فہمیدہ مرزا کی رولنگ پرسپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے خلاف تھا،یوسف گیلانی

فہمیدہ مرزا کی رولنگ پرسپریم کورٹ کا فیصلہ پارلیمنٹ کے خلاف تھا،یوسف گیلانی

  

 اسلام آباد (آئی این پی) سابق وزیر اعظم سابق سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ سپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی رولنگ کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ درحقیقت پوری پارلیمنٹ کے خلاف تھا، بطور سپیکر کئی مشکل مرحلے آئے جبکہ وزیر اعظم بے نظیربھٹو کی مخالفت کے باوجود شیخ رشید احمد، طاہر رشید اور حاجی محمد بوٹا کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے تھے۔ وہ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر اچھا سننے والا ہوتا ہے میں جب سپیکر بنا تو سب سے پہلی رولنگ اکبربگٹی کے بلوچی میں تقریر کرنے پر دی کہ کوئی بھی ممبر قومی اسمبلی پاکستان کی کسی بھی زبان میں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بات کر سکتا ہے، مگر چیمبر میں پہنچتے ہی ایک گرجداری آواز آئی کہ آپ نے رولنگ کیوں دی۔ اس کے علاوہ شیخ رشید، طاہر رشید، حاجی محمد بوٹا اور چوہدری شجاعت حسین کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ کافی اہم تھا جو کہ وفاقی وزیر داخلہ جنرل(ر) نصیر اللہ بابر اور وزیر قانون اقبال حیدر سے مشاورت کے بعد پروڈکشن نکالے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بطور سپیکر نہ تو وزیر اعظم ہاﺅس جاتا جبکہ نہ ہی پارٹی اجلاسوں میں شرکت کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے وطن واپسی کے بعد مجھ سے وضاحت طلب کی اور پروڈکشن آرڈرز پر عملدر آمد سے انکار کر دیا جس پر میں نے استعفے کی پیشکش کر دی۔ مگر جب اسمبلیاں ٹوٹ گئیں تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے بعد میں کہا کہ یوسف آپ درست تھے۔

مزید :

صفحہ آخر -