قومی مفاد سب سے مقدم ہے

قومی مفاد سب سے مقدم ہے
قومی مفاد سب سے مقدم ہے

  


وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بالآخر زبان کھولی ہے اور متحدہ عرب امارات کے وزیر انور قرقاش کی طرف سے پاکستان کو دھمکی دینے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے، مجھے تو یوں لگتا ہے کہ یہ وزیر موصوف سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل سے بھی بڑھ گئے ہیں،جنہوں نے نائن الیون کے بعد اُس وقت کے صدر پرویز مشرف سے کہا تھا کہ فوری بتائیں ہمارے ساتھ ہیں یا تباہ ہونا چاہتے ہیں، خود پرویز مشرف بعد میں یہ بتاتے رہے کہ اُنہوں نے پاکستان کو تورا بورا بنانے کی دھمکی دی تھی، اس لئے مجبوراً امریکہ کا ساتھ دینا پڑا۔ لیکن یو اے ای کے وزیر موصوف نے تو حد ہی کر دی ہے۔ اُنہوں نے پاکستان کو تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج بھگتنے کے لئے تیار رہنے کی وارننگ دے ڈالی ہے۔ ایسا تو صرف پاکستان میں ظالم وڈیرے ہی کرتے ہیں جو اپنے مزارعوں کو پیغام بھجواتے اور حمایت نہ کرنے پر نشانِ عبرت بنانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ غضب خدا کا پاکستان کے ایک چھوٹے سے شہر جتنے رقبے پر مشتمل ایک ملک کس انداز سے پاکستان کو مخاطب کر رہا ہے۔ گویا ہم اُس کے زر خرید غلام ہیں۔ حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتے، کریں گے تو مارے جائیں گے۔ یہ ہے ہماری خارجہ پالیسی کی حالت جسے ڈالروں، دیناروں اور درہموں کے عوض گروی رکھ دیا گیا ہے۔ حیران کن بات ہے کہ اس بیان پر متحدہ عرب امارت کے سفیر کو وزارتِ خارجہ طلب کر کے وضاحت بھی نہیں مانگی گئی۔ دبئی میں اپنے اربوں ڈالرز رکھنے اور سرمایہ کاری کرنے والے ایسا کیسے کر سکتے ہیں سو طبقہ اشرافیہ کے مفادات نے آج پاکستان کو یمن سے بھی کمتر درجے کا ملک بنا دیا ہے۔ یمن کے خلاف تو یہ وزیر صاحب ایسی بات بھی نہیں کر سکتے لیکن پاکستان کے خلاف جو ایٹمی طاقت ہے اور دنیا کی سب سے بڑی اور منظم اسلامی فوج رکھتا ہے، اُس کی ہٹ لسٹ پر آ گیا ہے۔

اب سمجھ آتی ہے کہ امریکہ ہو یا ایسے عرب ممالک یہ پاکستان میں ڈکٹیٹروں کی حمایت کیوں کرتے آئے ہیں اُن سے معاملہ کرنا بہت آسان ہوتا ہے، اُسے سستا یا مفت تیل دے کر لوگوں کو میٹھی گولی دینے کی ترغیب دی جاتی ہے اور اُس کے بعد اپنے مطلب کا کام نکلوا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہماری پارلیمینٹ کی قرارداد پر اس قدر شور و غوغا کیوں کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور یو اے ای کے وزراء اسے افسوسناک قرار دے رہے ہیں، اسی کی وجہ سے پاکستان کو دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔ گویا وہ پاکستان کو اپنی ربڑ سٹیمپ بنانا چاہتے ہیں، جو اُن کے منہ سے نکلے ہوئے فیصلوں کی تصدیق کر دے۔ وزیر اعظم محمد نوازشریف ایک سے زیادہ بار یہ کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی آنچ آئی تو اس کا بھرپور دفاع کریں گے۔ خود آرمی چیف جنرل راحیل شریف بھی یہ کہہ چکے ہیں اس کے بعد ایسی کیا بات رہ جاتی ہے کہ جسے بنیاد بنا کر پاکستان پر عدم اعتماد کیا جائے۔ رہی بات یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت یا فوجی طاقت کے ذریعے اُسے ختم کرنے کی تو یہ کسی بھی طرح مناسب نظر نہیں آتی۔

