میر واعظ عمر فاروق کا ساتھ چھوڑنے والے رہنماؤں کا علی گیلانی سے رابطہ

میر واعظ عمر فاروق کا ساتھ چھوڑنے والے رہنماؤں کا علی گیلانی سے رابطہ

 سرینگر(کے پی آئی ) کل جماعتی حریت کانفرنس ( میر واعظ) سے الگ ہونے والے چھے حریت رہنماوں نے سید علی گیلانی سے رابطہ کر لیا ہے ۔ حریت کانفرنس ( گ ) کے چیرمین سید علی گیلانی 15اپریل کو نئی دہلی سے سری نگر پہنچ رہے ہیں۔سید علی گیلانی کی سری نگر آمد پر ظفر اکبر بٹ، سلیم گیلانی ، حکیم رشید شیخ یعقوب، یاسمین راجہ،بشیر اندرابی کی ان سے ملاقات ممکن ہے ۔ رائزنگ کشمیر کی رپورٹ کے مطابق میر واعظ عمر فاروق سے الگ ہونے والے چھے سینئر رہنماوں چیرمین جموں وکشمیر سالویشن فرنٹ ظفر اکبر بٹ، چیرمین نیشنل پیپلز پارٹی سلیم گیلانی ، چیرمین مسلم لیگ حکیم رشید پیپلز لیگ چیف شیخ یعقوب، چیرپرسن مسلم خواتین مرکز یاسمین راجہ، چیرمین کشمیر فریڈم فرنٹ بشیر اندرابی نے تصدیق کی ہے کہ وسیع تر اتحاد کے لیے سید علی گیلانی سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ حریت کانفرنس ( گ ) کے ترجمان ایاز اکبر نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان رہنماوں نے علی گیلانی کی سربراہی والی حریت سے رابطہ کیا ہے ۔ تقریباًایک برس قبل شبیر احمدشاہ اور نعیم احمد خان سمیت کئی رینماوں کی طرف سے حریت ( میر واعظ ) سے علیحدگی اختیار کرنے نیز تیسری حریت کانفرنس بنائے جانے کے بعد حریت کانفرنس(ع) میں اندرونی رسہ کشی اور بد اعتمادی کا ایک اور معاملہ دو روز قبل سامنے آیا جس کے تحت مذکورہ چھے رہنماوں نے میر واعظ کا ساتھ چھوڑ دیاان رہنماوں کا الزام ہے کہ حریت کانفرنس(ع) میں آئین کی پاسداری کو بالائے طاق رکھا گیا ہے جبکہ اہم فیصلہ جات بغیر کسی مشاورت کے لیے جاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شبیر احمد شاہ کی علیحدگی اختیار کیے جانے کے بعد سے ہی وہ حریت کانفرنس(ع) میں آئینی کی پاسداری،اہم فیصلہ جات اور کام کرنے کے طریقہ کار میں سدھار پر زور دیتے آ رہے تھے۔ لیکن ایگزیکٹو کونسل نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حریت آئین کے تحت اقوام متحدہ قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کے لیے سہ فریقی مذاکرات کو ایک راہ قرار دیا گیا ہے لیکن حقیقتاً حریت کانفرنس ( میر واعظ ) میں مذاکرات کے حوالے سے الگ الگ بولیاں بولی جاتی ہیں کبھی سہ فریقی مذاکرات تو کبھی تکونی مذاکرات اور بعض اوقات دوطرفہ مذاکرات کی راہ بھی اپنائی جاتی رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کافی کوششوں کے باوجودبھی جب آئین کی پاسداری، مذاکرات اور طریقہ کار میں کوئی سدھار نظر نہیں آیا تو وہ علیحدگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ۔ ۔سید سلیم گیلانی اور حکیم رشید نے بتایا کہ انہوں نے اپنے فیصلے سے میرواعظ عمر فاروق کو آگاہ کیا ہے یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کئی برس قبل سید علی گیلانی کی طرف سے الگ حریت کانفرنس بنائے جانے کے بعد تقریباً ایک برس قبل سید علی گیلانی کی طرف سے الگ حریت کانفرنس بنائے جانے کے بعد تقریباً ایک برس قبل شبیراحمد شاہ،نعیم احمد خان اور محمد یوسف نقاش بھی حریت (ع) سے الگ ہو گئے اور انہوں نے حریت جموں و کشمیر کا قیام عمل میں لایا۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مزاحمتی گروپوں کے جامع مشترکہ فورم کل جماعتی حریت کانفرنس میں چوتھی مرتبہ اختلافات پیدا ہونے کے نتیجے میں مزاحمتی جدوجہد پر دورس منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ حریت کانفرنس کا کل جماعتی کردار بھی اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ 1996ء میں اس جامع فورم کا قیام عمل میں لاتے وقت تھا۔ دریں اثنا کل جماعتی حریت کانفرنس ( میر واعظ) کے ترجمان شاہد السلام نے کہا ہے کہ جلد ہی میڈیا کو ان حقائق سے آگاہ کیا جائے گا جس کی وجہ سے کچھ لوگ حریت چھوڑ گئے ہیں ۔انہوں نے حریت آئین شکنی کا الزام رد کر دیا ۔

مزید : عالمی منظر


loading...