اماراتی وزیر کی بچگانہ دھمکی!

اماراتی وزیر کی بچگانہ دھمکی!

آج تقریباً ہر خواندہ ،نیم خواندہ اور ناخواندہ پاکستانی کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آیا پاکستان،یمن میں اپنی آرمی بھیجے گا یا نہیں بھیجے گا۔۔۔اگرچہ ہماری پارلیمنٹ اکثریت رائے سے یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ پاکستان، سعودی عرب کی سلامتی اور ساورنٹی کے لئے سعودیوں کی مدد کرنے کو تیار ہے اور اگر حرمین شریفین کو کوئی خطرہ ہوا تو نہ صرف پاکستان بلکہ ساری مسلم دنیا ان مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت کے لئے تیار ہوگی لیکن پھر بھی نجانے کیوں لوگوں کی اکثریت کو یقین نہیں آ رہا کہ پارلیمان کے اس فیصلے پر حتماً عمل کیا جائے گا۔۔۔ میرے خیال میں اس بے یقینی کی تین وجوہات ہیں۔۔۔

ایک یہ کہ سعودی عرب، چین کی طرح، ہمارا جنم جنم کا حمائتی رہا ہے۔ بُرے وقتوں میں ہماری مدد کو آتا رہا ہے۔1998ء میں جب ہم نے جوہری دھماکے کئے تھے اور مغربی ممالک نے جب ہم پر پابندیاں لگائی تھیں تو سعودی عرب ایک سال سے زیادہ عرصے تک ہماری تیل کی ضروریات مفت (یا رعائتی نرخوں پر؟) پوری کرتا رہا تھا۔ اس نے بالواسطہ پاکستان کے بڑے بڑے دفاعی ہتھیاروں کی خریداری میں بھی ہماری مالی مدد کی اور سعودیہ میں آج بھی لاکھوں پاکستانیوں کی ورک فورس کام کر رہی ہے جو ہر سال اربوں ڈالر زرمبادلہ بھیجتی ہے اور پاکستانی معیشت کو زیادہ ڈانوال ڈول نہیں ہونے دیتی۔ اس لئے پاکستان اتنا طوطا چشم نہیں بن سکتا کہ اگر سعودی عرب، افواج پاکستان کو آواز دے تو وہ آنکھیں پھیر لے۔ اور چونکہ ابھی تک پاکستانی حکومت کی طرف سے رسمی طور پر یمن میں افواج نہ بھیجنے کی اطلاع نہیں دی گئی اس لئے لوگوں کو شبہ ہے کہ کوئی نہ کوئی ایسا راستہ نکال لیا جائے گا جو سعودیوں کو بھی ناراض نہیں کرے گا اور پاکستانی قانون سازوں کے فیصلے کے خلاف بھی کوئی بدیہی اقدام ہوتا نظر نہیں آئے گا۔

دوسری وجہ موجودہ برسرِ اقتدار پاکستانی سیاسی قیادت پر سعودیوں کا وہ احسان ہے کہ جو انہوں نے شریف فیملی کو از سر نو پاکستان کی عنانِ اقتدار سنبھالنے میں بالواسطہ ادا کیاتھا۔ اس لئے حکومتِ وقت گومگو کی عجیب مشکل میں ہے۔ عوام کو یقین نہیں آ رہا کہ نواز لیگ، آلِ سعود کی درخواست پر اسے ٹکاسا جواب دے گی۔

تیسری وجہ افواج پاکستان کا وہ موقف ہے کہ جو اگرچہ پارلیمان کے فیصلے کا تابع ہے لیکن پاکستانیوں کو شک ہے کہ پارلیمنٹ کے اس فیصلے میں عسکری قیادت کی (In put) بھی ضرور شامل ہے اور یہ In put ایسی ہے کہ پاکستان کے موجودہ معروضی حالات میں باعثِ نزاع نہیں کہی جا سکتی۔ کوئی بھی خواندہ، نیم خواندہ یا ناخواندہ پاکستانی ایسا نہیں ہوگا جو پاکستان کی مسلح افواج کو یمن کی اس جنگ میں کودنے اور خودکشی کرنے کی کوشش کی حمایت کرے۔

