پاکستانی کرکٹر ز کا آسٹریلیا کے کرکٹر اور کمنٹیٹر رچی بینوخراج تحسین

پاکستانی کرکٹر ز کا آسٹریلیا کے کرکٹر اور کمنٹیٹر رچی بینوخراج تحسین

لاہور( سپورٹس ڈیسک)آسٹریلین آل راؤنڈراورشہرہ آفاق کمنٹیٹر رچی بینو کو کرکٹ کمنٹیٹر کلب آف پاکستان کی جانب سے شاندارخراج تحسین پیش کیا گیا۔ راجہ اسدعلی خاں سیکرٹری جنرل سی سی سی پی کے زیر اہتمام ایک مشترکہ ریفرنس میں آسٹریلیا کی کرکٹ کے انتہائی کامیاب کپتان ،کمنٹیٹر، ماہر صحافی اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخصیت رچی بینو کی وفات پر گہرے غم واندوہ کا اظہار کیا گیا۔ رچی بینو کی وفات پر لیجنڈری پاکستانی کمنٹیٹر افتخار احمد نے اپنے پرانے رفیق اور دوست کو بے پناہ خراج عقیدت پیش کیا اور انہوں نے رچی کی وفات پر دل گرفتہ ہو کر کہا کہ’’ رچی نے جو کچھ بھی کیا وہ سب ان کے شایان شان تھا‘‘وہ ایک عمدہ دوست اور شریف النفس شخص تھے۔ خدا ان کی روح کو امن وسکون بخشے ۔ پاکستان کی انگریزی کمنٹری کے اہم بانیوں اور پاکستان فارن سروس کے معتبر رکن جمشید مارکر نے رچی بینو سے متعلق اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ 1959ء میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے موقع پر جب امریکی صدر ڈیوائیڈآئیزن ہاور نیشنل سٹیڈیم کراچی میں تیسرے ٹیسٹ کو دیکھنے کیلئے آئے تواس وقت امریکی صدر نے سبز رنگ کا پاکستانی بلیزر پہنا ہوا تھا۔ ٹیم کے تعارف کے دوران آسٹریلین ٹیم مینیجر سان لاکسٹن جو خود بھی آسٹریلین پارلیمنٹ کے ممبر تھے امریکی صدر کی موجودگی میں خوشگوار لمحوں میں ہنستے ہوئے امریکی صدر سے کہا کہ آپ تو مخالف ٹیم (پاکستانی ٹیم)کے ساتھ مل گئے ہیں‘‘ ا س موقع پر ساتھ ہی کھڑے ہوئے ذہین آسٹریلوی کپتان رچی بینونے اپنی کیپ اتار کر امریکی صدر کوتحفتاََ پیش کردی ۔جمشید مارکر نے آنجہانی رچی کی بطور کمنٹیٹر اعلیٰ حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم کمنٹیٹر نے کرکٹ کمنٹری کو اپنی محبت کے احساس وادراک سے آراستہ کیا۔بلا شبہ وہ کرکٹ کے عظیم ترین کمنٹیٹر تھے، سینئر انگریزی کمنٹیٹر طارق رحیم نے کہا کہ آسٹریلیا میں رچی بینو کا وہی مقام ومرتبہ تھا جو پاکستان میں عمر قریشی کا تھا۔رچی کرکٹ کے کھیل کو خوب سمجھتے تھے اور وہ اپنے انداز واسلوب اور الفاظ کے انتخاب میں نہایت محتاط تھے۔ مجھے پاکستان میں دولت مشترکہ کی ٹیم کے دورہ پاکستان 1968ء میں رچی کا انٹرویو کرنے کا موقع بھی ملا۔ میں سمجھتا ہوں کمنٹری باکس میں ان کی عدم موجودگی دیر تک محسوس کی جائے گی۔ کرکٹ کمنٹیٹرزکلب آف پاکستان کے صدر محمد ادریس نے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے رچی بینو جیسا خوش گفتار، خوش لباس اور خوش گلو انسان اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ ان کے الفاظ کی ادائیگی کی روانی اور وجاہتِ شخصی کو ٹی وی ناظرین برسوں تک یاد رکھیں گے۔ انہوں نے کرکٹ براڈ کاسٹ میں ان مٹ نقوش ثبت کیے ہیں، ہر دل عزیز اردو کمنٹیٹر حسن جلیل نے رچی بینو کی وفات کو کرکٹ کی دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا اور کہا کہ وہ کرکٹ کے ایک بہترین کپتانی صفات کے حامل کھلاڑی تھے جسے دنیا نے جی بھر کے دیکھا ۔وہ ایک باوقار لیڈر اورعالمی معیار کے آل راؤنڈر تھے۔انہوں نے آسٹریلیو ی کرکٹ میں بے مثال خدمات انجام دیں ۔وہ شاندارکھیل کرکٹ میں کھیل کی روح کی علامت کے طور پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ بطور کمنٹیٹر رچی اپنے نادر اسلوب بیان کے باعث لازوال اثرات مرتب کرنے والے کھلاڑی اور کمنٹیٹر تھے ۔ریڈیو اور ٹی وی کے انگریزی کمنٹیٹر ریحان نواز نے رچی بینو کے خاندان سے اپنے د لی احساسات سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ رچی نے کرکٹ کے کھیل میں ایک نئی سمت کو متعارف کروایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں ریڈکمنٹری میں ان کی پیروی کو اپنے لیے اعزاز سمجھتا ہوں۔

