گنجان آبادیوں میں فیکٹریاں؟

گنجان آبادیوں میں فیکٹریاں؟

کراچی کی ایک گنجان آبادی میں واقع اچار فیکٹری نے بیک وقت سات افراد کی جان لے لی ان میں خود اس فیکٹری کا مالک بھی شامل ہے۔ ساتوں نعشیں کیمیکل کے ایک بڑے ٹینک سے ملی ہیں۔ پولیس کے مطابق تمام اموات دم گھٹنے سے ہوئیں محلے والوں کے مطابق اس فیکٹری کے بارے میں شکایت بھی کی گئی لیکن کسی نے توجہ نہیں دی تھی کیمیکل کی اتنی بڑی مقدار میں موجودگی خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں تیار ہونے والا اچار مضر صحت ہو گا ۔یہ افسوسناک سانحہ ہے جس میں سات جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سے پہلے بھی اس قسم کی فیکٹریوں اور ورکشاپوں میں ہونے والے حادثات کی خبریں شائع اور نشر ہوتی رہی ہیں۔ میڈیا گنجان آبادیوں میں ورکشاپوں اور فیکٹریوں کی اطلاعات بھی دیتا رہا ہے۔دیکھا جائے تو مجموعی طور پر یہ سلسلہ پورے ملک میں جاری و ساری ہے اور اس کا تدارک نہیں کیا جارہا جو بہت مشکل بن چکا کہ آبادیوں میں ایسی ورکشاپوں اور فیکٹریوں کی بہتات ہے جو مضر صحت اور خطرناک بھی ثابت ہوتی ہیں۔ حیرت کا مقام تو یہ ہے کہ ان فیکٹریوں کو بجلی کے کنکشن سے لے کر گیس اورپانی تک کے کنکشن مل جاتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا اول تو محلے دار شکایت ہی نہیں کرتے اگر ایسا کریں تو شنوائی نہیں ہوتی اور دشمنی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس وبا کا سدباب تو اسی طرح ممکن ہے کہ ابتدا سے اجازت ہی نہ دی جائے اور اگر کوئی چوری چھپے ایسا کام کرے تو اسے شروع ہی سے پکڑ لیا جائے اب تو یہ سلسلہ بھی چنگ چی رکشوں اور گدھا گاڑیوں کی طرح انسانی حقوق کا بن گیا کہ ان کی تعداد اس قدر زیادہ ہے کہ شہروں کی آبادیوں سے ان کا انخلا ان کا کاروبار بھی ٹھپ کر دے گا اور بھوک چاروں طرف پنجے گاڑ لے گی ۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر ایک ایسی مربوط پالیسی اختیار کرنا چاہئے کہ خطرات ختم ہوں اور انسانی صحت کو نقصان بھی نہ ہو۔ حکومت کو ان سات افراد کے جان بحق ہو جانے کی صورت میں جو وقت مل گیا ہے اسے استعمال میں لا کر اس ممنوعہ کاروبار سے مزید جانوں کے ضیاع کا راستہ رک جائے گا۔اللہ سب کا حامی و ناصر ہو۔

مزید : اداریہ


loading...