برطانیہ نے افغانستان میں اپنے مترجم سے آنکھیں پھیر لیں،ویزا دینے سے انکار

برطانیہ نے افغانستان میں اپنے مترجم سے آنکھیں پھیر لیں،ویزا دینے سے انکار

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا اور برطانیہ مقصد پورا ہونے پر آنکھیں پھیر لینے کی خصوصی شہرت رکھتے ہیں اور کچھ ایسا ہی ان افغانوں کے ساتھ ہوا ہے جو گزشتہ ایک دہائی کے دوران افغانستان میں برطانوی فوج کے لئے مترجم کے طور پر کا م کرتے رہے ہیں۔مشرقی افغانستان کے شہر خوست سے تعلق رکھنے والا ایک 26 سالہ مترجم بھی ان بدقسمت لوگوں میں سے ایک ہے کہ جنہوں نے برطانوی فوج کے لئے کام کیا لیکن اب برطانیہ انہیں اپنے ملک کا ویزہ دینے سے انکاری ہے جبکہ طالبان ان پر گولیاں برسارہے ہیں۔ نوجوان سابقہ مترجم کو اس کے گھر کے قریب گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اس حملے میں اس کے دو سالہ بیٹے محمد کو بھی گولیاں لگیں۔ برطانوی فوجی اس مترجم کو ’’کرس‘‘ کے نام سے پکارتے تھے اور یہ 2008ء سے 2011ء کے دوران افغانستان کے خطرناک ترین علاقوں میں برطانوی فوجیوں کو مترجم کی خدمات فراہم کرتا رہا۔ اس کی طرف سے حکومت برطانیہ کو 10سے زائد مرتبہ جان کو لاحق خطرات کی بنا پر درخواست کی گئی تھی کہ اسے برطانوی ویزا دیا جائے لیکن حکومت برطانیہ کی طرف سے ہر بار مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ واضح رہے کہ برطانوی پالیسی کے مطابق صرف 2011ء کے بعد مسلسل ایک سال تک مترجم کے فرائض دینے والے افغانوں کو ویزا دیا جاسکتا ہے لیکن اب تک 300 افغان مترجموں میں سے صرف ایک شخص برطانوی ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

مزید : صفحہ آخر


loading...