سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں کنسلٹنٹ فرموں کی چاندی سالانہ کروڑوں روپے بٹورنے لگیں

سی اینڈ ڈبلیو پنجاب میں کنسلٹنٹ فرموں کی چاندی سالانہ کروڑوں روپے بٹورنے ...

 لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو پنجاب میں کنسلٹنٹ فرموں کی چاندی۔کام نہ کاج سالانہ کروڑوں روپے بٹورنے لگیں۔محکمے کے ریٹائرڈ چیف انجنئیروں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے اپنی فرمیں بنالیں۔سرکاری منصوبوں کی تکمیل کے دوران ٹھیکیداروں اور انجنئیروں پر چیک اینڈبیلنس رکھنے کے لیے معاہدوں میں شامل کی جانے والی یہ فرمیں خود کرپشن کا منبہ بن چکی ہیں۔آر ای ،اور اے آر ای بلوں کی ادائیگی کے لیے رپورٹس تیار کرنے پر ٹھیکیداروں سے کھلے عام رشوت وصول کرنے لگے۔ وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے ہدایات موصول ہونے پرسی اینڈڈبلیو پنجاب نے چھان بین شروع کردی ہے۔معلوم ہواہے کہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کی ہدایات کی روشنی میں صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات نے سی اینڈڈبلیو کے چیف انجنئیر ھائی ویز نارتھ اور چیف انجنئیر ھائی ویز ساؤتھ کو محکمے کے ریٹائرڈ چیف محمد عارف اور محمد زبیر کی کنسلٹنٹ فرم اے زیڈ (AZ)کے خلاف چھان بین شروع کردی ہے۔مذکورہ فرم کے حوالے سے الزامات ہیں کہ انہوں نے محکمے سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد کنسلٹنسی فرم قائم کرلی ہے۔ جس میں محکمے کے ہی ریٹائرڈ انجنئیروں کو ملازم رکھا گیا ہے۔جو خود عمر بھر سرکاری منصوبہ جات میں قومی خزانے کو خالی کرتے رہے۔اور اب اے زیڈ کے لیے کام کرنے لگے ہیں۔ تاکہ ٹھیکیداروں سے رقوم بٹوری جاسکیں۔یہ بھی الزام ہے کہ اے زیڈ اپنے تمام منصوبوں میں کام کی رفتار سست رکھتے ہیں تاکہ ملازمین کی تنخواہوں وغیرہ میں ٹائم ایکسٹیشن حاصل ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے سرکاری منصوبوں میں کنسلنٹ رکھنے کا فیصلہ کرپشن کے خاتمے اور معیار کو بلند رکھنے کے لیے کیا تاکہ دوران تکمیل کنسلٹنٹ فرمیں سرکاری منصوبہ جات کی سپروئین کریں۔اور طے پایا کہ جب تک کنسٹلنٹ رپورٹ نہیں کرینگے۔ تب تک کسی بھی منصوبے میں کام کرنے والے ٹھیکیدار کو ادائیگی نہیں کیا جائیگی۔ لیکن بتایا گیا ہے کہ کنسلٹنٹ تعینا ت ہونے کے باوجودسرکاری منصوبوں میں کرپشن اور غیرمعیاری مٹیریل کا استعمال ختم نہیں ہوسکا۔ اور پریکٹس میں ہے کہ کنسلٹنٹ فرموں کی طر ف سے سرکاری منصوبوں پر تعینات کئے جانے والے ریذیڈنٹ انجنئیر اور اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجنئیر جتنی تنخواہ فرم سے حاصل کرتے ہیں ۔ اس سے کہیں زیادہ پراجیکٹ کے ٹھیکیدار سے حاصل کرتے ہیں اور رشوت کے بغیر انٹر میڈیٹری سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتے ۔ کیوں کہ جب تک آرای یا اے آر ای سرٹیفکیٹ جاری نہیں کرتے تب تک ایس ڈی او اور ایکسئین دستخط نہیں کرسکتے اور نہ ہی ٹھیکیدار کو بل کی ادائیگی ہوپاتی ہے۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ کسی بھی منصوبے میں ناقص مٹیریل کے استعمال یا کرپشن پر سی اینڈڈبلیو اور اینٹی کرپشن وغیرہ محکمے کے سب انجنئیر ، اسسٹنٹ انجنئیر یا ایگزیکٹو انجنئیر کے خلاف تو فوری طورپر پیڈا ایکٹ2006یا انکوائری اور فوجداری مقدمے کے تحت کارروائی شروع کردیتے ہیں۔ لیکن اس کرپشن میں بنیادی کردار ادا کرنے والی کنسلٹنٹ فرم یا اس کے ریذیڈنٹ یا اسسٹنٹ ریذیڈنٹ انجنئیر کے خلاف کارروائی نہیں کرتے اور کنسلٹنٹ فرموں کے یہ انجنئیر بھی اکثر اوقات دو، چار ماہ کی ملازمت کے بعد نوکری چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ چلے جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات ایک ہی سرکاری منصوبے پر کنسلٹنٹ فرموں کے کئی کئی آرای یا اے آر ای تعینات رہتے ہیں۔ اور انہیں منصوبے کے متعلق ٹھیک طرح سے علم بھی نہیں ہوتا۔انجنئیر ایسوسی ایشن کے رہنما صفدر رضا کا کہنا ہے کہ محکمے کے انجنئیروں کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے کسی بھی سرکاری منصوبے میں ناقص مٹیریل کے استعمال اور کرپشن پر کنسلٹنٹ فرم اور اس کے ریذیڈنٹ و اسسٹنٹ انجنئیر کے خلاف بھی کارروائی کو یقینی بنایا جائے بصورت دیگر کرپشن پر قابونہیں پایا جاسکے گا۔ ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ صوبے کی بیسیوں کنسلٹنٹ فرمیں ہر سرکاری منصوبے میں سالانہ کروڑوں روپے اسی طرح بٹور رہی ہیں۔ کنسلٹنٹ فرمیں

مزید : صفحہ آخر


loading...