زیر تربیت بلاول

زیر تربیت بلاول
زیر تربیت بلاول

  


’’ ہاتھ میں کھر پا ‘‘ آ نکھوں پر عینک ‘‘ صبح آ نکھ کھلی کھڑکی میں سے نظر پڑی تو ایک شخص پھولوں کی کیاریوں میں گوڈی اور نلائی کررہاتھا ۔رات سونے سے پہلے میری ان سے ملاقات نہیں ہو ئی تھی کیونکہ میں دیر سے پہنچا تھا۔میرے پہنچنے کے بعد میری مہمان نوازی کی ذمہ داری ایک جوان نے نبھائی وہ میرے لیے کھانا بھی لایا اور ریڈیو بھی تاکہ میں خبریں سن سکوں یہ جوان آ ج ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور لوگ انہیں اسفند یار ولی کے نام سے جانتے ہیں

میں نے گوڈی کر نے والے جس شخص کا ذکر کیا وہ نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ عبدالولی خان تھے جن سے میری ملاقات کو ئی چا لیس برس پہلے ہوئی تھی جب میں ان سے انٹرویو کر نے چار سدہ کے قریب ان کی رہائش ولی باغ پہنچا تھا یہ میرا ایک اخبار کے لیے رپورٹنگ کا دور تھاملاقات کا وقت طے ہو نے کے باوجود میں دیر سے پہنچا شاید اس لیے کہ دوسری دفعہ جا نے کی وجہ سے مجھے وقت اور راستوں کا اندازہ نہیں ہو ا تھا ولی باغ چار سدہ تحصیل میں ایک الگ تھلگ جگہ پر ہے اور وہاں آ ج بھی رات کے وقت نہیں جا نا چاہیے

پاکستان میں بہت سے ’’ زرداریوں ‘‘ کی خواہش ہو تی ہے کہ ا ن کے ’’ بلاول ‘‘ خوب تر بیت پا کر سیاست کے میدان میں اتریں مگر ضروری نہیں ہو تا کہ یہ تربیت واقعی ہو جن رہنماؤں کو اپنے بزرگوں کے بعد جماعتیں سنبھالنے کا موقع ملا ان میں مولانا فضل الرحن بھی شامل ہیں جن کے بارے میں یقین کیا جا سکتا ہے کہ وہ سیاست میں کامیاب رہے ہیں یعنی قریب قریب ہمیشہ ہی اقتدار میں اور اقتدار میں ہو تے ہوئے بھی اپوزیشن میں ‘حکومت کسی کی بھی اس کے ساتھ اور وقت ضرورت اس کے خلاف ،اس حوالے سے ان کا موقف بعض مواقع پر درست بھی پایا جاتا ہے و ہ اپنے والد مولانا مفتی محمود کی وفات کے بعد سیاست میں آ ئے تو ان کی پہلی اہم تقر یر موچی دروازہ لاہور میں تھی ذوالفقار علی بھٹو وزیر اعظم اور عبد الولی خان قائد حزب اختلاف تھے اس جلسے کے اہم ترین مقرر عبدالولی خان ہی تھے جبکہ خواجہ سعد رفیق نے ایک بچے کے طور پر تقریر کی ان کے والد خواجہ رفیق کو انہی دنوں لاہورمیں قتل کیا گیا تھا جو نوا بز ادہ نصر اللہ کی پاکستان جمہوری پارٹی کے رہنما تھے اس جلسے میں مولانا فضل الرحمن کا ایک جملہ مجھے آ ج بھی یاد ہے ’’ گولی کے جواب میں شیرینی نہیں بھیجی جاتی ‘‘ اس وقت مولانا فضل الرحمن جوان اور سمارٹ تھے