یمن ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے اُس میں اگر عوام ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں تو اقوامِ متحدہ کے ذریعے امن لانے کے لئے کوئی کردار ادا کرنا چاہئے یا پھر او آئی سی قدم اُٹھائے اور اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرے۔ اس سے بالا بالا جو کچھ ہوگا وہ خرابیاں ہی لائے گا۔ ہم اس میں فریق کیسے بن جائیں؟ہمارا اس صورتِ حال سے براہ راست کیا تعلق ہے، ہاں سعودی عرب ہمارے لئے ایک مقدس حوالہ بھی ہے اور ایک با اعتماد دوست بھی۔ اُس پر حملہ ہوا تو پورا عالم اسلام اُسے اپنے پر حملہ سمجھے گا۔ اس کی حفاظت کے لئے ہر مسلمان سر پر کفن باندھ کے نکلے گا لیکن ہم سے اگر کوئی کہے کہ یمن میں جو باغی حکومت کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ اُن کا قلع قمع کرنے کے لئے اپنی فوج بھیجو تو اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورت میں وہاں کی خانہ جنگی خود ہمارے گھر تک آ جائے گی۔ اس سوال کا تعلق بھی ہم سے نہیں بنتا کہ یمن میں منتخب حکومت کا تختہ اُلٹنا کیا جائز ہے؟ اس کا فیصلہ ہم کیوں کریں۔ اگر کوئی حکومت اپنے ہی شہریوں پر رٹ قائم نہیں رکھ سکتی تو پھر اُسے باہر سے بچانے والے کس قانون اور ضابطے کے تحت آئیں۔ امریکیوں نے تو از خود یہ قانون بنا رکھا ہے کہ دنیا میں جہاں بھی چاہیں، امریکی مفادات کے خلاف کام کرنے والوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اُنہیں اقوام متحدہ سے اجازت لینے کی ضرورت ہے اور نہ سلامتی کونسل سے۔ مگر اس نظریئے کو عام کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیسے یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ کوئی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت کرے۔ ہم اس سے پہلے دیکھ چکے ہیں کہ پرائی آگ میں کودنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے۔ اُس کی وجہ سے ہمارے 60 ہزار سے زائد پاکستانی موت کا شکار ہوئے اور ہماری زندگی خوف و دہشت کا شکار ہو کر رہ گئی۔ اب اگر ہم ایک دوسرا محاذ کھول لیتے ہیں تو پھر جو تھوڑا بہت امن اس وقت نظر آ رہا ہے، وہ بھی قصہ پارینہ بن جائے گا۔

