مارکیٹوں میں گھپ اندھیرے اور ایف بی آر کا ٹارگٹ

مارکیٹوں میں گھپ اندھیرے اور ایف بی آر کا ٹارگٹ
مارکیٹوں میں گھپ اندھیرے اور ایف بی آر کا ٹارگٹ

  


وزیراعظم محمد نوازشریف کی مقبولیت سے ان کے دشمن ہمیشہ خائف رہتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ دوست نما دشمنوں کے ذریعہ سے اپنا کوئی ایسا مشورہ دیں جس کی منظوری سے پاکستان مسلم لیگ(ن) کی مقبولیت کو دھچکہ پہنچے اور ملک کی مستحکم ہوتی ہوئی معیشت بھی متاثر ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال چند روز پہلے توانائی کے سلسلے ہونے والی میٹنگ میں ایک اہم فیصلہ ہے کہ مارکیٹوں اور بازاروں میں دکانوں پر رات آٹھ بجے کے بعد تالے ڈال دیئے جائیں۔ اس طرح کسی نے حکومت کو تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ رات آٹھ بجے دکانیں اور شاپنگ سینٹرز بند ہونے سے پاکستان سے لوڈشیڈنگ کا بحران ختم ہو جائے گا۔حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت اور مسلم لیگ (ن) میں سے کسی نے جرات نہیں کی کہ میاں صاحب اس نوعیت کا فیصلہ کرنے سے پہلے کم از کم سٹیک ہولڈرز سے مشاورت تو کرلیں۔ اگر وزیراعظم بزنس کمیونٹی کے نمائندوں سے مشاورت کرتے تو ایک ووٹ بھی رات آٹھ بجے دکانیں اور شاپنگ سینٹرز بند کرنے کے حق میں نہ آتا، کیوں نہ آتا؟ اس کا تجزیہ ضروری ہے۔

سب سے اہم بات ہے کہ پاکستان کی معیشت زوال کے بعد استحکام کی طرف آ رہی ہے۔ ماضی میں پاکستان کی معیشت کی منفی ریٹنگ کرنے والے اداروں نے مثبت ریٹنگ کرکے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کو عملی طور پر سراہا ہے۔ ورلڈ بینک سمیت تمام عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی مستحکم ہوتی ہوئی معیشت کی تعریف کی ہے اور عالمی اداروں کا اعتماد پاکستان پر بحال ہو گیا ہے۔ وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ پہلے دن سے ہی توانائی بحران کا خاتمہ کرنے کے لئے دن رات محنت کررہے ہیں اور اب جو منصوبے پائپ لائن میں ہیں، ان کی تکمیل کا یقین ہونے کے بعد پاکستانی قوم کو بار بار خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ 2017ء میں دس ہزار میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے گی، جس سے کم از کم بجلی کاموجودہ شارٹ فال تو ختم ہو جائے گا۔ پوری قوم اور خصوصاً صنعت و تجارت سے وابستہ شخصیات معاشی استحکام کے سلسلہ میں شریف برادران سے مکمل تعاون کررہی ہیں، انہیں معلوم ہے کہ موجودہ حکومت کے توانائی کے منصوبے صرف کاغذوں پر نہیں ہیں، بلکہ حقیقت میں ان منصوبوں کی تکمیل کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں دوسرے ممالک کے ساتھ پاکستان کا عظیم دوست چین پاکستان کی زبردست مدد کر رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم فرانس وغیرہ کے ایک ہفتے کے دورے پر گئے ہیں اور واپسی پر خوشخبری سنائیں گے کہ فرانس نے دس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والا ایٹمی ریکٹر بھارت میں لگانے کے لئے تمام لوازمات مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔بھارت اپنی حکمت عملی سے اپنی صنعت و تجارت کا پہیہ رواں رکھنے میں کامیاب ہے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری کرکے توانائی کے متبادل نظام قائم کئے ہیں، لیکن اب ان کی قربانیوں کو نظر انداز کرکے خوشخبری سنائی گئی ہے کہ دکانیں اور شاپنگ سنٹرز رات آٹھ بجے بند کر دیئے جائیں۔

