یمن میں ہادی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں،مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے ،نواز شریف

یمن میں ہادی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں،مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے شانہ بشانہ ...

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،آن لائن ،آئی این پی) وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ سعودی عرب کی سالمیت کو اگر کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا سخت جواب دے گا، سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے، خلیجی تعاون کونسل پر واضح کر دیا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد پر عدم اطمینان غلط فہمی کا نتیجہ ہے، وہ شاید قرار داد کو سمجھ نہیں سکے، میڈیا میں قرار داد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں،ایران سے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے یمن میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنا خطے کے لئے خطرناک ثابت ہو گا، ایران اپنا اثر ورسوخ استعمال کرتے ہوئے حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لائے، منصور ہادی کی حکومت کی بحالی چاہتے ہیں۔ وہ پیر کو یہاں پریس کانفرنس میں یمن کی صورتحال کے بارے میں پالیسی بیان دے رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد حکومت کی پالیسی کے عین مطابق ہے تاہم میڈیا میں قرار داد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں بعض افواہیں خلیجی و برادر ملکوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کیلئے اڑائی جا رہی ہیں، ہم نے خلیج تعاون کونسل پر واضح کر دیا کہ قرار داد پر عدم اطمینان غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خلیجی اتحادی شاید پارلیمان کی قرار داد کو سمجھ نہیں سکے،بلا شک و شبہ ہم خلیجی اتحادیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یمن پر مشترکہ اجلاس کی قرار داد کے بعد کئی قسم کے سوالات سامنے آئے ہیں تاہم ہمارا موقف واضح ہے،سعودی عرب پاکستان کا اہم اسٹریٹیجک اتحادی ہے اور اس لئے یمن کے بارے میں پاکستان کی پالیسی اصولوں پر مبنی ہے اور سعودی عرب کی خود مختاری اور سالمیت کی حفاظت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر ہے اور پاکستان مشکل وقت میں اپنے دوستوں اور اسٹریٹیجک پارٹنرز کو تنہا نہیں چھوڑے گا بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔ نواز شریف نے کہا کہ قرار داد میں یہ واضع طور پر کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو کسی بھی قسم کا خطرہ ہوا تو پاکستان کا رد عمل سخت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے دورہ پاکستان کے موقع پر ملاقات کے دوران میں نے ان پر یہ واضح کیا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے یمن کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنا قابل مذمت ہے اور اس سے بدترین مثال قائم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کی بغاوت کے خطے میں خطرناک نتائج برآمد ہوں گے، ہم منصور ہادی کی منتخب حکومت کی بحالی پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر واضح کر دیا کہ وہ حوثی باغیوں کو مذاکرات کی میز پر لائے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یمن کے مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے ہی حل چاہتے ہیں اور منصور ہادی کی حکومت کی بحالی امن کی جانب اہم قدم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں نے قانونی حکومت کو ختم کر کے بدامنی کی بنیاد رکھی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب کی خود مختاری کو درپیش خطرات سے متعلق رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے

مزید : صفحہ اول


loading...