سعودی عرب کا وہ فضائی حملہ جو 25مارچ کو اچانک شروع کیا گیا، اس کی اثابت کا استدلال نہایت مشکل بلکہ ناممکن ہے۔۔۔پہلی بات تو یہ ہے کہ سعودیوں (اور دوسرے سنی عربوں) نے جب یہ ناگہانی فضائی حملہ شروع کیا تھا توکیا اس کی کوئی بھنک کسی واسطے یا کسی ذریعے سے پاکستان کوبھی دی گئی تھی؟۔۔۔ دوسری بات فضائی حملے کے اگلے روز ہی پاکستان کی تینوں مسلح افواج کو یمن بلانے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی؟۔۔۔ کیا حوثی باغیوں نے یمن۔ سعودی عرب سرحد پار کرکے ریاض یا کسی اور سعودی شہر کو مبتلائے خطر (Vulnerable)کر دیا تھا؟۔۔۔ کیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے ایک خود مختار ملک پر حملہ کرنے کی ویسی ہی منظوری حاصل کرلی گئی تھی کہ جیسی عراق اور لیبیا پر حملوں کے لئے کی گئی تھی؟۔۔۔ کیا دو سو جدید بمبار طیاروں (جن میں 100تو اکیلی رائل سعودی ائر فورس کے تھے) نے جب یمن جیسے انتہائی مفلوک الحال معاشرے پر بمباری شروع کی تھی تو عوام کی حالتِ زار کا کوئی اندازہ لگا لیا تھا؟۔۔۔

مجھے باوثوق عسکری ذرائع سے کہ جنہوں نے اپنی شناخت سے منع کیا ہے، معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے سعودیوں کو یہ تجویز دی تھی کہ پاک آرمی کے دستے یمن کی سرحد پر جا کر حوثی باغیوں سے دو دو ہاتھ نہیں کریں گے۔ ہاں البتہ وہ یمن کی سرحد سے 200 میل اندر ربع الخالی میں جا کر مورچہ بند ہو سکتے ہیں اور اگر حوثی باغی، سعودی عرب کی طرف بڑھے تو ان سے نمٹ لیں گے۔ لیکن سعودیوں نے اس تجویز کو ٹھکرادیا اور اصرار کیا کہ ہم پاکستانی گراؤنڈ فورسز کے بوٹ، یمن کے اندر دیکھنا چاہتے ہیں اور یمنی صدر ہادی کہ جو بھاگ کر ریاض چلے گئے تھے (اور آج بھی وہیں ہیں) ان کو واپس صنعا کے صدارتی محل میں لا کر مسندِ اقتدار پر متمکن کرنا چاہتے ہیں!

اس قسم کا ناقابلِ یقین اور ناقابلِ عمل مطالبہ پاکستان سے کیوں کیا گیا، اس کے پیچھے کون کون سے بیرونی ہاتھ کارفرما تھے، ان ہاتھوں کا ایجنڈا کیا تھا اور ان کا آخری ہدف کیا تھا، یہ سارے ’’راز‘‘ بہت جلدایک ایک کرکے طشت ازبام ضرور ہوں گے۔

سعودیوں کے پاس اس وقت امریکہ کا جدید ترین اسلحہ ،فلک بوس انباروں کی صورت میں موجود ہے۔ نہ صرف امریکہ، بلکہ جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے بھی اپنا حصہ بقدر جثہ ان ’’اسلحی انباروں‘‘ میں شامل کیا ہوا ہے۔ اگر بالفرض اس اسلحہ کو آپریٹ کرنے کے لئے سعودی لشکریوں میں وہ دم خم نہیں تھا کہ جو بالعموم ان جدید ٹینکوں، توپوں، طیاروں، بحری جہازوں، ہیلی کاپٹروں اور بکتر بند گاڑیوں کو استعمال کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے تو پھر سعودیوں کو اپنے ’’ سیاہ سیال سونے‘‘ کے ذخیروں کے منہ اہلِ مغرب کے اسلحہ فروشوں کے سامنے کھولنے کی کیا ضرورت تھی؟

