محمد قمرالزمان شہیدؒ ! (1952-2015ء)

محمد قمرالزمان شہیدؒ ! (1952-2015ء)

11اور 12اپریل 2015ء کی درمیانی رات بنگلہ دیش کے مقامی وقت کے مطابق 10 بجے عظیم مجاہد، مردِ درویش، عالم اور سیاسی راہنما جناب محمدقمرالزمان کو ڈھاکہ کی سنٹرل جیل میں تختۂ دار پر لٹکا دیا گیا۔ ابھی آسمان کی بلندیوں پر قمرِفلک طلوع نہیں ہوا تھا کہ اس ماہتاب ارضی کو موت کی وادی میں دھکیل دیا گیا۔ وہ اپنے ماں باپ اور خاندان کا ایک روشن ستارہ تھا۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے ہر لیڈر اور کارکن کے نزدیک ایک چمکتا ہوا چاند تھا اور سچی بات یہ ہے کہ اس کی روشنی بنگلہ دیش تک محدود نہیں تھی، وہ پوری دنیا میں اپنی کرنوں سے نور بکھیرتا تھا۔ اللہ اس کی قبر کومنور فرمائے اور اسے جنت کی وسعتوں میں بدل دے۔ محمد قمرالزمان شہید پر بھی اسی طرح لغو اور جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے، جس طرح جماعت کے تمام راہنماؤں پر لگائے گئے۔ عبدالقادؒ ر مُلّا 12دسمبر2013ء کو اس منزل سے گزر چکے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے مولانا اے کے ایم یوسفؒ (9فروری 2014ء) اور پروفیسر غلام اعظمؒ (23اکتوبر 2014ء) اپنی جان کا نذرانہ راہِ حق میں پیش کرچکے۔ اب یہ سعادت اس عظیم فرزنداسلام کے حصے میں آئی۔ اللہ اس کی شہادت کو قبول فرمائے اور ظلم کی دیوی کو اپنی گرفت میں لے لے۔ وہ قادر مطلق دیرگیر ہے، مگر ظالم اس کی پکڑ سے بھاگ نہیں سکتے۔

راقم کو محمدقمرالزمان سے ذاتی تعلقات اور تعارف کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ انتہائی شائستہ، نرم گو اور مضبوط ارادے اور اعصاب کا مالک تھا۔ جسم مضبوط اور طاقت سے بھرپور ، سوچ وفکر پاکیزہ اور قلب ونظرپاکیزہ تر! شہید کی پیدایش ایک دیہاتی علاقے مودی پارہ میں 4جولائی1952ء کو ہوئی۔ اس زمانے میں یہ گاؤں ضلع میمن سنگھ میں آتا تھا۔ اب نئی تقسیم کے بعد یہ ضلع شیرپور میں واقع ہے۔ شہید کا تعلق علاقے کے معروف ومعزز مسلم گھرانے سے تھا۔ محمد قمرالزمان نے قریبی گاؤں کامری کالی تولہ کے گورنمنٹ پرائمری سکول سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے 1976ء میں صحافت وابلاغ عامہ میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ اپنی تعلیم کی ابتدا سے لے کر آخری مدارج تک قمرالزمان نہ صرف سکالرشب ہولڈر رہا بلکہ اس نے کئی تمغے بھی جیتے۔ دورِ طالب علمی میں قمرالزمان جماعت اسلامی کے ایک راہنما قاضی فضل الرحمن مرحوم کے ذریعے اسلامی جمعیت طلبہ (نیا نام اسلام چھاترو شبر) سے متعارف ہوئے۔ قاضی فضل الرحمن جماعت کے نمایاں بزرگان میں سے تھے۔ بعد میں ان کی بیٹی رشیدہ خاتون جماعت کی طرف سے پارلیمنٹ کی ممبر بھی رہیں۔

قاضی فضل الرحمن صاحب کی تربیت کے نتیجے میں قمرالزمان نے اوائل عمری ہی میں اپنے پورے خاندان کو بھی تحریک اسلامی سے متعارف وروشناس کرادیا۔ اپنے دورِ طالب علمی میں قمرالزمان 1974ء سے 1977ء تک ڈھاکہ کی مقامی جمعیت کے ناظم اور مرکزی شوریٰ کے رکن رہے۔ 1977ء سے 1978ء تک وہ جمعیت کے مرکزی سیکرٹری جنرل رہے، جبکہ جلد ہی انھیں قائم مقام ناظم اعلیٰ کی ذمہ داریاں ادا کرنا پڑیں۔ وہ دومرتبہ 1978ء اور 1979ء میں جمعیت کے ناظم اعلیٰ منتخب ہوئے۔ اپنی نظامت اعلیٰ کے دور میں قمرالزمان نے ملک بھر میں جمعیت کو منظم اور فعال بنایا۔ اس دور میں انھوں نے ایک بہت عظیم یوتھ کیمپ کا انعقاد کیا، جس میں دنیا بھر سے طلبہ تنظیموں اور انجمن ہائے نوجوانان کے نمایندوں کو دعوت دی گئی۔ بنگلہ دیش کی تاریخ میں وہ یوتھ کنونشن آج تک یادگار ہے۔ 

