اوقات کار ۔۔۔تاجر اور صنعتکار؟

اوقات کار ۔۔۔تاجر اور صنعتکار؟

وزیر اعظم محمد نواز شریف کی صدارت میں قومی انرجی کمیٹی نے وفاق اور پنجاب میں کاروباری اوقات کا تعین نئے سرے سے کیا اور ہدایت کی ہے کہ تمام کاروباری مراکز 8بجے شب اور ریستوران گیارہ بجے بند کر دیئے جائیں جبکہ شادی بیاہ کی تقریبات پورے دس بجے ختم کر دی جائیں اور کوئی بھی شادی ہال دس بجے کے بعد ایک منٹ کے لئے بھی کھلا نہیں رہے گا، کمیٹی نے دوسرے صوبوں سے بھی تعمیل کی بات کی ہے ۔توقع کے عین مطابق تاجروں نے یہ تجویز مسترد کر دی اور اب حکومت ان کے ساتھ بات چیت کر کے ان کو رضا مند کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ابھی اس پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ایساپہلی بار نہیں ہوا۔ پہلے بھی یہ کوشش کی گئی حتیٰ کہ مین مارکیٹوں کے فیڈر بند کر دیئے گئے تاجر حضرات مصنوعی روشنی میں اپنا کام کرتے رہنے چاہیے تو یہ تھا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے اس تجویز پر تاجر حضرات کی رائے لی جاتی اور ان کو آمادہ کیا جاتا اب کوشش تو شروع کی گئی لیکن نیم دلانہ طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ایک تو اس تجویز کے مطابق اوقات کار دورانیہ کم کیا جائے دوسرے اس مقصد کے لئے تاجروں کے حقیقی نمائندوں کو منصوبے کی افادیت اور اس کے طریق کار کے حوالے سے اعتماد میں لیا جائے او ران سے باقاعدہ مذاکرات کرکے اس مفید تجویز کے مطابق عمل کرایا جائے۔ اب اگر فیصلہ واپس ہوا تو سُبکی ہو گی۔

مزید : اداریہ


loading...