تبدیلی پسند اورتبدیلی مخالف

تبدیلی پسند اورتبدیلی مخالف
تبدیلی پسند اورتبدیلی مخالف

  


تبدیلی کا نعرہ صرف خوش کن نہیں بلکہ پاکستان میں وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ تمام مسائل اسی کے گرد گھومتے ہیں۔ حکمران طبقہ بھی ضرورت تو محسوس کرتا ہے لیکن تبدیلی کو مزاحمت کا سامنا ہی رہتا ہے۔ حکمران طبقہ اپنی سہولتوں اور مراعات کے خاتمے کی وجہ سے اندیشوں کا شکار رہتا ہے اسی لئے مخالفت اور مزاحمت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو تبدیلی کا خواہش مند تو ہوتا ہے لیکن اس کے لئے خود کچھ کرنا نہیں چاہتا ہے۔ تیسرا گروہ تبدیلی چاہتا ہے لیکن اسے رہنمائی حاصل نہیں ہوتی۔ انہیں مادی اور مالی وسائل درکار نہیں ہوتے ہیں۔ عمران خان جب تبدیلی کی بات کرتے ہیں تو خصوصا نوجوان سر ہلاتے ضرور ہیں ۔ عام لوگ بھی ان کی بات کی تائید کرتے ہیں لیکن کیا تبدیلی کے لئے جن لوازمات کی ضرورت ہے، عمران خان یا تبدیلی کے خواہش مند گروہ انہیں پورا کرتے ہیں۔ ہجوم کے ساتھ گھومنے سے تو تبدیلی نہیں آتی ہے۔ تبدیلی نظم اور تنظیم کی مرہون ہوتی ہے۔

عمران خان حال ہی میں حیدرآباد آئے۔ کافی عرصے بعد ان کا یہ ہوائی دورہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ادیب، مصنف، اور سیاسی دانشور ذوالفقار ہالے پوٹہ نے ادیبوں، دانشوروں کے ساتھ عمران خان کے ساتھ اپنی رہائش گاہ پر ایک مکالمے کی محفل کا اہتمام کیا تھا۔ ذوالفقار تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں ۔ ان کی خواہش تھی کہ عمران خان پارٹی میں ان کی شمولیت کا اعلان اور خیر مقدم کریں گے۔ ذوالفقار نے کئی ممتاز شخصیات اور دوستوں کو اس مکالمے کی محفل میں شرکت کی زحمت بھی دی تھی۔ان میں سے کئی افراد کو یہ گلہ ہی رہے گا کہ مکالمہ نہ ہو سکا۔ عمران خان نے اپنی بات سنائی، جس کے بعد مکالمے کی بجائے پریس کانفرنس ہو گئی۔ اخبار نویسوں کے وہی گھسے پٹے سوالات۔ پاکستان میں ہر شخص بولنا چاہتا ہے اور جب بولنے پر آتے ہیں تو سوال نہیں بلکہ تقریر کرتے ہیں۔ صحافی کیوں منتثنی ہوں ۔

ان سوالات کی گردش میں مکالمے کی گنجائش ہی نہیں رہی۔ہجوم میں نہ تو مکالمہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی کوئی سیر حاصل گفتگو۔ پھر کچھ عمران خان کو بھی واپسی کی جلدی تھی۔کچھ ذالفقار کی جانب سے کئے گئے انتظامات بھی اس لحاظ سے ادھورے تھے کہ وہ سیاسی جلسے کے لئے تو درست ہو سکتے تھے، کسی بامقصد مکالمے کے لئے اطمینان بخش ہر گز نہیں تھے۔ حالانکہ مکالمے کے صورت میں عمران خان سے بہت سارے سوالات کئے جانے تھے تاکہ وفاق اور سندھ کے تعلقات ، سندھ میں مستقل آباد مختلف لسانی گروہوں کے مفادات اور صوبے کے وسائل کے بارے میں لوگوں کے ذہنوں میں عرصہ دراز سے موجود سوالات کے جواب انہیں درکار ہیں۔لوگ اپنے خدشات کے ایسے جواب چاہتے ہیں کہ وہ اس ملک میں پھر پور اعتماد اور اطمینان کے ساتھ رہ سکیں۔ ایسا رہنا بھی کیا کہ لوگ تحفظ اور انصاف کے حصول میں ہی سرگرداں رہیں اور ان کی تمام قوت اسی میں صرف ہوجائے۔

یہ مسائل ہی تو ہیں جو صاد ق آباد او رریگسانی علاقے تھر پارکر سے لوگوں کو کھینچ کر روز گار کی تلاش میں بلو چستان کے دور افتادہ علاقوں میں لے جاتے ہیں۔ اور انہیں وہاں قتل کر دیا جاتا ہے۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ان محنت کشوں نے بلوچوں کا کیا قصور کیا تھا جو انہیں موت کی صورت میں صلہ ملا۔ ان لوگوں کو کون بتائے کہ با مقصد مکالمے کی عدم موجودگی کی وجہ سے پاکستان کئی قسم کے مسائل کا شکار ہے۔ متاثرہ محنت کشوں کے خاندانوں سے وابستہ لوگ بھی سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کی ان بیہیمانہ کاروائیوں کی پشت پر پڑوسی ملک ہے۔ پڑوسی ملک بھارت ہے جو بلوچستان میں ان دیکھی ، غیر اعلانیہ اور گمنام جنگ میں گمراہ پاکستانی بلوچ لوگوں کو آلہ کار بنا ئے ہوئے ہے۔ نام نہاد حقوق کی اس جنگ میں بے گناہ غیر بلوچوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