رچی بینو کرکٹ سے لگن اورعشق کے باعث نئی نسل کے لیے مثالی اقدار کے طور پر ہمیشہ زندہ وجاوید رہیں گے۔ کرکٹ کمنٹیٹر اور کرکٹ تجزیہ کار راجہ اسدعلی خاں نے اپنے بیان میں کہا کہ قدرت نے رچی بینو کو لاتعداد جسمانی خوبصورتیوں اورذہنی استعدادوں سے نواز رکھا تھا۔ وہ ایک عالمی ورثہ کی حیثیت رکھتے تھے۔وہ بیسویں اوراکیسویں صدی میں کرکٹ کی سب سے بااثر شخصیت تھے۔دنیا بھر میں ان کے الفاظ کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ انہوں نے اپنے د ل وجان کو کرکٹ کے کھیل کے لیے وقف کررکھا تھا۔ میرے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات ہے کہ آسٹریلیا میں مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ میں نے انہیں پاکستان کرکٹ کے مداح اور خیر خواہ پایا۔ اے آر زیدی سینئر کرکٹ تجزیہ کار نے رچی بینو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک لیجنڈ اوراثر کن شخصیت تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میری ان سے ملاقات 1995ء میں سڈنی میں ہوئی۔ اس وقت آسٹریلیا اور پاکستان کا ٹیسٹ میچ ہورہاتھا تیسرے دن میچ کا آغاز ہونے والا تھا رچی بینو نے صبح وکٹ دیکھ کر پیش گوئی کردی کہ پانچویں دن پاکستانی ٹیم کی فتح ہو گی اور یہ پیش گوئی پوری ہو کر رہی۔ وہ کھیل کے اس قدر ماہر اور تجزیہ کار تھے کہ ان کی پیش گوئیاں پوری ہوجاتی تھیں۔ کرکٹ کمنٹیٹر میں ان کا مقام اوّل نمبر پر تھا۔ وہ کرکٹ کی غیر معمولی شخصیت تھے۔ مجھے ان کی وفات کی خبر سے دلی صدمہ ہوا ہے۔ مرزا اقبال بیگ تاریخ کرکٹ اور کمنٹری کے حوالے سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ رچی بینو صحیح معنوں میں کرکٹ کے خادم تھے۔ کمنٹری کی دنیا میں ان کا مقام اہم اور بلند تھا۔ رچی ایک نابغہ روزگارکھلاڑی اور کمنٹیٹر تھے اور وہ برسوں تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے ۔ اگرچہ وہ محب وطن آسٹریلین تھے لیکن جب نیوزی لینڈ کے خلاف فروری1981ء میں ٹریور چیپل نے انڈر آرم گیند کرائی تو رچی بینونے ان کی اس حرکت کی واضح الفاظ میں مذمت کی۔ کرکٹ کی دنیا یقیناًان کی خدمات کو تادیر یاد رکھے گی۔امجد عزیز ملک معروف کرکٹ کمنٹیٹر اور صحافی نے کہا کہ کرکٹ کمنٹیٹر کی برادری میں ایک بہت بڑے کرکٹ رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔ کرکٹ کی نہایت عمدہ اور ہر دلعزیز آواز خاموش ہو کررہ گئی ہے۔ رچی بینو کو وہ لا کھوں لوگ نہ بھلا سکیں گے جن پر وہ اپنی محبتیں نچھاور کرتے رہے۔ بے شک کرکٹ کے میدان میں ان کے بے لاگ ،غیر جانبدار اور دوٹوک الفاظ میں تبصرے نوجوان کمنٹیٹرز اور کھلاڑیوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت سے سنے اور پڑھے جائیں گے۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...