سپیکر کی رولنگ صرف اسمبلی کے اندر چیلنج ہو سکتی ہے کسی عدالت میں نہیں ،ایاز صادق

سپیکر کی رولنگ صرف اسمبلی کے اندر چیلنج ہو سکتی ہے کسی عدالت میں نہیں ،ایاز ...

  

                           سلام آباد(آئی این پی) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ سپیکر کی رولنگ صرف اسمبلی کے اند چیلنج ہوسکتی ہے‘ اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا‘ 2008ءسے قبل پرائیویٹ ممبر بل کا تصور نہیں ہوتا ، گذشتہ حکومت نے بڑا دل دکھایا‘موجودہ دور میں بھی تمام پرائیویٹ ممبر بلز متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوائے ہیں‘ ملک میں پہلی مرتبہ ایک منتخب حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو اقتدار منتقل کیا‘ وقت آگیا ہے کہ وفاق اور صوبے ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہوں‘ قومی اسمبلی میں آئندہ تمام تقرریاں فیڈرل پبلک سروسز کمیشن کے ذریعے کریں گے‘ قومی اسمبلی کے نئے ایئرکنڈیشنڈ سسٹم کیلئے 50 کروڑ ،لفٹ سسٹم کیلئے 30 کروڑ کے منصوبے بنائے گئے ، ہم نے صرف چند لاکھ روپے خرچ کرکے انہیں ٹھیک کرنے کا پروگرام بنایا ہے،اپنا اضافی پروٹوکول ختم کردیا ، قومی اسمبلی کی قانون ساز کونسل اور قانون ساز ڈرافٹنگ سیل بنانے کا فیصلہ کیا ہے‘ قومی اسمبلی کے دروازے تمام یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباءو طالبات کیلئے کھول دئیے ہیں۔ وہ پارلیمنٹ ہاﺅس میں اتوار کی شام 17ویں سپیکرز کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ کانفرنس میں ڈپٹی چیئر مین سینیٹ ، سندھ ، بلوچستان ، پنجاب ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اسمبلی کے سپیکر ڈپٹی سپیکرز نے شرکت کی جبکہ خیبرپختونخوا کے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت اگیا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھائیں۔ میں نے 2002ءمیں قومی اسمبلی میں ایک دوسرے کیخلاف جو بات دیکھی تھیں وہ بہت خوفناک تھیں لیکن آج ممبران ایک دوسرے کا نہ صرف احترام کرتے ہیں بلکہ آج وفاق اور صوبوں کے درمیان وفاق کی اہمیت بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ آج پاکستان میں مکمل طور پر جمہوریت ہے جبکہ تمام ادارے آئین کے مطابق کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بحیثیت سپیکر اپوزیشن کو ایوان میں حکومتی جماعتوں سے دو گنا وقت دیا۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کی رولنگ صرف قومی اسمبلی میں ہی چیلنج ہوسکتی ہے۔ 2008ءسے پہلے قومی اسمبلی میں پرائیویٹ ممبر بل نہیں ہوتا تھا مگر گذشتہ حکومت نے بڑا دل دکھایا اور پرائیویٹ ممبر بلز کی حوصلہ افزائی کی۔ موجودہ دورمیں بھی کسی پرائیویٹ ممبر بل کی کوئی مخالفت نہیں کی بلکہ متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کو بھجوایا۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے قانون ساز کونسل بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ قانون ساز ڈرافٹنگ سیل بنایا جائے۔ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کے کان اور آنکھ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ قائمہ کمیٹیوں نے ڈونرز کے ذریعے عارضی کنسلٹنٹ بھی ہائیر کرنے شروع کئے ہیں مگر صرف پاکستانی کنسلٹنٹ ہی رکھیں گے۔ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میلینیئم ڈویلپمنٹ گول کا شعبہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے اس حوالے سے ہم نے ایک ٹاسک فورس بنائی جبکہ صوبوں نے بھی ٹ¸اسک فورسز بنادی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی کا سٹریٹجک فریم ورک بنایا ہے۔ ہم قابل لوگوں کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تمام لوگ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے رکھیں گے۔ قومی اسمبلی کیلئے ایئرکنڈیشنڈ سسٹم تبدیل کرنے کیلئے 50 کروڑ روپے کا پی سی ون اور لفٹ سسٹم تبدیل کرنے کیلئے 30 کروڑ کا پی سی ون بنایا گیا ہے۔ ایئر کنڈیشنڈ سسٹم 35 استعداد پر چل رہا ہے۔ اس پر بحث و مباحثے کے بعد طے ہواکہ ایئرکنڈیشنڈ سسٹم پر 30 کروڑ اور لفٹ سسٹم پر 9 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔

مزید :

صفحہ اول -