قمرالزمان نے تعلیم سے فراغت کے بعد شعبۂ صحافت میں قدم رکھا۔ مختلف اخبارات میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد قمرالزمان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ 1980ء میں بنگلہ زبان کے معروف ادبی رسالے ’’ڈھاکہ ڈائجسٹ‘‘ کے مدیر مقرر ہوئے۔ یہ مجلہ پہلے بھی بہت معروف تھا، مگر ان کی ادارت میں بہت زیادہ مقبول ہوا۔ 1983ء میں بنگلہ زبان میں عالمی شہرت کے حامل، ہفت روزہ ’’سونار بنگلہ‘‘ کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔ بطور صحافی ان کے بنگلہ دیش ہی سے نہیں، بنگلہ دیش کے باہر بھی عالمی شہرت کی حامل شخصیات سے بہت قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ ان کو دی جانے والی جعلی ٹربیونل سزا پر پوری دنیا میں عالم اسلام ہی نہیں، مشرق ومغرب کے بے شمار اداروں اور نامور شخصیات نے بنگلہ دیش حکومت اور نام نہاد ٹربیونل کی شدید ترین مذمت اور اس کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ یہ اس شخص کی ذاتی شہرت، اللہ کے ہاں مقبولیت اور وسیع تعلقات کا ثبوت ہے۔ جو لوگ شہید کو ذاتی طور پر جانتے ہیں، انھیں اعتراف ہے کہ اس کی شخصیت میں بے پناہ کشش تھی۔

حسینہ واجد جب دوسری بار برسراقتدار آئی تو بھارت کے ایما پر اس نے اپنے مخالفین بالخصوص جماعت اسلامی کو انتقام کا نشانہ بنانے کے لئے 1971ء کی پٹاری کھولی۔ جعلی ٹربیونل اور جھوٹے الزامات کا طوفان بدتمیزی برپا کردیا گیا۔ 29جولائی2010ء کو محمدقمرالزمان کو انھی جھوٹے الزامات کے تحت گرفتار کرکے ڈھاکہ جیل میں بند کردیا گیا۔ شروع میں ان پر الزام یہ تھا کہ ان کی تحریروں میں مذہبی منافرت پائی جاتی ہے۔ اسی دوران جماعت کے دیگر قائدین کے ساتھ ان کو بھی جھوٹے الزامات کے تحت جنگی جرائم کا مجرم قرار دیا گیا اور ان پر 2اکتوبر2010ء کو فرد جرم عائد کردی گئی۔ محمدقمرالزمان ان جھوٹے الزامات سے ایک لمحے کے لئے بھی گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوئے۔ اللہ نے قمرالزمان کو بڑا دل گردہ دیا تھا۔ انھیں پھانسی کی سزا سنائی گئی تو انھوں نے ٹربیونل کے سامنے مسکراتے ہوئے یہ کہا: ’’جھوٹ کی بنیاد پر دی جانے والی یہ سزا کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتی۔ نہ ہی یہ سزائیں ہمارا سر باطل کے سامنے جھکا سکتی ہیں۔‘‘ اپنے وکیلوں کے مشورے سے قمرالزمان نے سپریم کورٹ میں نظرثانی کے لئے اپیل کی۔ انھیں معلوم تھا کہ سپریم کورٹ سے کیا فیصلہ صادر ہونا ہے۔ اس کے باوجود اتمام حجت کے لئے انھوں نے اپنے وکلا کا مشورہ قبول کرلیا۔ حسب توقع سپریم کورٹ نے ان کی اپیل مسترد کردی۔

4اپریل 2015ء کو ان کے وکلا ان سے پھر ملے۔ ان کے وکیل مطیع الرحمن اکانڈا نے اس ملاقات کے بعد پریس کے نمایندوں کو بتایا: ’’میں نے اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئراسسٹنٹ سیکرٹری جنرل اور اپنے موکل جناب محمدقمرالزمان صاحب سے جیل میں ملاقات کی ہے۔ ہم نے بڑی مشکل سے انھیں آمادہ کیا کہ ہمیں ریویو پیٹیشن داخل کردینی چاہیے۔ چنانچہ اب ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپلیٹ ڈویژن کے سامنے نظرثانی کے لئے درخواست دے رہے ہیں۔ مسٹراکانڈا نے مزید کہا کہ محمدقمرالزمان کا حوصلہ اتنا بلند ہے کہ وہ استقامت کا پہاڑ کہلانے کا مستحق ہے۔ وہ بہت مضبوط دل ودماغ اورناقابل شکست اعصاب کا مالک ہے۔ اس نے ہمارے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ میں نے اپنے آپ کو بالکل یکسو کرلیا ہے کہ اللہ کی خاطر اپنی جان قربان کردوں گا۔ ہم نے جب بھی قمرالزمان سے ملاقات کی ہے پہلے کی نسبت اسے مزید مضبوط اور صاحب استقامت پایا ہے۔‘‘ شہید کے وکیل کا پورا انٹرویوجو ’’پروگریسو بنگلہ دیش‘‘ میں 7اپریل2015ء کو چھپا، سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ ان شاء اللہ ہم قمرالزمان کا یہ پورا انٹرویواردو اخبارات کو جلد بھیجیں گے۔

