سیاسی مسائل اور سیاسی رہنماﺅں کے بیانات کی رنگا رنگی

سیاسی مسائل اور سیاسی رہنماﺅں کے بیانات کی رنگا رنگی

  

 متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ انہوں نے پاسپورٹ کے لئے درخواست دے دی ہے اور وہ کسی بھی وقت پاکستان آ سکتے ہیں۔ پاسپورٹ کی درخواست مسترد ہوئی تو میری قانونی ٹیم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائے گی، عوام بھی احتجاج کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ انہوں نے نذیر حسین یونیورسٹی کی افتتاحی تقریب سے اپنے ٹیلی فون خطاب میں کہا کہ فوج پر کیچڑ اچھالنے والے پاکستان کے دوست نہیں۔ ایم کیو ایم دیہی و شہری تقسیم کی ذمہ دار نہیں ۔ سندھ کی بقا مل کر چلنے اور جیو اور جینے دو میں ہے۔ ادھر پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ 11مئی کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ اس دن انقلاب کا لائحہ عمل دوں گا۔ حکمران ریاست کے نمائندے نہیں، دہشت گردوں کا سیاسی چہرہ ہیں اور یہ سیاسی اقتدار کے دائمی خاتمے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر حکمرانوں کو مزید چھ ماہ مل گئے، تو ملک برباد ہو جائے گا اور سنوارے جانے کے قابل نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی معطلی کا مقدمہ 12اکتوبر1999ءسے ہونا چاہئے، وہ ویڈیو لنک سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں سے بات نہیں عوامی ٹیک اوور ہو گا۔ فوج کا مورال کم کیا جا رہا ہے، جو ایک بہت بڑی سازش ہے، جس کا سکرپٹ باہر لکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آج کے اخبارات میں صدر ممنون حسین کے لاہور چیمبر آف کامرس سے خطاب کی سرخی ہے کہ پاکستان تاریخ کے نازک دوراہے پر ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا شہباز شریف کو باہر لے جانا دوسرے صوبو ں میں احساس محرومی پیدا کرتا ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا بیان ہے کہ سسٹم کو خطرہ ہوا تو حکومت کے ساتھ ہوں گے۔ مسلم لیگ(ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ فوج پر تنقید کرنے والے وزراءکو نااہل قرار دیا جائے۔یہ سب خبریں پاکستان کے گھمبیر حالات کی عکاسی کر رہی ہیں۔ پاکستان سے مستقلاً باہر بیٹھے ہوئے لوگ پاکستان کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لے رہے ہوں اور پاکستان میں اپنی جماعتوں کے قائد بھی ہوں، تو اس پر عوامی تعجب اور شک و شبہ ایک قدرتی سی بات ہے۔ گزشتہ جون میں مسلم لیگ(ن) کے حکومت سنبھالنے تک ملک میں دہشت گردی ، معیشت کی بدحالی ، بجلی بحران اور میگا کرپشن انتہاﺅں کو چھو رہی تھی۔ نواز حکومت نے شروع ہی سے دہشت گردی کے خاتمے اور معیشت کی بحالی کے لئے مخلصانہ اور بھر پور کوششیں شروع کر دیں، جن میں اس کی کامیابی کے آثار نمایاں ہونے شروع ہو گئے ہیں۔ طالبان قیادت نے حکومت سے مذاکرات شروع کر کے اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں بند کر دی ہیں اور مذاکرات کے دوران ہر طرح کے دہشت گرد گروہوں کو دہشت گردی سے باز رکھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ کرنسی مستحکم ہورہی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگانے میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ساری دنیا کو معلوم ہے کہ مستحکم سیاسی نظام اور قومی اتحاد اور استحکام کے بغیر کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے نہ اپنی سالمیت کا تحفظ کر سکتی ہے۔ پاکستان میں بالخصوص کراچی اور بلوچستان میں جاری بدامنی کے سلسلے میں بہت سے شواہد سامنے آچکے ہیں، جن سے اس سب کچھ کے پیچھے بھارت اور دوسری دشمن طاقتوں کا ہاتھ ہونے کا علم ہوتا ہے۔ادھر افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کی واپسی اور اقتدار کی منتقلی کے حساس معاملات ہیں،جن کے خطرناک اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے ہمیں احتیاط کی ضرورت ہے۔ اس سب کچھ سے قومی مفاہمت اور اتحاد ہی کے ذریعے سے نمٹا جا سکتا ہے،لیکن الطاف حسین اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی طرف سے احتجاج اور مظاہروں کے پروگرام کسی نئی مشکل کی اطلاع دے رہے ہیں، جہاں تک الطاف حسین کو پاسپورٹ دینے کا تعلق ہے، اس سے بھی بڑھ کر انہیں برطانوی ایجنسیوں کی طرف سے رکاوٹ کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستانی پاسپورٹ کے حصول میں بھی کچھ دِقت ہوتی ہے، تو پھر عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کے ساتھ عوام کے احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ عدالت میں معاملہ جانے کے بعد احتجاج کا صاف مطلب عدالت پر دباﺅ ڈال کر انصاف کے راستے میں رکاوٹ ڈالنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جو شخص عدالت میں جانے کے علاوہ عوام کے احتجاج کی بات بھی کرتا ہے اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ اگر عدالت سے اس کے حق میں فیصلہ نہ ہوا تو پھر وہ احتجاج کرے گا ۔ اس طرح یہ بات بھی عدالت کوبالواسطہ دھمکی دینے سے کم نہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے انتخابی مہم کے دوران اپنے دباﺅ کے ذریعے حکومت سے کچھ اچھے فیصلے کرالینے کی توقع ہو گئی تھی، لیکن آئین کی دفعہ62،63پر عمل درآمد کے سلسلے میں مقتدر حلقوں کی طرف سے جس طرح قوم سے مذاق کیا گیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے یہ ایسی باتیں کہی ہیں، جو عوام کو فوری اپیل کرتی ہیں۔ عوام نہ ہی اپنی بہادر اور قربانیاں دینے والی افواج کا مورال کم کرنے کی کسی کو اجازت دے سکتے ہیں اور نہ کرپشن کے نظام کو دوام ملتا دیکھ سکتے ہیں۔ اسی لئے ایسی باتوں کی آڑ میں ڈاکڑ طاہر القادری کی طرف سے ایک بار پھر ملک میں ہنگامے اٹھانے اور مسائل سے باہر آنے کی کوشش کرنے والی قوم کو واپس مسائل کے کنوئیں میں دھکا دینے میں آسانی محسوس ہو رہی ہے، جبکہ کسی طرف سے بھی افواج پاکستان کا مورال کم کرنے کی کوئی کوشش کی گئی ہے نہ کرپشن کے نظام کو دوام بخشنے کا سوچا جا رہا ہے۔ کنیڈین شہریت لے کر ملک سے باہر رہنے والے اور ملکی سیاست سے عملاً بے تعلق ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس آخر وہ کون سی گیدڑ سنگھی ہے کہ جس کی مدد سے وہ اپنے ہنگاموں اور احتجاج سے فوج کا مورال بلند کر دیں گے یا کرپشن کا نظام ختم کر دیں گے؟اور ”پرامن طریقے “ سے ”ٹیک اوور“ کرلیں گے اگر انتخابات کے دنوں میں وہ چند ارب روپے کے اخراجات سے دیئے گئے دھرنوں سے آئین کی دفعہ 62،63 پر عمل درآمد نہیں کرا سکے، الیکشن کو شفاف اور منصفانہ نہیں بنایا جا سکا تو اب چند ارب کے اضافی اخراجات کے ساتھ وہ قوم پر اپنا دبدبہ بٹھانے اور اصلاح کی طرف گامزن قومی زندگی میںہلچل مچانے کے سوا کیا نتائج حاصل کر سکتے ہیں؟ اس وقت قوم کے سامنے معیشت کی بحالی اور امن مذاکرات اور قانون کی بحالی کے سوا اور کون سے ایسے بڑے معاملات ہیں کہ جن پر فوری اور ہنگامی حالات میں توجہ دی جانی ضروری ہے؟ الطاف حسین سے ہمدردی رکھنے والے تمام لوگوں کی عرصہ دراز سے یہ خواہش رہی ہے کہ وہ ملک میں واپس آئیں۔ یہاں اپنے لوگوں میں بیٹھیں ان سے رابطے کریں، لاقانونیت اور بھتہ خوری سے تباہ ہوجانے والے عام لوگوں کی زندگی کے اندوہناک رنج و الم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔جو اُن کی غیر حاضری میں بہت گھمبیر ہوگئے ہیں، ٹارگٹ کلرز کو لگام ڈالنے کے سلسلے میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ کراچی کو امن کا شہر بنانے کے لئے اپنا اہم ترین کردار ادا کریں، اس کے عوض کراچی اور پھر پورے پاکستان کی پسندیدہ ترین شخصیت کا درجہ حاصل کریں۔ ان کا پاکستان سے باہر بیٹھ کر پاکستانی معاملات سے متعلق بیانات جاری کرتے رہنا عام پاکستانیوں کو ایسا متاثر نہیں کرتا جیسا کہ ان کا اپنی متحرک جماعت کے ساتھ پاکستان میں رہتے ہوئے اخلاص نیت کے ساتھ قوم کی ٹھوس اور حقیقی بنیادوں پر کوئی خدمت کرنے سے ہوسکتا ہے۔ اس طرح ان کا نام پاکستان کے خیر خواہوں میں لکھا جائے گا۔ قوم ان کی ممنون رہے گی۔ اللہ کے حضور ان کی خطائیں معاف ہوں گی اور ان کا مقام بلند ہو گا۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری جو ایک عالم دین ہیں اور تبلیغ و اشاعت دین میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، انہیں پاکستان کے علاوہ پاکستان سے باہر موجود پاکستانیوں میں بھی اہمیت حاصل ہے، ان کے چاہنے والوںکی ملک میںکمی نہیں ہے۔ اگر وہ بھی پاکستان میں مستقل قیام کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اپنی ذہانت و فطانت اور اخلاص سے ملکی سیاست میں کوئی اہم کردار ادا کرتے ہیں تو انہیں قوم سر آنکھوں پر بٹھائے گی۔ انہیں پاکستان میں آکر اس سازش سے تمام ضروری ثبوتوں کے ساتھ قوم کو آگاہ کرنا چاہئے، جس کا سکرپٹ باہر لکھا گیا ہے انہیں یہ سکرپٹ لکھنے اور لکھوانے والوں کو بھی بے نقاب کرنا چاہئے اور اس تمام کرپشن سے پردہ اٹھانا چاہئے جو بقول ان کے ہو رہی ہے،اُنہیںایسے اداروں کی بھی نشاندہی کرنی چاہئے جہاں نج کاری کے ذریعے کرپشن ہورہی ہے، کیونکہ ہمارے علم کے مطابق موجودہ دور میں اب تک کوئی ادارہ نجکاری کے عمل سے نہیں گزرا، لیکن انہیں صرف مظاہروں کی سیاست تک ہی محدود نہیں رہنا چاہئے۔ ان کی حیثیت ایک فکری رہنما کی ہے۔ قوم کو ان کی فکری رہنمائی اور قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ملک کے اندر رہتے ہوئے، تمام اہم قومی مسائل پر قوم کی تربیت کر سکیں، قوم پر مسائل کا اصل حل واضح کرسکیں اور جذباتیت کے بجائے علمی اور فکری مزاج پیدا کر سکیں، تو پھر ان سے زیادہ اہم اور بڑا کام واقعی اس قوم کے لئے کوئی دوسرا نہیں کر سکے گا۔ ڈاکٹر طاہر القادری کو فہیم ، مدبر اور مستقل مزاج انسان والا کردار ادا کر کے قوم کے دل موہ لینے چاہئیں۔عمران خان ملک میں اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی جماعت کے ان دنوں کچھ اندرونی مسائل رہے ہیں۔ ان کے بیانات اکثر منطقی اور استدلالی ہوتے ہیں، لیکن ان کی طرف سے شہباز شریف کے وزیراعظم کے ساتھ بیرونی دوروں پر چلے جانے سے صوبوں میں احساس محرومی پیدا ہونے کی بات کوئی نئی نہیں۔ ان کے علاوہ بہت سے دوسرے لوگ پہلے ہی یہ بات کررہے ہیں دراصل وہ پنجابی ہیں، جس پارٹی کے وہ سربراہ ہیں اس کی حکومت کے پی کے میں ہے، وہ اپنے دوسرے صوبے سے ہونے کا احساس کچھ زیادہ ہی لئے بیٹھے ہیں،دوسرے صوبے کے کسی ایک شخص نے بھی ان سے محرومی والی کوئی بات کہہ دی تواسے قومی میڈیا کے سامنے لے آئے، ایسے خیالات کی نشاندہی خود وزیراعظم اور شہباز شریف سے بھی کی جا سکتی تھی۔

مزید :

اداریہ -