بھارت بلوچستان میں وہی جنگ لڑ رہا ہے جو وہ سابق مشرقی پاکستان میں لڑ چکا ہے۔ اس وقت غیر بنگالیوں کو چن چن کر اس لئے قتل کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی تھی کہ پاکستان کے حامیوں کا وجود ختم ہو جائے۔ یہی حکمت عملی بلوچستان میں اختیار کی گئی ہے کہ تمام غیر بلوچوں کو بلوچستان سے بھگا دیا جائے اسی لئے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے۔ بھلا محنت کشوں نے کیا بگاڑا تھا جو انہیں قتل کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر، اساتذہ، سرکاری ملازمین کے بعد ایسے بے ضرر شہریوں کو قتل کرنا سوائے اس کے کوئی معنی نہیں رکھتا کہ غیر بلوچوں کو بھگا دیا جائے۔ یہ لوگ بلوچستان جا کروہاں جاری ترقیاتی کاموں میں ہاتھ بٹا رہے ہیں۔

بغاوت پر آمادہ بلوچ نوجوانوں سے مکالمہ ٖفوری کیوں نہیں ہو پارہا ہے؟ سندھ کے لوگوں کو بھی مکالمے کی انتہائی ضرورت ہے۔ سندھ کے اندر موجود مختلف لسانی گروہوں کے درمیاں اعتماد کا فقدان ہے۔ مہاجروں اور پنجابیوں کے بارے میں سندھی شاکی رہتے ہیں۔ اسی طرح کی شکایات کا دفتر دوسروں نے بھی کھولا ہوا ہے۔ سندھ کے پنجاب کے ساتھ بین الصوبائی معاملات گفتگو کا تقاضہ کرتے ہیں۔ سندھ کی وفاق میں حصہ داری، سندھ کے اپنے وسائل پر اختیارات وغیرہ وقت کے اہم سلگتے ہوئے معاملات ہیں جن پر مکالمہ وقت کی ضرورت تصور کیا جاتا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے نتیجے میں صوبائی خود مختاری کے مسائل حل ہوگئے ہیں لیکن سیاست اور اس کی ٹیڑھی چالوں سے واقف سیاسی کارکن سمجھتے ہیں کہ ابھی بھی مکالمے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے وفاق میں ایسے بامقصد مکالمے کی ضرورت ہر وقت رہے گی کیوں کہ قومی اسمبلی کی ہیت کی وجہ سے پنجاب کی بالا دستی مختلف سوالات کو جنم دیتی ہے اور پھر جب ایوان بالا یعنی سینٹ بھی بے اختیار قسم کا ادارہ بنا دیا جائے جس میں اراکین کو مراعات تو حاصل ہوں اور ایوان اقتدار کی قربت بھی حاصل ہو لیکن ان کے صوبوں کو درپیش مسائل اپنی جگہ ہی موجود رہیں تو اس صورت میں تو پاکستان میں کئی مکالموں کی بار بار ضرورت پڑتی رہے گی۔

عمران خان ہوں یا بعض اور سیاست دان، جو اس خواہش کا برملا اظہار کرتے ہیں کہ ملک میں اختیارات کو نچلے درجے تک منتقل کردینے سے تبدیلی آجائے گی۔ یہ خواہش اس لحاظ سے تو خوش کن ہے کہ کوئی تو ہیں جو ایسے بھی سوچتے ہیں۔ وگر نہ پاکستان میں تو ہمیشہ ہی مضبوط مرکز کی بات کی جاتی رہی ہے۔ اس مضبوط مرکز کی خواہش نے ملک کو ایک سے زائد بار تہہ وبالا کر دیا ہے۔ مضبوط مرکز کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسے صوبوں کی جو تمام ضابطوں سے آزاد رہنے کی خواہش رکھتے ہوں۔ ملک میں صرف بلدیاتی نظام آجانے سے تبدیلی نہیں آئے گی۔کسی با مقصد تبدیلی کے لئے ملک کے پورے نظام کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ بہتر اور کار آمد تبدیلی ہی ملک کو ایک کار آمد وفاق اور صوبے فراہم کرنے کے علاوہ ملک کے عوام کی قسمت تبدیل کر سکتی ہے۔ عوام کی شرکت کے ساتھ صاف شفاف اور غیر جانبدارنہ انتخابات، کسی امتیاز کے بغیر تیز رفتاری کے ساتھ کام کرنے والی انتظامیہ، آدھی رات کو بھی ضروت مند کو انصاف کی فراہمی ممکن بنانے والی عدلیہ ہی پر امن تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ پاکستان کے عوام تبدیلی کے لئے کروٹیں بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کی خواہش بر نہیں آتی۔ حالات ایسے ایسے پانسے بدلتے رہتے ہیں کہ تبدیلی کا خواب تعبیر ہی نہیں ہو پاتا ۔تبدیلی کے خواہش مند کارکنوں کا غیر منظم ہونا بھی ایک بڑی رکاوٹ محسوس کیا جاتا ہے جو مکالموں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ پھر سیاسی جماعتوں میں موجود وہ خود ساختہ رہنما جو قائدین کے دائیں اور بائیں موجود تو ہوتے ہیں، تبدیلی کے لئے گفتگو کرتے نہیں تھکتے لیکن عملاً کچھ نہیں کرتے ۔

مزید : کالم


loading...