فوج حکومت تعلقات میں تناﺅ جلد ختم ہو جائیگا،چودھری نثار

فوج حکومت تعلقات میں تناﺅ جلد ختم ہو جائیگا،چودھری نثار

  

                                                                                  اسلام آباد (آئی این پی،آن لائن) وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اعتراف کیا ہے کہ فوج اور حکومت کے تعلقات میں تناﺅ موجود ہے ،بعض بیانات کی وجہ سے سول ملٹری تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا ، تاہم جلد اس پر قابو پا لیا جائیگا، ملک کےلئے حکومت اور فوج کے تعلقات کی مضبوطی انتہائی ضروری ہے ،طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں،30 سالوں میں پہلی مرتبہ دونوں اداروں کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ موجود ہیں، غیر عسکری قیدی فوج کے حراستی مراکز میں ہیں اور یہ قیدی فوج کی مشاورت سے رہا کئے جا رہے ہیں، غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کا سوچ بھی نہیں سکتے، طالبان سے مذاکرات میں کوئی ڈیڈ لاک نہیں،مذاکرات کو سبو تاژ کرنے والی طاقتیں متحرک ہیں ، مذاکرات کا تفصیلی دور آئندہ ہفتے ہو گا جس میں طالبان کے مزید تیرہ قیدی رہا کر دینگے، طالبان سے اپنے سول قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سبزی منڈی میں اڑھائی سو ٹرکوں سمیت دیگر گاڑیوں پر سبزیاں اور فروٹ لائے جاتے ہیں، اس منڈی کے ساتھ ہی ایک بستی آباد ہے ، جس میں بہت سارے غیر ملکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بارہ سالوں میں کسی نے اس بستی پر توجہ نہیں دی، ہم نے 8 یا 9 ماہ میں کوئی کچی بستی نہیں بسائی۔ انوکھے اور دلفریب بیانات دینے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ عدالت عالیہ کے حکم پر پولیس اور سی ڈی اے بستی خالی کرانے کے لئے گئی تو وہاں پر سیاسی جلسہ کرا دیا گیا۔ تمام کچی بستیوں کو منتقل ہونا چاہیے، ہم تمام کچی بستیوں میں رہنے والوں کی رجسٹریشن کر رہے ہیں اور نادرا کے ذریعے ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے۔ جن کے دور میں یہ بیماری پھیلائی گئی ان کی جانب سے ایسے بیانات آنے سے تکلیف ہوتی ہے۔ وزیر داخلہ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ ہم کونسا طریقہ اختیار کریں جس سے گاڑیوں کی چیکنگ ہو، اگر ہر بس اور ٹرک کو روک کر چیک کیا جائے تو روزمرہ کے امور متاثر ہو جائیں گے، گزشتہ دور میں ایک ارب روپے کے سکینر منگوائے گئے جن میں سے دو پاکستان میں آئے اور اس دور کے پولیس کی رپورٹ ہے کہ وہ ناکارہ ہیں، پیپلز پارٹی کے دو اراکین میڈیا کے ہمراہ ان کی چیکنگ کر لیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ امریکہ میں بارہ بچوں کو مار دیا جاتا ہے تو کوئی نہیں کہتا کہ امریکہ غیر محفوظ ہے، ایک واقعہ کے بعد طرح طرح کے بیانات آ جاتے ہیں کہ اسلام آباد غیر محفوظ ہو گیا اور ملک غیر محفوظ ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دشمن سامنے نہیں ہے وہ چھپ کر وار کرتا ہے، کچہری میں دیوار بنانے کی کوشش تھی پھر گرا دی گئی،پچھلی حکومت سے پوچھ گچھ کریں کہ انہوں نے اپنے دور میں کچہری کیوں نہیں کہ معاملات میں بہتری آئے گی،یہ مشکل ترین مرحلہ ہے، شاپنگ پلازوں اور عوامی جگہوں پر حملے کرنا انتہائی بزدلانہ کارروائی ہے، عوامی مقدمات کا تحفظ مشکل کام ہے، کیا شاپنگ پلازوں کو بند کر دیں مگر ہم اپنی محنت، ایمان اور سچائی سے ان کو روکیں گے، اسلام آباد پولیس نے بڑے بڑے گینگز بے نقاب کئے اس پر کسی نے شاباش نہیں