ملکی حالات جتنے دکھائی دے رہے ہیں اس سے زیادہ خراب ہیں ،عمران خان

ملکی حالات جتنے دکھائی دے رہے ہیں اس سے زیادہ خراب ہیں ،عمران خان

  

                                                         لاہور(آئی اےن پی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے تعلےم کے شعبے مےں اےمر جنسی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امن کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا‘ملکی حالات جو دکھائی دے رہے ہیں اس سے زیادہ خراب ہیں‘ ملک میں امن کے قیام کےلئے ہمیں غیروں کی جنگ سے باہر نکلنا ہوگا اور ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا ‘ہتھیار کسی شخص کے پاس نہیں صرف ریاست کے پاس ہونے چاہئیں،نا اہل لوگوں نے قومی اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ۔اتوار کے روز بیکن ہاﺅس سکول میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے حالات انتہائی گھمبیر ہیں، 80ءکی دہائی میں ہم نے دوسروں کی جنگ لڑی جسکے نتیجے میں شدت پسندی نے جنم لیا ۔ دین میں کوئی جبر نہیں دین برداشت سکھاتا ہے ،آج ہم میں برداشت ختم ہو گئی ہے ،جو قبائل انتہائی مہمان نواز تھے اور انکا علاقہ پر امن تھا آج حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے وہاں دہشتگردی ہو رہی ہے ۔ ہمیں معاشرے میں برداشت کو واپس لانا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلحہ صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے ۔ ہمیں غیروں کی جنگ سے باہر نکلنا ہوگا اور ماضی سے سیکھنا ہوگا ۔ جب تک ملک میں امن نہیں ہوگا یہ ترقی نہیں کر سکتا۔ ملک میں تعلیم کو عام کرنا ہوگا ۔ہتھیار کلچر کو فروغ دے کر قلم کلچرکو شدید نقصان پہنچایا گیا، ہتھیار کسی شخص کے پاس نہیں صرف حکومت کے پاس ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں تعلیم عام نہیں ہوگی قوم آگے نہیں بڑھ سکتی۔پاکستان میں ادارے تباہ ہوچکے ہیں اور لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ ادارے کیسے چلائے جاتے ہیں،نا اہل لوگوں نے قومی اداروں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ خیبر پختوانخواہ میں سکولوں کو اوور سیز کی تحویل میں دے رہے ہیں جس سے تعلیم کے شعبے میں ایک انقلاب آئے گا ۔ انہوں نے کہا کہ جب میں نے لاہور میں کینسر ہسپتال بنانے کا سوچا تو19ڈاکٹروں نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں جبکہ ایک ڈاکٹر نے کہا کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن مفت علاج کی سہولت نہیں دی جا سکے گی لیکن پھر اللہ نے کرم کیاہسپتال بھی بنا اور یہاں مستحق لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات بھی مل رہی ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ جب صوبائی حکومت سنبھالی تو پتہ چلا ادارے کام ہی نہیں کر رہے ۔ہمیں ادارے مضبوط بنانے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

صفحہ اول -