حکومت مسلمانوں کو چار سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہ دے،بھارتیہ جنتا پارٹی

حکومت مسلمانوں کو چار سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہ دے،بھارتیہ جنتا پارٹی

نئی دہلی(اے این این) بھارتیہ جنتا پارٹی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی مسلمانوں کو چار سے زائد بچے پیدا کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور خلاف ورزی پر ناصرف کارروائی بلکہ ووٹ دینے کا حق بھی واپس لیا جائے۔نئی دہلی میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے مرکزی رہنما ساکشی مہاراج نے کہا کہ جب ہم ہندؤوں سے4بچے پیدا کرنے کی بات کرتے ہیں تو سب کو آگ لگ جاتی ہے لیکن جب مسلمان کی 4بیویاں اور40 بچے ہوتے ہیں تو اس پر کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہوتی لیکن ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارت کے تمام طبقات اور افراد کیلئے آبادی کے حوالے سے ایک ہی قانون ہونا چاہئے اور جو اس کی خلاف ورزی کرے اس سے ووٹ دینے کے حق واپس لے لینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی آبادی کو روکنے کیلئے ہندو مرد اور عورتوں کی نس بندی کا فیصلہ کیا گیا لیکن مسلمانوں نے اس سے انکار کیا لہذا قانون سب کیلئے ایک ہی ہونا چاہئے۔انھوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کا حکومتی اقدام ملک میں آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے اٹھایا گیا لیکن مسلمانوں نے اس پر عمل نہیں کیا اس لئے آزادی کے وقت 30کروڑ کی آبادی والے ملک میں اب ایک ارب 30 کروڑ سے زائد افراد بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک بننے سے اب تک مسلمانوں کو کئی طرح سے رعایت اور چھوٹ دی گئی جس نے ملک کو تباہ کردیا لیکن بی جے پی کی حکومت کی میں ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

مزید : صفحہ اول


loading...