توقعات کے مطابق نظرثانی کی یہ درخواست بھی مسترد ہوگئی۔ مسٹراکانڈا نے کہا کہ اب بھی محمدقمرالزمان اپنے بارے میں ذرا برابر تشویش میں مبتلا نہیں، البتہ انھوں نے بہت دکھ اور کرب کے ساتھ یہ کہا ہے کہ وطن عزیز سے ظالم حکمران اسلام کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں۔ تحریک اسلامی ان کی آنکھوں میں اس لئے کھٹکتی ہے کہ یہ اس دیس کو قرآن وسنت کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ تاہم مجھے یقین ہے کہ ان شاء اللہ ان آزمایشوں سے تحریک سرخرو ہو کر نکلے گی اور ظلم کی سیاہ رات ڈھل جائے گی۔ اب حکومت کی کوشش یہ تھی کہ محمدقمرالزمان صدر مملکت کے سامنے رحم کی اپیل کریں۔ دو مجسٹریٹ جیل میں ان سے 10اپریل کو ملنے کے لئے آئے اور انھوں نے قافلۂ مودودیؒ وحسن البناؒ کے اس صاحبِ عزیمت راہی کو سمجھایا کہ رحم کی اپیل کردینی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے یہ کہا کہ آپ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا اعتراف کرلیں تو جان بخشی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ سیدقطبؒ اور عبدالقادر مُلّا کے نقوش پا پر چلنے والا قمرالزمان اس احمقانہ نصیحت پر کان دھرنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا۔ اس نے کہا: ’’نہ بنگلہ دیش کے صدر اور نہ دنیا کی کسی طاقت کے پاس موت وزندگی کے فیصلوں کا حق ہے۔ میں اللہ کے راستے میں اپنی جان قربان کرنے کے لئے بالکل تیار ہوں۔‘‘

جیل قواعد کے مطابق 11اپریل کو محمدقمرالزمان شہید کے اہل وعیال اور قریبی عزیزوں سے ان کی ملاقات کرائی گئی۔ ان کے بیوی بچوں کے علاوہ دیگر بھائی بند اور عزیز بھی ملاقات کے لئے آئے۔ کل 21 افراد کو ملاقات کی اجازت ملی۔ ایک گھنٹہ اور دس منٹ سے زائد ایک لمحہ بھی ارکانِ خاندان کو اپنے محبوب قمرالزمان کے پاس ٹھہرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ قمرالزمان نے اس آخری ملاقات میں اپنی بیوی، بچوں اور اعزہ کو کہا: ’’چند لمحات کے بعد ان شاء اللہ، اللہ کے دربار میں حاضر ہوجاؤں گا اور مجھے اس کی رحمت سے امید ہے کہ وہ رحیم وکریم مجھے اپنی رحمتوں کے سائے میں شہدا کی جماعت میں لے جائے گا۔ میرے اٹھ جانے کے بعد تم میں سے کوئی بھی نہ حوصلہ ہارے، نہ کوئی شکوہ شکایت کرے۔ اللہ کے دین کا کام ہم اللہ کی رضا کے لئے کر رہے ہیں۔ کوئی دنیوی مفاد ہمارے پیش نظر نہیں۔ ہم نے جو سودا کیا ہے اس میں نفع ہی نفع ہے۔‘‘

’’بنگلہ دیش نیوز‘‘ اور ’’ڈھاکہ ٹریبون‘‘ کے مطابق شہید نے فرمایا: ’’میری شہادت کے بعد مجھے غسل دینے کی ضرورت نہیں، نہ ہی کفن کی ضرورت ہے۔ شہید جس لباس میں شہادت پاتا ہے، اسی لباس میں اسے دفن کردیا جاتا ہے اور شہدا کو غسل بھی نہیں دیا جاتا۔‘‘ مسکراتے چہرے کے ساتھ پرعزم مسافر نے اپنے اہل وعیال کو رخصت کیا، مگر خاندان کے ہر فرد کی آنکھوں میں آنسو تھے اور یہ فطری امر ہے۔

چلے وہ غنچوں کی مانند مسکرا کے چلے!

پر اپنے چاہنے والوں کو خوں رُلا کے چلے

مزید : کالم


loading...