پی ٹی اے کا موبائل سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کا آڈٹ کا فیصلہ

پی ٹی اے کا موبائل سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کا آڈٹ کا فیصلہ

 اسلام آباد(آن لائن،اے این این)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے) نے موبائل سموں کی بائیومیٹرک تصدیق کے عمل کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی اے نے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 12 اپریل کی رات 12 بجے سموں کی تصدیق کا حتمی مرحلہ ختم ہوچکا ہے اور اب تک جتنی سموں کی بائیو میٹرک تصدیق ہوئی ہے ان کا آڈٹ کرایا جائے گا۔ آڈٹ میں تمام کمپنیز تصدیق شدہ سمز کے ڈیٹا کا مکمل ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔ خط میں وزارت داخلہ سے آڈ ٹ کمیٹی قائم کرنے کیلئے نام طلب کیے گئے ہیں۔ پی ٹی اے نے خط کے ذریعے آگاہ کیا ہے کہ کسی ایک غیر قانونی سم کی موجودگی کا ذمہ دار کمپنی کا سی ای او ہوگا اور غیر قانونی سمز کے استعمال پر کارروائی متعلقہ کمپنی کے سی ای او کے خلاف ہوگی۔ ذرائع کے مطابق تین ماہ کے دوران بائیو میٹرک سسٹم کے تحت تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعددوکروڑپچا س لاکھ نوے ہزار سموں کو بلاک کیا گیا ہے جبکہ صارفین نے سات کروڑ دس لاکھ دس ہزار سموں کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے ۔ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سترہزار سمیں صارفین کی جانب سے مسترد کی گئی ہیں جو کہ غلط ناموں پر رجسٹرڈ کی گئی تھیں یا کسی کے ز یر استعمال نہیں تھیں۔ ڈیڈ لائن کی تکمیل تک نوے لاکھ بیس ہزار سموں کی تصدیق نہیں ہوئی جنہیں بلاک کیا جائے گا۔ حکومت نے 16دسمبر 2014ء کو پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد قومی ایکشن پلان کے تحت سموں کی بائیو میٹرک تصدیق کا فیصلہ کیا تھا ۔ جو سمیں بلاک کی گئی ہیں ان میں زیادہ تر نارویجن کمپنی ٹیلی نار کی ہیں جن کی تعداد 8.53 ملین ہے جبکہ موبی لنک کی7.55، زونگ کی4.5 اور یوفون کی 3.86 ملین سمیں بلاک کی گئی ہیں۔ اسی طرح وارد کی1.65 ملین سموں کو تصدیق نہ ہونے کے باعث بلاک کیا گیا ہے۔

مزید : صفحہ اول


loading...