ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ میں بڑے پیمانے پر ادویات کی چوری ،سیکرٹری صحت نے نوٹس لے لیا

ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ میں بڑے پیمانے پر ادویات کی چوری ،سیکرٹری صحت نے نوٹس لے ...

لاہور(جاوید اقبال)گورنمنٹ ٹیچنگ ہسپتال شاہدرہ میں ادویات کی چوری کا دھندہ عروج پر پہنچ گیا ہے ۔ادویات چوری کرنے کے لیے 5رکنی گروہ متحرک ہے جو فرضی مریضوں کے نام پر روزانہ سینکڑوں جعلی پرچیاں بناتے ہیں اور ان فرضی پرچیوں پر روزانہ لاکھوں روپے کی ادویات مہنگے ترین انجکشن ،ویکسین ،دل کے اٹیک کے وقت لگائے جانے والے ٹیکے ،مہنگی ترین اینٹی بائیوٹک ،اینٹی الرجی ،ڈراپس ،وغیرہ یہ گروہ اپنے کارندوں کے ذریعے چوری کر کے لے جاتے ہیں ۔چند روز قبل بھی ہسپتال کے مین گیٹ پر مذکورہ گروہ کی طرف سے ادویات چوری کرکے لے جاتے ہوئے چوروں کو سیکیورٹی گارڈ زنے پکڑ لیا ان گارڈز کو گروہ کے ارکان نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔بتایا گیا ہے کہ فرضی مریضوں کے نام پر جاری کردہ ادویات کی پرچیوں پر چیف فارماسسٹ اور اے ایم ایس کے جعلی دستخط کئے جاتے ہیں ۔ راوی ویلفیئر سوسائٹی شاہدرہ نے اس حوالے سے مکمل ثبوت اور کوائف پر مبنی مراسلہ سیکرٹری صحت جواد رفیق ملک کو پیش کر دیا ہے جس میں سیکرٹری صحت نے تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے ۔مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ ادویات چوری کرنے والے سرکاری گروہ میں 9 ملازمین ملوث ہیں ۔بتایا گیا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ ملوث ایک کلرک ہے جس پر اینٹی کرپشن میں کیس بھی چل رہا ہے مگر تاحال سیٹ پر براجمان ہے۔مراسلہ کے مطابق مذکورہ ہسپتال میں ادویات کی خریداری اور سپلائی میں بڑے پیمانے پر گھپلے کیے جا رہے ہیں یہ گروہ پبلک پرچیز میں خریدی جانے والی ادویات ،ادویات سپلائی کرنے والی کمپنیوں سے ساز باز کرکے ایسی ادویات خریدتا ہے جس کی ایکسپائری دو سے تین ماہ تک ہوتی ہے ۔یہ ادویات مارکیٹ ریٹس سے 40سے 50فیصد کم قیمت پر خریدتے ہیں اور کاغذات میں مکمل قیمت ظاہر کرکے لمبی چوڑی کمیشن ظاہر کرتے ہیں ۔مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ روزانہ 2سے 3 سو مریضوں کو ریکارڈ میں فرضی طور پر ظاہر کیا جاتا ہے اور ان کی جعلی پرچیاں بنا کر ان پر روزانہ لاکھوں روپے کی ادویات سٹوروں سے جاری کر کے مارکیٹ میں فروخت کر دی جاتی ہیں اور زیادہ تر چوری کی دوائی ہسپتال کا ایک ملازم اپنے بھائی کے پرائیویٹ ہسپتال جو کہ ونڈالہ دیال شاہ میں ہے وہاں فروخت کرتا ہے۔مہنگے ترین ٹیکے اور ادویات ایک ڈسپنسر اپنے پرائیویٹ سٹور پر لے جاتا ہے ۔مراسلہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال میں لگے کلوز سرکٹ کیمروں کا گزشتہ تین ماہ کا ریکارڈ قبضہ میں لے کر اس کو دیکھا جائے تو فوٹیج میں چوری کا بھانڈا پھوٹ جائے گاجبکہ جن مریضوں کو ادویات دی جاتی ہیں ان کو اکا دکا ادویات دے کر باقی ہڑپ کر لی جاتی ہیں اس طرح ہسپتال میں خریدی جانے والی ادویات میں بھی لاکھوں روپے کے گھپلے کیے جا رہے ہیں ۔فرضی پرچیاں بنا کر ایل پی میں سپلائی کی جانے والی ادویات کے پیسے گروہ وصول کر لیتا ہے ۔اس طرح مذکورہ گروہ کی چوری کی گئی ادویات کئی مرتبہ گیٹوں پر سیکیورٹی گارڈز نے پکڑی ہیں مگر گروہ انہیں الٹا تشدد کا نشانہ بنا کر معاملہ دبا دیتا ہے ۔اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر مشتاق سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ادویات کی چوری کا علم نہیں ہے اگر ایسا ہے تو تحقیقات کرواؤں گااور ذمہ داروں کے خلاف ایکشن لیا جائے گا ۔اس حوالے سے سیکرٹر ی صحت جواد رفیق ملک نے کہا ہے کہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل کو انکوائی افسر مقرر کیا گیا ہے اور 7روز میں رپورٹ طلب کرلی ہے سیکرٹری نے کہا کہ مریضوں کے لئے خریدی گئی ادویات چوری کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...