میں آج ایک امریکی روزنامے میں یہ خبر بھی پڑھ رہا تھا کہ چونکہ سعودی آرمی، کسی لگاتارطویل (Sustained) لڑائی (Battle) لڑنے کے قابل نہیں، اس لئے وہ پاکستانی یا مصری گراؤنڈ فورسز کی طرف دیکھ رہی ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر سعودیوں نے اپنی رائل ائر فورسز کو آج سے تین ہفتے پہلے لانچ ہی کیوں کیا تھا؟کیا ان کو پتہ نہیں تھا کہ تنہا فضائی قوت کوئی بھی لڑائی اس وقت تک نہیں جیت سکتی کہ جب تک گراؤنڈ ٹروپس کے بُوٹ میدان جنگ میں نہ اتارے جائیں۔۔۔۔ بیسویں صدی کی بے شمار طویل اور مختصر جنگیں اس مقولے کی صداقت کی شہادت دے چکی ہیں۔

میں ایک اور بات پر بھی حیران ہوں کہ سعودی بحریہ ابھی تک بحیرۂ احمر کی راہ یمن کے سواحل پر پہنچ کر اپنی اور دوسرے عرب ممالک کی فضائیہ کے حملوں کے شانہ بشانہ کوآرڈنیٹ کیوں نہیں کررہی؟ سعودی نیوی بھی مغرب کی ’’عطا‘‘ ہے لیکن کیا ان کے سیلرز اور آفسیرزبھی اپنی بری فوج کی طرح کسی لگاتار طویل (Sustained) بحری لڑائی (نیول بیٹل) کو لڑنے کے اہل نہیں؟

رائٹر نے گزشتہ ہفتے (8اپریل 2015ء) اپنی ایک خبر میں انکشاف کیا تھا: ’’امریکہ، سعودیوں کے ساتھ اپنی انٹیلی جنس شیئرنگ کی کاوشوں میں اضافہ کر رہا ہے تاکہ ان کی فضائی مہم میں حوثیوں کے خلاف اہداف کی نشاندہی کو مزید یقینی بنایا جائے۔ اس اضافی مدد کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ دو ہفتوں کی لگاتار بمباری کہ جو سعودیوں اور خلیج کی دوسری ریاستوں کی ائر فورسز کی طرف سے کی جا رہی ہے، وہ ایران کے حمایتی حوثی باغیوں کی پیش قدمی روکنے میں ناکام رہی ہے‘‘۔

اس کے بعد دیکھئے کہ رائٹر کی اس خبر کا اگلا جملہ کتنا مختصر لیکن کتنا بلیغ ہے۔ لکھا ہے کہ امریکیوں نے اب اعلان کیا ہے کہ : ’’ہم نے اپنے اپرچر (Aperture) اپنے سعودی ساتھیوں (Partners) کی مدد کے لئے پہلے کے مقابلے میں زیادہ کھول دیئے ہیں‘‘۔۔۔ اپرچر زیادہ کھولنے (Wider) کا استعارہ سمجھنے کے لئے کسی زیادہ ماہر کیمرہ مین یا فوٹوگرافر کی ضرورت نہیں!۔۔۔ اب ذرا اس سے آگے کا یہ حصہ بھی ملاحظہ کرلیں:’’امریکہ نے 20اراکین پر مشتمل ایک ملٹری کوارڈی نیشن ٹیم سعودی عرب روانہ کر دی ہے جس کے سربراہ امریکی میرین فورس کے ایک میجر جنرل کارل مونڈی (Carl Mundy) ہیں۔یہ ٹیم اس دو ستاروں والے ملٹری کمانڈر کی زیر کمانڈ سعودی، خلیجی ریاستوں اور ان دوسری اقوام کی مشترک فضائی کارروائیوں کے انٹرایکشن میں مدد دے گی جو وہاں بروئے عمل لائے جا رہے ہیں یا لائے جانے والے ہیں‘‘۔

قارئین جان گئے ہوں گے کہ اس خبر کا اصل مفہوم کیا ہے۔۔۔ بلاشبہ ’’دوسری اقوام‘‘ میں پاکستان بھی شامل ہوتا اگر پاک فضائیہ یمن کے خلاف ائر آپریشنوں میں حصہ لے رہی ہوتی!

