بھارتی مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتا ہوں ،نریندر مودی

بھارتی مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر دیکھنا چاہتا ...

  

                              نئی دلی(آئی اےن پی )بھارتےہ جنتا پارٹی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر ہو، وہ مسلمانوں کی ترقی کے خواہش مند ہیں۔ بھارتی مےڈےا کے مطابق اپنے ایک انٹرویو میں بی جے پی کے رہنما اور وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار نریندر مودی نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ وہ ان کی مذہبی روایات کا احترام کرتے ہیں۔ مودی نے کہا کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور اپنی روایات کو بھی پیش نظر رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل انہیں ایک مسلم رہنما کی جانب سے ٹوپی کا تحفہ دیا گیا تھا تاہم انہوں نے اسے پہننے سے انکار کردیا تھا کیونکہ وہ لوگوں کو مذہب کے حوالے سے دھوکا نہیں دینا چاہتے تھے۔ اپنے انٹرویو میں مودی کا کہنا تھا کہ مسلمان اس وقت معاشی طور پر کمزور، تعلیم میں پیچھے اور سرکاری نوکریوں میں کم تعداد میں ہیں اور وہ مسلمانوں کو ترقی کرتے دیکھنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان بھارتی معاشی ترقی کے ثمرات سے فائدہ اٹھائیں۔ نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ چاھتے ہیں مسلمان بچوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر ہو اور وہ ہر شعبہ زندگی میں ترقی کریں۔ اس قبل نرےندر موودی کا کہنا تھا کہ بھارت کو پیٹرول اور گیس کی پیداوارکے معاملات میں پاکستان سے سبق سیکھنا چاہیے۔ نریندر مودی کا مزید کہنا تھا کہ اگرسرحد کے اس پار ترقی ہوسکتی ہے تو بھارت بھی وہی دھرتی ہے اس میں کیوں نہیں ہوسکتی۔

مزید :

صفحہ اول -