میں سمجھتا ہوں پہلی بار پاکستانی پارلیمینٹ نے ایک جرأت مندانہ موقف اپنایا ہے۔ اس قرارداد سے کہیں بھی یہ نہیں لگتا کہ ہم سعودی عرب کی سالمیت سے غافل ہیں یا لاتعلقی کا اظہار کر رہے ہیں، البتہ یہ ضرور ہے کہ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان نے ایک آزاد اور خود مختار ملک کی حیثیت سے فیصلہ کیا ہے۔ اب یہ بات تو ڈھکی چھپی رہی نہیں کہ یمن کی صورتحال درحقیقت قبضے کی لڑائی ہے اور اس کے پیچھے سعودی عرب اور ایران پوری طاقت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پچھلے دنوں ایران کے وزیر خارجہ پاکستان آئے تھے، اُنہوں نے پاکستانی قیادت کو یہ پیغام دیا ہوگا کہ اس جنگ میں آپ غیر جانبدار رہیں ۔ اگر یمن میں پاکستانی فوج اُتاری جاتی ہے تو اُس کا سامنا براہ راست اُن باغیوں سے ہوگا، جن کی ایران سپورٹ کر رہا ہے۔ ایران جو ہمارے ہمسائے میں موجود ہے اس حوالے سے کیا ردعمل ظاہر کرے گا۔ اس سے قطع نظر خود باغیوں کو جو پیغام جائے گا۔ اُس کا ردعمل ہم کیسے برداشت کریں گے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ ہم اُنہیں آسانی کے ساتھ روک لیں گے، جب ہم نے طالبان کو ختم کر دیا ہے تو ان پر بھی قابو پالیں گے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا اسی قسم کے تجربات کی آماجگاہ رہ گیا ہے، کیا پرائی جنگوں میں پڑ کے ہم اسی طرح اپنا امن و سکون برباد کرتے رہیں۔ پھر ہزاروں لوگ ایک بے مقصد لڑائی میں مروائیں اور پھر یہ دعویٰ کریں کہ دیکھو ہم نے دہشت گردوں کا صفایا کر دیا ہے۔ اب یہ حکمتِ عملی کارگر ثابت نہیں ہو سکتی ہمیں وہی فیصلہ کرنا چاہئے تھا، جو پارلیمینٹ نے کیا ہے یہ فیصلہ فردِ واحد کے ہاتھ میں ہوتا تو شاید اب تک پاکستانی فوج یمن کے باغیوں سے لڑ بھی رہی ہوتی۔ لیکن غالباً خود افواج پاکستان کی قیادت نے یہ مشورہ دیا کہ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے پارلیمینٹ کی رائے لی جائے۔ پارلیمینٹ کا فیصلہ سب کو تسلیم کرنا چاہئے۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی کہ جہاں امریکی صدر اور پینٹا گان کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، بڑے فیصلے صرف کانگریس کرتی ہے اور اگر وہ حکومت کو کسی حکام سے روک دے تو وہ کوئی من مانی نہیں کر سکتی۔

یہ درست ہے کہ ہم معاشی طور پر ایک کمزور ملک ہیں، اور ہم سے اکثر کام اقتصادی پابندیوں کا ڈراوہ دے کر ہی لئے جاتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم چند ٹکوں کی خاطر اپنا ہر قومی مفاد قربان کر دیں۔ متحدہ عرب امارت کے وزیر نے ہمیں جو دھمکی دی ہے، وہ ایسی نہیں کہ جس سے یہ مطلب لیا جائے کہ وہ ہم پر حملہ کر دے گا، بلکہ اس کا واضح پیغام یہ ہے کہ پاکستان کو تیل یا امداد کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ ہمارے اہل اقتدار کے لئے شرمناک بات ہے کہ اُن کی بد اعمالیوں اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث پچھلے 60 برسوں میں پاکستان کو جس طرح لوٹا گیا اور جس طرح اسے قرضوں کے جال میں پھنسایا گیا، اُس نے پاکستان کو آج اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی اُسے آنکھیں دکھاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں یہ ڈٹ جانے کا وقت ہے۔ پارلیمینٹ نے قوم کی جو ترجمانی کی ہے، اُسے ایک طاقت بنا لینا چاہئے۔ جو لوگ ملک کے اندر اپنے ذاتی ایجنڈے کی خاطر پارلیمینٹ کی قرارداد پر منفی تبصرے کر رہے ہیں، وہ قوم سے مخلص نہیں سعودی عرب سے عوام کی جذباتی اور مذہبی عقیدت و محبت کو غلط رنگ نہ دیا جائے۔ بات سعودی عرب کی نہیں یمن کی ہو رہی ہے سعودی عرب کے خلاف جارحیت ہوئی تو پاکستان یقیناً اپنا فرض ادا کرے گا۔ مگر فی الوقت ایسی کوئی صورتِ حال نہیں، اس لئے ہمیں وہی کرنا چاہئے جو ہمارے قومی مفاد میں ہے اور اس کا اظہار پرلیمینٹ نے بھی کر دیا ہے۔

مزید : کالم


loading...