کراچی کے تاجراور برآمدکنندگان پانی کی قلت کا شکارہیں ،ایس ایم منیر

کراچی کے تاجراور برآمدکنندگان پانی کی قلت کا شکارہیں ،ایس ایم منیر

کراچی(این این آئی)کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری کے سرپرست اعلی ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ ہفتے کے روز وفاقی اور صوبائی سطح پر تعطیل کو ختم کرتے ہوئے ملکی تجارتی وکاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے اقدامات کرنا ہونگے ،کراچی کے تاجراور برآمدکنندگان پانی کی قلت کے باعث شدید مشکلات کا شکارہیں اور اپنی ہی فیکٹریوں ، صنعتوں کو ملنے والا پانی خرید نے پر مجبورہیں یہ بات انہوں نے وفاق ایوانہائے صنعت وتجارت پاکستان کے نائب صدر شاہ نوازاشتیاق کی جانب سے اپنے اور زبیر طفیل کے اعزازمیں دئیے گئے عشائیے کے موقع پرکہی اس موقع پر خالد تواب نے بھی اظہارخیا ل کیا جبکہ سینیٹرعبدالحسیب خان،عبدالسیمع خان،فیڈریشن کے سینئر نائب صدر عبدالرحیم جانو،محمد یحییٰ پولانی،اختیاربیگ،ناصر الدین شیخ،ملک خدابخش،گلزارفیروز،نوراحمد خان،سید فرخ مظہر،زبیر چھایا اور دیگر بھی موجودتھے ۔ایس ایم منیرنے کہا کہ واٹرٹینکر مافیا پانی چوری کرکے سرعام فروخت کررہے ہیں اور فیکٹری مالکان چوری شدہ پانی خریدرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر وزارت خزانہ سیلز ٹیکس ریفنڈ کی مد میں پھنسی ہوئی 100ارب روپے سے زائد کی رقم اداکردے تو ملکی برآمدات میں آٹھ ار ب ڈالر تک اضافہ کیا جاسکتا ہے ۔  فیڈریشن آف پاکستان کے سابق نائب صدر اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے سیکریٹری جنرل زبیر طفیل نے کہا کہ فیڈریشن آٖف پاکستان کی جانب متوازن وفاقی بجٹ پیش کرنے کی بھرپورکوشش کی گئی ہے اوروفاقی بجٹ کو تاجر دوست بجٹ بنایا گیا ہے جس سے ملکی برآمدات کو فروغ حاصل ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ فیڈریشن آٖف پاکستان کی جانب سے وفاقی بجٹ میں نئی صنعتکاروسرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹوں سمیت کسٹم،سیلز ٹیکس،ریبیٹ،ریفنڈز،سرکلر ڈیٹ کے مسائل کو حل کرانے کے لیے مثبت اندازمیں تجاویزات پیش کی گئیں ہیں جبکہ بجٹ میں حکومت کو باورکرایا گیا ہے کہ ایس آر او کلچر کاخاتمہ بے حدضروری ہے اور خسارے میں چلنے والے اداروں کی انتظامیہ کوبہتربنانے سمیت ملک میں غربت کے خاتمے اور روزگارکی فراہمی کے مواقع کو کس طرح فروغ دیا جائے اسکی تجاویزات بھی دی گئی ہے ۔اس موقع پر فیڈریشن کے سابق نائب صدر خالدتواب نے کہا کہ دنیا بھر میں برآمدات کو فروغ دینے پر حکومتیں برآمدکنندگان کو مراعات دے رہی ہیں لہذا پاکستان میں ریگولیٹری ڈیوٹی کے خاتمے سمیت سیلز ٹیکس کی بڑہتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے اقدامات کرنا ہونگے۔انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ اپنی بیلنس شیٹ کو بہتربنانے کے لیے برآمدکنندگان کے اربوں روپے دبا کے بیٹھی ہوئی ہے اور صرف ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کی مد میں 26ارب روپے سے زائد کی رقم اور ریفنڈ کی میں 110 ارب روپے سے زائد کی رقم یعنی 136 ارب روپے کی رقم وزارت خزانہ کے پاس موجود ہے اوربرآمدکنندگان پریشان ہیں۔

مزید : کامرس


loading...