گاڑیوں کی غیر دستاویزی تجارت سے بلیک اکانومی میں سالانہ 54 ارب کا اضافہ

گاڑیوں کی غیر دستاویزی تجارت سے بلیک اکانومی میں سالانہ 54 ارب کا اضافہ

 کراچی(آن لائن) وفاقی وزارت تجارت کے تحقیقی ادارے ’’پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے نام پر استعمال شدہ گاڑیوں کی غیر دستاویزی تجارت ’’بلیک اکانومی‘‘ میں سالانہ 54ارب روپے اضافے کا سبب بن رہی ہے۔درآمد شدہ پرانی گاڑیوں کی تجارت مکمل طور پر غیردستاویزی ہے جس پر 10بڑے درآمد کنندگان کی اجارہ داری قائم ہے۔ گاڑیوں کی لین دین کے لیے مشکوک ’’گرے‘‘ بینک اکاؤنٹس بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ استعمال شدہ درآمدی گاڑیوں سے ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات سے متعلق اپنی ایک ریسرچ میں انسٹیٹیوٹ نے واضح انداز میں کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے دی جانے والی سہولت کا غلط استعمال کیا جارہا ہے خطے کے دیگر ممالک کے برعکس پاکستان میں اس اسکیم کی نگرانی اور غلط استعمال کی روک تھام کے لیے کوئی نظام نہیں ہے۔استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارت مکمل طور پر غیردستاویزی طور پر جاری ہے جس کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی خریدوفروخت پر انکم ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا۔ انسٹی ٹیوٹ نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی ویلیوایشن کے لیے یکساں طریقہ اختیار کیا جائے ایس آر او 577کے تحت فکسڈ ڈیوٹی کا نفاذ قومی خزانے کو سالانہ 7.6ارب روپے نقصان سے دوچار کررہا ہے ایس آر او 577کو منسوخ کرکے تمام اقسام کی گاڑیوں کی ویلیو ایشن امپورٹ ٹریڈ پرائس(آئی ٹی پی) اور مینوفیکچرر سجیسٹڈ ریٹیل پرائس( ایم ایس آر پی) کی بنیاد پر طے کی جائے۔   استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے لیے گفٹ/بیگج اسکیموں کو ختم کیا جائے اور صرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو رہائش کی تبدیلی پر گاڑی اپنے ہمراہ پاکستان لانے کی اجازت برقرار رکھی جائے۔بیرون ملک مقیم پاکستانی کو صرف اسی ملک سے گاڑی اپنے ہمراہ لانے کی اجازت دی جائے جہاں وہ مقیم رہا ہو۔ اس سہولت کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے ایک پاکستانی کو 2سال میں صرف ایک گاڑی پاکستان لانے کا پابند بنایا جائے۔ ان اسکیموں کے تحت گاڑیاں درآمد کرنے والوں کو پابند بنایا جائے کہ درآمدی گاڑی ان کے اہل خانہ میں سے کسی کے نام پر رجسٹرڈ ہوگی اور اس گاڑی کے ایک سال تک کسی دوسرے فرد کے نام پر منتقلی پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ جاپان سے گاڑیوں کی درآمد کی صورت میں جاپان کی پری شپمنٹ ایجنسی Bureau Veritas یا جاپانی آٹواپریزل انسٹی ٹیوٹ (جے اے اے آئی) کا تصدیقی سرٹیفکیٹ لازمی قرار دیا جائے۔جاپان سے گاڑی کی درآمد کے لیے جاپانی آکشن ہاؤس کی 4.5گریڈنگ لازمی قراردی جائے ایسی گاڑیوں کو درآمد کی اجازت نہ دی جائے جو 15ہزار کلومیٹر سے زائد چل چکی ہوں اسی طرح زنگ آلود گاڑیوں، سیلاب سے متاثرہ گاڑیوں، چیسس ایکسیڈنٹ گاڑیوں کو بھی درآمد کی اجازت نہ دی جائے۔ انسٹی ٹیوٹ نے آٹو انڈسٹری کے لیے ایک جامع قومی پلان کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس پلان پر حقیقی معنوں میں عمل درآمد یقینی بنانے۔ قومی آٹو پالیسی کے تحت درآمدی اور مقامی سطح پر تیار گاڑیوں میں پسنجر سیفٹی، کوالٹی اور گاڑیوں کی سڑکوں پر چلنے کی اہلیت یقینی بنانے سمیت 15سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو متروک قرار دیتے ہوئے پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اسمگل شدہ گاڑیوں اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی بھی سخت ممانعت تجویز کی ہے۔

مزید : کامرس


loading...