایت کشمیر سنٹرز کے سربراہان موجود تھے، جنہوں نے بھارتی وفدسے اجلاس میں زبردست سوالات کئے اور منہ توڑ جوابات دئیے جس سے بھارتی وفد بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ کشمیر سنٹر برسلز کے چیئرمین بیرسٹر عبدالمجید ترمبو اور پروفیسر نذیر شال نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کے سفارت کاروں سے ملاقاتوں کے دوران ان تک کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کا فیکٹ شیٹ پہنچایا اور آل پارٹی گروپ آن کشمیر کے چیئرمین لارڈ نذیر احمد کا تحریری خط بھی اِن سفارت کاروں تک پہنچایا۔ اِس خط میں لارڈ نذیر احمد نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے مختلف پہلوو¿ں کی نشاندہی کی تھی ۔انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں بھارتی موقف سننے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے نقطہ نظر کو سامنے رکھ کر بھارت کے اندر انسانی حقوق کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے تجاویز پیش کیں۔ ممبر ممالک نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حراستی ہلاکتیں گمشدہ افراد، کالے قوانین جن میں آرمڈ فورسز پاور ایکٹ اور سزائے موت پر پابندی جیسے معاملات حل طلب ہیں۔کشمیر میں رائج کالے قوانین حراستی ہلاکتیں چارٹر اور دیگر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے بین الاقوامی رائے عامہ اچھی طرح واقف ہے اور توقع ہے کہ جب یو پی آر کی تجاویز مرتب ہوں گی ا±ن میں کشمیریوں کے خدشات کو پیش نظر رکھا جائے گا۔ مقبوضہ کشمیر میں جو بھی زیادتیاں روا رکھی گئی ہیں۔ ا±ن کا منبع وہ کالے قوانین ہیں جن میں بھارتی افواج کو لوگوں پر ظلم ڈھانے کی کھلی چھٹی دی گئی ہے، اس لئے ان قوانین کو کالعدم قرار دینے کے لئے مختلف ممالک کی طرف سے پیش کی جانے والی تجاویز کشمیر کے اندر انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔یکم جنوری 1949ءکی جنگ بندی کے بعد کشمیری ظلم کی جس طویل رات سے گزر کر یہاں تک پہنچے ہیں اس نے ہر ایک کشمیری کو یہ بات سمجھا دی ہے کہ آزادی خیرات میں نہیں ملتی۔ اس کے لئے جدو جہد کرنا پڑتی ہے۔ قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ لاشے اٹھانے پڑتے ہیں۔ دشمن کی قوت کو اپنے مقابلے میں ہیچ ثابت کرنا پڑتا ہے۔ تب جا کر ریاست جموں و کشمیر میں آزادی کی کرنوں کے مدہم سائے ابھرنے لگے ہیں۔ ریاست جموں و کشمیر کوئی بڑا علاقہ نہیں، گنجان آباد بھی نہیں، بظاہر آزادی کے لئے ہتھیار اٹھانے والوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں، مگر ان کے مقابل بھارت کی آٹھ لاکھ فوج ہیچ ثابت ہوئی ہے۔ جب تک کشمیر کی سر زمین پر بھارت کا ایک سپاہی بھی موجود ہے، کشمیری آزاد نہیں ہو سکتے۔ اس لیے بھارتی فوج کو ہیچ ثابت کرنا صرف ایک محاذ پر کامیابی ہے اور اس مقام پر کھڑے ہو کر ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ بھارت نے کشمیر میں بڑے مضبوط پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ ایک طاقتور ملک ہے اس کے پنجے اکھاڑنے، اس کی طاقت کا گھمنڈ توڑنے کے لئے کشمیریوں کو ابھی کئی صحرا¶ں سے گزرنا ہے۔ کشمیری عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں ایک ایٹمی طاقت کا سہارا ہے اور پاکستان کے ساتھ نے کشمیریوں کو حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کی طرح بے نام نہیں ہونے دیا۔ پاکستان نے ان کی خاطر بھارت سے دشمنی مول لی، آزاد کشمیر کو بچائے رکھا اور 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں کشمیریوں کی خاطر جسم و جاں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے ایک حصے کی قربانی بھی دی۔کشمیری جانتے ہیںکہ سفارتی محاذ پر تمام تر جدوجہد پاکستان نے کی ہے اور کر رہا ہے۔جب مقبوضہ کشمیر میں کسی مکان کو آگ لگائی جاتی ہے اس مکان کے مکین کھلے آسمان تلے بے بسی کی تصویر بنے اسے جلتا دیکھتے رہ جاتے ہیں تو اس بے بسی کا زہر ہر پاکستانی کے دل میں اترنے لگتا ہے۔ جب حراست کے دوران کسی کشمیری نوجوان کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے تو ہر کوئی اپنے لہو کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے اور جب خواتین کی بے حرمتی کی خبریں آتی ہیں تو ہر پاکستانی کا اشکبار چہرہ بھی آسمان کی طرف اٹھ جاتا ہے۔ بھارتی فوجیں آئے دن معصوم کشمیری نوجوانوں کو پکڑ کر اذیت خانوں میں پہنچا کر غیر انسانی سلوک کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ ایسے ہتھکنڈوں سے کشمیر کی تحریک کبھی کمزور نہیں ہو سکتی۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ یہاں اپنا رول نبھائیں اور اقوام عالم کے اداروں میں بھارت کو ننگا کریں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری ہندوستان کی مختلف جیلوں میں شدید بیماریوں کا شکار برسوں سے بند پڑے ہیں، جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کشمیری قوم نے آج تک ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کے لئے نہیں دی گئیں، بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس شدہ اور تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کے لئے دی گئیں۔ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ،بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس کے ساتھ برصغیر کا امن جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کو حل نہ کیا جائے تب تک برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ تمام کشمیری امید کرتے ہیں کہ نئے دن کا سورج ان کی آزادی کا پیغام بر ہوگا۔ جب تک نئے دن کا سورج اس پیغام کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا تو سندھ، دریائے جہلم اور دریائے پونچھ کے پانیوں میں کشمیریوں کالہو بدستور شامل ہوتا رہے گا۔ ہر کشمیری اپنی جگہ متحرک ہے۔ کشمیریوں کے لہو کو ارزاں سمجھنے والے ہمارے دشمن ہیں۔

مزید :

کالم -