منموہن سیاچن پر ڈیل کیلئے تیار تھے وزیر دفاع اور آرمی چیف رکاوٹ بن گئے

منموہن سیاچن پر ڈیل کیلئے تیار تھے وزیر دفاع اور آرمی چیف رکاوٹ بن گئے ...

  

                             منموہن نئی دہلی(آئی این پی)بھارتی وزیر اعظم کے سابق میڈیا ایڈوائزر نے انکشاف کیا ہے کہ منموہن سنگھ سیاچن پر ڈیل کے لیے تیار تھے تاہم اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی اور آرمی چیف جے جے سنگھ اس کی راہ میں رکاوٹ تھے، ۔اتوار کو بھارتی میڈیا کے مطابق من موہن سنگھ کے سابق میڈیا ایڈوائزرسنجے بارو نے اپنی کتاب”ایکسیڈ نٹل پرائم منسٹر“ میں دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم 2005ءمیں سیاچن کے دورے کے بعد اسے 'کوہ امن' بنانے پر تیار تھے تاہم بھارتی اسٹبلشمنٹ اس پر تیار نہیں تھی۔ کتاب کے مطابق اس وقت کے وزیر دفاع اے کے انٹونی، پرناب مکھرجی اور آرمی چیف جے جے سنگھ نے ان کی ان کوششوں کو پروان چڑھنے نہیں دیا۔ سنجے بارو نے کہا کہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ سیاچن پر انٹونی کی مخالف میرٹ پر تھی یا وہ محض نہرواورگاندھی خاندانوں کی طے کردہ پالیسیوں پر عمل پیرا تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے۔ سونیا گاندھی راہول کے وزیر اعظم بننے کی منتظر ہیں تاکہ وہ معاملات میں بہتری اور مسائل کے حل کا سارا کریڈٹ خود لے سکیں۔ سنجے بارو نے کتاب میں کئی انکشافات بھی کئے ہیں جن کے مطابق کابینہ کی تمام اہم فائلیں سونیا گاندھی کی نظر سے گزرتی تھیں اور وہی ان پر فیصلہ کرتی ہیں۔ وزیر اعظم من موہن سنگھ اس بات کا فیصلہ بھی نہیں کرسکتے تھے کہ ان کی کابینہ میں کون شامل ہوگا؟ کتاب کے مطابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے جان بوجھ کر اپنے ساتھیوں کی کرپشن پر آنکھیں بند رکھیں؟ دوسری جانب بی جے پی کی ترجمان نرملا سیتارمن نے کہا کہ قوم کو ان سوالات کے جوابات جاننے کا حق ہے کیونکہ نوکریوں کی فراہمی میں ناکامی، مہنگائی میں اضافے اور ابتر معاشی صورت حال کی ذمہ داری کانگریس پر عائد ہوتی ہے۔سنجے بارو کی کتاب نے بھارتی سیاست میں ہلچل مچادی ہے اور حکمران جماعت کانگریس کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے

سنجے بارو

مزید :

صفحہ اول -