بعض واقعات تاریخ کا اہم حصہ بن جاتے ہیں اور بعض جملے انسانوں کی سماعت میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنل عوای پارٹی (نیپ )کو کالعدم قرار دیا گیا پورے ملک میں اس کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہو ئیں اور عبدالولی خان کو حید ر آبا د جیل میں نظر بند کر دیا گیا اس کے بعد اس جماعت کے کارکنوں نے سر دار شیر باز خان کی قیادت میں نیشنل ڈیمو کریٹک پارٹی بنائی اور پھر بیگم نسیم ولی خان کی سر براہی میں عوامی نیشنل پارٹی بنائی گئی ۔اس مرحلے پر بیگم نسیم ولی کو ایک تقریب میں پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا گیا تو بعد انہوں نے ہار اتارتے ہوئے کہا کہ پھولوں کا بھی وزن ہو تا ہے

اس طرح اے این پی کے مرکزی رہنما غلام احمد بلور کے جب بیگم نسیم ولی سے اختلافات ہو ئے اور انہیں نظر انداز کیا جا نے لگا تو میں نے ایک موقع پر غلام احمد بلو ر سے پوچھا کہ آ پ کو بیگم نسیم ولی کے طر ز عمل پر افسوس تو ہوا ہو گا انہوں نے انگریز ی میں کہا ’’ NO EXPECTATION NO SORROW‘‘ اسی طرح جب غلام احمد بلور کے اکلوتے بیٹے شبیر احمد بلور کو پولنگ سٹیشن پر قتل کر دیا گیا تو میں غلام احمد بلور کے ساتھ محبت کے رشتے کی وجہ سے شدید غم میں چلا گیا تھا اور مجھے شبیر کے جناز ے میں جانے کی ہمت نہیں ہو ئی تھی کچھ عر صہ بعد پشاور جا کر غلام احمد بلور سے تعزیت کی اور معذرت کی کہ میں جناز ے پر نہیں پہنچ سکا تو انہوں نے کہا ’’ آ فتاب !ہمار دکھ تو پوری زندگی کا ہے ‘‘

شبیر احمد بلور بیرسٹر تھے ہو سکتا ہے وہ عملی سیاست میں آ تے مگر قسمت نے انہیں موقع نہیں دیا جنہیں موقع ملا ان میں میں چودھری ظہور الٰہی کے صاحبزادے چودھری شجاعت حسین بھی شامل ہیں ان کے بارے میں بھی سمجھا جاتا ہے کہ وہ سیاست میں کامیاب رہے ہیں بعض موجود ہ سیاستدانوں کے والد سیاستدان نہیں تھے اس کے باوجود وہ سیاست میں کامیاب رہے ان میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف شامل ہیں آ صف علی زرداری کی خواہش ہے کہ ان کے اکلوتے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کامیاب سیاستدان بنیں ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بلاول کی لند ن میں سیاسی تر بیت کی جارہی ہے انہیں سیاسی بلوغت حاصل ہو نے پر دوبارہ میدان سیاست میں اتارا جائے گا۔ آ صف علی زرداری کے اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ بلاول کو سیاسی تر بیت کے بغیر سیاست میں لایا گیا تھا ایک نو عمری اور اوپر سے سیاسی عدم بلوغت ‘بلاول بھٹو زرداری اب تک سیاستدان محسوس نہیں ہو ئے انہیں تقریر سکھا نے کے لیے بہت محنت کی گئی مگر تقریر ہی سب کچھ نہیں ہو تی آ صف علی زرداری تقریریں کم اورسیاست زیادہ کر تے ہیں اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کی سیاست کو سمجھے کے لیے انسان کو سیاست میں پی ایچ ڈی ہوناچاہیے ۔ہو سکتا ہے آ صف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری نے ان کی سیاسی تربیت کی ہویا پھر بینظیر کی رفاقت نے انہیں رموز سیاست سکھا دیے ہوں تاہم بلاول بھٹو زرداری سمیت کئی ’’ بلاولوں ‘‘ کو سیاسی تربیت و بلوغت کی ضرورت ہے

مزید : کالم


loading...