پاک، سعودی دوستی کی آزمائش

پاک، سعودی دوستی کی آزمائش

سعودی عرب کے وزیر مذہبی امور الشیخ ڈاکٹر صالح عبداللہ بن عبدالعزیز اتوار کو ہنگامی دورے پر پاکستان پہنچ گئے۔انہوں نے ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ پاکستان سے بہتری کی امید رکھتا ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات انتہائی قریبی رہے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، پاکستان کے ساتھ اس کے مضبوط، معاشی، مذہبی اور دفاعی تعلقات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پارلیمنٹ کی قرارداد پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔ پاکستانی عوام بھی سعودی عرب کی حمایت کے خواہاں ہیں اور انہیں اچھے ہی کی امید ہے۔ حوثی باغیوں پر حملے آئینی حکومت کی حمایت کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ مُتحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ کے بیان پر ان کا موقف تھا کہ وہ شکایت سے زیادہ اور کچھ نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق سعودی وزیر کے دورے کا مقصد یمن کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔ سعودی وزیر مختلف حکومتی، سیاسی و مذہبی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے اور انہیں یمن کی تازہ ترین صورتحال پر سعودی عرب کے موقف سے آگاہ کریں گے۔

دوسری طرف سعودی عرب کے خصوصی مشیر برائے وزیر مذہبی امور ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ العمار نے بھی نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے مسئلے پر ثالثی کی بات مذاق کے مترادف ہے، باغیوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوا کرتے ، مذاکرات تو تب ہوں گے جب باغی ہتھیار پھینک دیں گے۔وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یمن جنگ میں شامل ہوکرباغیوں کاکنٹرول ختم کرانے میں مددکرے۔سعودی عرب اور پاکستان آپس میں چھوٹی چھوٹی بات پر بھی مشورہ کرتے ہیں یہ تو بڑی بات ہے یقینامشورہ ہواہی ہوگا۔ انہوں نے ایران پر حوثیوں کی مدد کا الزام بھی لگایا، ان کا کہنا تھا حزب اللہ نے حوثیوں کو عسکری تربیت دی ،ایرانی فورسز اورحزب اللہ کے باغیوں کی موجودہ کارروائیوں میں شریک ہونے کے شواہدموجود ہیں۔انہوں نے بھی متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ کے بیان کو ایک بھائی کادوسرے بھائی سے محض شکوہ قرار دیا ۔ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ العمار نے یمن تنازعہ کے حوالے سے صورتحال بھی واضح کی،ان کا کہنا تھاکہ یمن کی صورتحال ہرگز فرقوں کی جنگ نہیں ہے ۔ اس جنگ کا تعلق دین اور مذہب سے نہیں ہے۔ یہ خالصتاً ایک سیاسی مسئلہ ہے ، یمن میں باغیوں نے قانونی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت شروع کررکھی ہے اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یہ مسئلہ گزشتہ پانچ سال سے جاری تھا اورسعودی عرب نے ہمیشہ اسے گفتگو اور مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔ یمن میں حوثی کل آبادی کا صرف ایک فیصد ہیں اور ایک فیصد آبادی کو99 فیصد پر بزور طاقت مسلط ہونے کی کوئی اجازت نہیں دے سکتا۔ان کے نزدیک اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے کہ باغی ہتھیار پھینک دیں ، قانونی حکومت دوبارہ بحا ل ہو اور پھر حوثی انتخابات میں حصہ لیں، اگر اس طریقے سے قانونی حکومت حاصل کرلیں تو سعودی عرب کو کوئی اعتراض نہیں۔

واضح رہے کہ یمن کے بحران پرپاکستان کی پارلیمنٹ نے مشترکہ اجلاس میں جو قرارداد منظور کی تھی اس میں حکومت پر زوردیا تھا کہ وہ یمن میں جاری جنگ میں غیرجانبدار رہے تاکہ اس تنازعے کے حل کے لیے فعال سفارتی کوششیں کرسکے۔پارلیمنٹ کی اس قرارداد پر متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے خاصے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ اسلام آباد کو اپنے فیصلے کی سخت قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔یہ بیان وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کو کافی ناگوار گزرا اور انہوں نے اسے ناقابل قبول اور پاکستان اور پاکستانی عوام کی توہین کے مترداف قرار دیا ۔بعض اخباری اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف چوہدری نثار کے اس رد عمل سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔اماراتی وزیر کا بیان جذباتی ہے یا اپنوں سے شکوہ اس سے قطع نظر سعودی وزیر مذہبی امور کی گفتگو سے ان کی بردباری جھلکتی ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی جذباتیت نہیں ہے لگتا ہے وہ توپاکستانی سیاستدانوں کو اپنا موقف سمجھانے آئے ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ اس وقت یمن میں جنگ باغیوں سے ہے جنہوں نے آئینی صدر منصور ہادی کو اقتدار سے الگ ہونے پر مجبور کر دیا۔یہ کوئی فرقہ وارانہ تصادم یا شیعہ سنی تنازعہ نہیں ہے یہ تو باغیوں کو ان کی اپنی اصل جگہ پہنچانے کی جدوجہد ہے۔ دنیا کا کوئی بھی قانون ایک گروہ کو بندوق کے زور پر حکومت کرنے یا اپنی بات منوانے کی اجازت نہیں دیتا، یہ کھلی دہشت گردی ہے۔ایسے عناصر کااگر راستہ نہ روکا گیا تو وہ بہت کچھ تہہ و بالا کر گزریں گے۔ایک بنیادی نکتہ جو سمجھنے کی از حد ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ یمن کا معاملہ خالصتاً سیاسی مسئلہ ہے اس کا دین اورمذہب سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے، اس معاملے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے، ادھر ادھر کی بحث میں نہیں الجھنا چاہئے۔

اس بات پر کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ سعودی عرب سے ہماری دوستی بے مثال ہے،سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں بلا توقف پاکستان کی مدد کی ہے، جب بھی پاکستان کو ضرورت پڑی تو اس نے بڑھ چڑھ کرہمارا ساتھ دیا ۔سعودی عرب نے بنگلہ دیش کے قیام کی مخالفت پاکستان کی محبت ہی میں کی تھی، ایٹمی دھماکوں کے بعد جب مغربی دنیا نے پاکستان سے ناطہ توڑ لیا تھاتو سعودی عرب ہی نے پاکستان کو تیل فراہم کر کے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کرنے کی ہمت دی تھی۔سعودی عرب پاکستان کو اس خطے میں اپنے قریبی ساتھی کے طورپر دیکھتا ہے۔پاکستان اور سعودی عرب دونوں ایک دوسرے کی طاقت ہیں اور جہاں بہت زیادہ قریبی دوستی ہوتی ہے وہاں توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں، مشکل وقت میں کنی کترانا مخلص دوست کی نشانی نہیں ہوتی۔ارباب اختیار کو قرارداد میں موجود ابہام دور کرکے پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح موقف اپنانا چاہئے اور یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ آزمائش کے وقت دوستوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہی پڑتا ہے۔آج سعودی عرب کو ہمارے ساتھ کی ضرورت ہے ایسے میں اپنے قدم پیچھے ہٹا لینا کسی طور مناسب نہیں ہوگا۔

مزید : اداریہ


loading...