بین الاقوامی جنگوں/ لڑائیوں میں افواجِ پاکستان (آرمی، نیوی، ائر فورس) کو حصہ لینے کا کافی اور وسیع تجربہ ہے لیکن بعدازاں ایسا کرنے کے نتائج کیا ہوں گے، اس کی طرف ہمارے آرمی چیف، جنرل راحیل شریف نے حالیہ کور کمانڈرز کانفرنس کے بعد قوم کی توجہ مبذول کرائی تھی۔ آرمی چیف کے بیان کو اگر قارئین اس تناظر میں رکھ کر دیکھنا چاہیں گے تو ان کو معلوم ہوگا کہ یمن کی اس پراکسی وار میں کود کر ہمیں کون کون سے عواقب و خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

پاکستان کو اپنے نفع اور نقصان کا وزن ترازو کے دونوں پلڑوں میں رکھ کر تولنا ہوگا تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پلڑا کس طرف جھکے گا۔۔۔ یمن کی اس خانہ جنگی یا پراکسی وار کی صورتِ حال لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ راقم السطور جیو ملٹری اور جیو سٹرٹیجک موضوعات کا کوئی اتنا بڑا تجزیہ کار نہیں، لیکن متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ جناب انور قرقاش اور ہمارے وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے ’’میڈیائی‘‘ اٹیک اور کاؤنٹر اٹیک کا جو حالیہ مظاہرہ کیا ہے وہ جہاں پاکستانی حکومتی حلقوں کی پختگیء فکر کا مظہر ہے وہاں امارات کے حکومتی حلقوں کے بین الاقوامی فکری افلاس کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ متحدہ عرب امارات (UAE) والے پاکستانی اربابِ اختیار سے ایک عرصے سے نالاں چلے آ رہے ہیں۔ وجوہات جاننے کے لئے قارئین، شمسی ائربیس کو امریکیوں سے خالی کروانے، امرائے امارات کو سِسی، چکور اور حوبارہ بسٹرڈ (بلوچی تیتر) کے شکار کی اجازت نہ دینے اور 2020ء EXPO کی میزبانی کے لئے امارات کی تائید نہ کرنے کے واقعات یاد کرنے چاہئیں۔

اماراتی وزیر خارجہ کی یہ غیر دانشمندانہ دھمکی کہ ’’پاکستان کو سعودی عرب میں افواج نہ بھیجنے کی ’’بھاری قیمت‘‘ ادا کرنا پڑے گی، کسی بھی گلوبل فارن پالیسی قواعد و ضوابط کے کلچر کی یکسر نفی ہے اور پاکستان کے لئے قابلِ برداشت نہیں۔ لیکن اس کا جواب تو پاکستان کے وزیرخارجہ یا مشیر خارجہ کو دینا چاہیے تھا جو اب تک سامنے نہیں آیا۔اگرنثار علی خان نے سرتاج عزیز یا طارق فاطمی کی جگہ پاکستان کے ملی ردِ عمل کو زبان دے دی ہے تو وہ اس کے لئے لائقِ صد تحسین ہیں!

کہا جاتا ہے کہ الشیخ قرقاش، مغرب کے معروف تدریسی اداروں کے فارغ التحصیل ہیں اور متحدہ عرب امارات میں کئی دوسرے حکومتی مناصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں، ان کی زبان سے اس قسم کی دھمکی محض بچگانہ ہی تصور کی جائے گی۔ ان سے کئی گنا بہتر، سنبھلا ہوا اور بین الاقوامی روایات کا حامل تبصرہ تو سعودی وزیر مذہبی امور کی طرف سے آ چکا ہے جو پرسوں سے پاکستان میں آئے ہوئے ہیں۔جن پاکستانی شخصیات کے مالی مفادات متحدہ عرب امارات سے وابستہ ہیں، ان کے لئے قرقاش صاحب کا یہ بیان لمحہ ء فکریہ ہونا چاہیے۔ اس سے پہلے کہ یہ امرائے دبئی کوئی اور طفلانہ حرکت کریں، پاکستانیوں کو اپنے اثاثوں اور وابستہ مفادات کی امکانی ضبطی کا پیشگی نوٹس لینا چاہیے۔

مزید : کالم


loading...