دی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ رواں ماہ پنجاب سے سپیشل ایلیٹ فورسز منگوائی ہیں، رینجرز کو کارروائیاں سونپ رہے ہیں، نئے آئی جی اسلام آباد اور ایس ایس پی آپریشنز رواں ہفتے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے، جدید گاڑیاں منگوائی ہیں جن کے آنے میں تین ماہ لگتے ہیں ہم نے 20 دنوں میں ان کا بندوبست کر لیا۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ دنیا میں واقعہ ہوتا ہے تو قوم اکٹھی ہو جاتی ہے، وہ یہ پیغام نہیں دیتے کہ ہم غیر محفوظ ہو گئے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوائنٹ سکورنگ کرنے والوں کو زیادہ وقت نہ دیں، ایک دھماکہ صبح ہوتا ہے تو ایک تماشا شام آٹھ سے دس بجے تک تمام نجی چینلز پر لگا دیا جاتا ہے، مخصوص لوگوں کی وجہ سے رات آٹھ سے گیارہ بجے تک یہ پیغام جاتا ہے کہ ہم غیر محفوظ ہیں، امریکہ میں نیول بیس پر حملہ ہوتا ہے تو وہاں کا میڈیا اتحاد و یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں قوم کو متحرک کرنا ہو گا، فوج، عدلیہ، پارلیمنٹ، عوام اور میڈیا کو ایک صفحے پر آنا ہو گا۔ مذاکراتی عمل کے حوالے سے طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، مذاکراتی عمل میں نہ تو کوئی ڈیڈ لاک ہے اور نہ یہ تعطل کا شکار ہے، گزشتہ جمعرات کو دونوں کمیٹیوں کی ملاقات میں یہ طے ہو چکا تھا کہ اگلی ملاقات رواں ہفتے میں رکھی جائے گی۔ حکومتی کمیٹی کے اراکین ملک میں موجود نہیں ہیں۔فوج اور حکومت مل کر مذاکراتی عمل کو آگے بڑھا رہے ہیں30 سالوں میں پہلی بار حکومت اور فوج کے درمیان بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہیں، حکومت نے جن طالبان قیدیوں کی رہائی کی بات کی ہے وہ فوج کے حراستی مراکز میں تھے اور انہیں فوج کی مکمل مشاورت کے بعد رہا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کی جانب سے نہ تو کوئی عسکری قیدیوں کا مطالبہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی ایسی تجاویز زیر غور ہے ابھی تو مذاکراتی عمل کی مکمل ابتداءبھی نہیں ہوئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے پروفیسر اجمل، تاثیر اور گیلانی سمیت کچھ اور لوگوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے، ہمارا موقف واضح ہے کہ غیر عسکری قیدیوں کی رہائی جلد ممکن ہو ، ہم عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ ہمارا ایجنڈا امن ، آئین و قانون ہے، تنقید کے تیر چلانے والے دیکھ لیں کہ امن کے لئے کیا پیش رفت ہوئی ہے، گزشتہ برسوں کا ریکارڈ دیکھ لیں اب ہفتے گزر جاتے ہیں دھماکے نہیں ہوتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سارے گروپس اور طاقتیں مذاکرات کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں،شمالی وزیرستان کو دو ہفتوں میں کلیئر کروایا جا سکتا ہے مگر پھر خود کش بمباروں کو کون روکے گا، ہم داخلی و سلامتی پالیسی لے کر آئے ہیں ، سیف سٹی جو گزشتہ چھ سالوں سے تعطل کا شکار تھا ایک سال میں مکمل کریں گے ، جدید ترین ٹیکنالوجی اپناتے ہوئے 2400 کیمرے اور بہترین سینٹر کمانڈ سسٹم لگائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ قومی سلامتی پر سیاست نہ کی جائے، شدید اختلاف رکھنے کے باوجود تحریک انصاف ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہی ہے ،باقی سیاسی جماعتوں کو بھی سوچنا چاہیے۔ قائمہ کمیٹی میں دی جانے والی بریفنگ کا غلط مطلب نکالا گیا، گزشتہ برسوں کی نسبت اسلام آباد زیادہ محفوظ ہے۔

مزید :

صفحہ اول -