اگر پاکستان کے کمرشل بازاروں اور شاپنگ سینٹرز کا جائزہ لیا جائے تو حیرت ہوتی ہے کہ بڑے شہروں میں تو رات آٹھ بجے گھر سے شاپنگ کے لئے نکلنے کا رجحان ہے۔ اس بہانے فیملیز باہر کھانا بھی کھاتی ہیں، پورے دن کا بلکہ پورے ہفتے کا ڈپریشن بھی ختم کرتی ہیں اور کوئی تفریح نہ ہونے کی وجہ سے اس بہانے آؤٹننگ جیسی تفریح انہیں ایک نئی تازگی عطا کرتی ہے۔ بڑے شہروں میں روزگار حاصل کرنے کے لئے دور دراز سے لوگ آتے ہیں اور اگر جائزہ لیا جائے تو بے روزگاروں کی اکثریت کو ایسے روزگار ملتے ہیں جن کا تعلق رات آٹھ بجے کے بعد سے ہے۔ گویا رات آٹھ بجے دکانیں بند کرکے حکومت پہلے سے موجود بے روزگاری میں مزید اضافہ کرنا چاہتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سے بجلی کی کوئی خاص بچث بھی نہیں ہونی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو حکومت چلانے کے لئے پیسہ مختلف ذرائع سے اکٹھا کرکے دیتا ہے، جب رات آٹھ بجے کے بعد معاشی سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ جائیں گی تو اس صورت میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اپنا ٹارگٹ ( جو پہلے ہی پورا ہونا مشکل ہے) کس طرح سے پورا کرے گا۔ کیا بجٹ بناتے ہوئے حکومت نے طے کیا تھا کہ رات آٹھ بجے مارکیٹوں کو بند کرا دیا جائے گا اور اسی طرح سے ریونیو کی مد میں پچیس فیصد کم کا ٹارگٹ رکھتی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹریڈرز ونگ کے میاں محمد علی نے بہت اچھا بیان جاری کیا ہے کہ وہ تاجروں سے مشاورت کے بعد رات آٹھ بجے مارکیٹوں کی بندش کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ اب صاف ظاہر ہے کہ بزنس کمیونٹی پہلے ہی بہت زیادہ مالی خسارہ برداشت کر چکی ہے۔وہ رات آٹھ بجے دکانیں بند کرکے مزید خسارہ کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ اس لئے وزیراعظم کو چاہیے کہ رات آٹھ بجے شاپنگ سینٹرز اور دکانیں بند کرانے کا فیصلہ واپس لیں، کیونکہ عملی طور پر یہ ممکن نہیں ہے۔ بجلی کا بحران اب اتنا زیادہ نہیں رہا ہے۔ حکومت خود اپنے وزیر بجلی و پانی عابد شیر علی کی زبان سے اعلان کر چکی ہے کہ مئی کے مہینے میں مزید بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوجائے گی، جس سے لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں مزید کمی آ جائے گی۔وزیر موصوف نے کسی جگہ یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ رات آٹھ بجے مارکیٹیں بند کرنے کی صورت میں بجلی کی صورت حال بہتر ہو جائے گی۔

وزیراعظم محمد نوازشریف کو چاہیے کہ اپنی مقبولیت کو داؤ پر نہ لگائیں اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے کے بعد کوئی حتمی فیصلہ کریں۔ ویسے رات آٹھ بجے بازار اور شاپنگ سینٹرز بند کرنے کا فیصلہ کسی بھی حلقے سے دادِ تحسین حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ حکومت کو تو چاہیے کہ مشرقی بھارت، ایران اور ازبکستان وغیرہ سے جلد از جلد بجلی کی خریداری کا معاہدہ مکمل کرکے ان کی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کرے۔ تمام بجلی گھر چالو کئے جائیں۔ کے الیکٹرک نے بجلی بنانے کے دو تین یونٹ صرف اس بہانے بند کر دیئے ہیں کہ ان میں بننے والی بجلی کی لاگت زیادہ آ رہی تھی، امید ہے حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے گی اور بے روزگاری نہیں پھیلائے گی۔

مزید : کالم


loading...