حکومت کو شکست: سینیٹ میں وزیراعظم کی ’لازمی حاضری ‘کا بل منظور

حکومت کو شکست: سینیٹ میں وزیراعظم کی ’لازمی حاضری ‘کا بل منظور
 حکومت کو شکست: سینیٹ میں وزیراعظم کی ’لازمی حاضری ‘کا بل منظور

  

 اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت کو شکست دیتے ہوئے اپوزیشن نے سینیٹ میں وزیراعظم اور وزراءکی حاضری لازم قراردینے کا بل منظور کرالیا ہے جس کے بعد اجلاس کل شام چار بجے تک ملتوی کردیا گیا ہے ۔ یہ بل اپوزین جماعت ایم کیو ایم نے پیش کیا ہے جاس کے تحت کہ رول 61میں ترمیم کرکے وزراء کی حاضری لازم قراردی گئی ہے اور جبکہ ہفتے میں ایک بار وزیراعظم بھی سینیٹ کے اجلاس میں شرکت کے پابند ہوں گے۔ اجلاس کے دوران ایک بار اپوزیشن نے واک آﺅتٹ کیا جبکہ دوسری بار حکومت اور اپوزیشن میں تند جملوں کا تبادلہ ہوا لیکن کامیابی اپوزیشن کو حاصل ہوئی ۔ڈپٹی چیئر میں کی صدارت میں اجلاس کے دوران اپوزیشن نے یہ ترمیمی بل پیش کرنے کی اجازت دینے ، حکومتی مخالفت پر احتجاج کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن نے اجلاس کی کارروائی سے واک آﺅٹ کردیا تھا ۔ڈپٹی چیئر مین نے طاہر مشہدی سے دریافت کیا تھاکہ انہیں وزیراعظم سے کیا کام ہے ؟تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم پورے ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے ، سینیٹ کی کارروائی چلانے میں جانداری کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ، وزراءجواب دینے سے کتراتے ہیں ، اس طرح کارروائی نہیں چلائی جاتی ۔ ایم کیو ایم کے اراکین کا کہنا تھا کہ اگر برطانوی وزیراعظم سینیٹ کے اجلاس میں شریک ہوسکتے ہیں تو پاکستان کے وزیراعظم سینیٹ کے اجلاس میں شریک کیوں نہیں ہوسکتے۔ پیپلز پارٹی کے رضا ربانی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سینیٹ کو جوابدہ ہیں ۔اس ایوان میں وزیراعظم کا نہ آنا ایوان کی توہین ہے۔ احتجاج ے بعدچیئر میں نیئر بخاری کی صدارت میں اجلاس کے دوران بحث کے دوران مسلم لیگ ن کے ظفر علی شاہ اور ایم کیو ایم کے طاہر مشہدی میں تند جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔ ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کئی سالوں سے ملک سے باہر لیکن پارٹی پھر بھی چل رہی ، وزیراعظم اگر اجلاس میں نہ بھی آئیں تو سسٹم تب بھی چلتا رہے گا ۔ حکومت کی مخالفت کے باوجود یہ بل منظور کرلیا گیا ہے ۔

مزید :

قومی -Headlines -Breaking News -