سعودی عرب فوج بھیجنے کے معاملے پر وزیر اعظم کا تازہ بیان بھی خاموش ہے

سعودی عرب فوج بھیجنے کے معاملے پر وزیر اعظم کا تازہ بیان بھی خاموش ہے

تجزیہ :قدرت اللہ چودھری

  سعودی عرب نے پاکستان سے یمن کے معاملے پر جو عملی تعاون طلب کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان اس عرب اتحاد کا حصہ بن جائے جو سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ہوائی حملے کر رہا ہے اورزمینی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ سعودی عرب اس بات کا خواہاں ہے کہ پاکستان اپنی بحریہ کے جہاز فضائیہ کے طیارے اور بری فوج کے جوان سعودی عرب بھیجے۔سعودی عرب کے اس مطالبے میں پہلے بھی کوئی ابہام نہیں تھااور وزیر دفاع خواجہ محمدآصف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں بتایا تھا کہ سعودی عرب موجودہ بحران میں کس قسم کے تعاون کا طلب گار ہے۔اس پرابھی پاکستان نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ پارلیمنٹ کی قرارداد آگئی ، اس قراردادپر سعودی عرب کا ابتدائی رد عمل تو محتاط اور سفارتی نزاکتوں کاآئینہ دار تھا لیکن متحدہ عرب امارات کے نائب وزیر خارجہ ڈاکٹر انور محمد قرقاش نے جو بیان دیا اس میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھی گئی ،پاکستان کو سیدھے سبھاؤ دھمکی دیدی گئی اورکہا گیا کہ پاکستان کو ’’ اس اہم مسئلے پر متضاد اور مبہم رائے کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی ‘‘تاہم سعودی وزیر مذہبی امور ڈاکٹرعبدالعزیز بن عبداللہ العمار نے اسے دوستانہ گلہ شکوہ قرار دیدیا۔البتہ خود انہوں نے کہا کہ یمن پر ثالثی مذاق ہے، انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اس معاملے میں سعودی عرب کا ساتھ دے گا ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا باغیوں کا ہتھیار پھینکنا اور قانونی حکومت کی بحالی مسئلے کا حل ہے۔ حوثی انتخابات میں حصہ لے کر قانونی حکومت حاصل کرلیں تو کوئی اعتراض نہیں ۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تہران روزانہ اسلحے کے تین جہاز یمن بھیج رہا ہے۔

اماراتی وزیرکے بیان پر ایک رد عمل تو چودھری نثار علی خان نے دیا جن کا کہنا تھا کہ یہ بیان پاکستانی عوام کی توہین اور پاکستان کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہوں نے اس بیان کو سفارتی آداب کے بھی منافی قرار دیاہے۔دوسری جانب پارلیمینٹ کی قرارداد اندرون اوربیرون ملک ہر جگہ زیر بحث ہے ،اب وہ لوگ بھی اس قرارداد کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں جو خود بھی شریک اجلاس تھے، اورجو کچھ وہ اب کہہ رہے ہیں بہتر تھا کہ وہ اجلاس کے دوران کہتے ،اورکھل کر کہتے کہ وہاں کسی پر کوئی پابندی نہ تھی ۔لیکن لگتا ہے کہ اب ایک حلقے نے پارلیمانی قرارداد کو متنازعہ بنانے کا مشن سنبھال لیا ہے۔

اس پس منظر میں پیر کے روز میاں نواز شریف نے پریس کانفرنس میں پارلیمنٹ کی قرارداد کاجو دفاع کیا وہ بر وقت ہے ،اپنے پالیسی بیان میں وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی متفقہ قراردادحکومت کی پالیسی کے عین مطابق ہے تاہم میڈیا میں قرارداد کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے سے غلط فہمیاں پیداہوئیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ قراردادپرعدم اطمینان غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔وزیر اعظم نے اپنے بیان میں حکومت کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب کی سالمیت کو اگر کوئی خطرہ ہوا تو پاکستان اس کا سخت جواب دے گا اورہم سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے تاہم نواز شریف کے اس بیان میں اس سوال کا کوئی جواب موجود نہ تھا کہ کیاپاکستان سعودی عرب کے مطالبے کے جواب میں فوج بھیج رہا ہے یا نہیں بھیج رہا ، اس حوالے سے ان کا یہ بیان اب بھی تشنہ ہے ۔عین ممکن ہے کہ سفارتی نزاکتوں کی وجہ سے وہ فی الحال کھل کر فوج بھیجنے کی بات نہ کرنا چاہتے ہوں لیکن جب سعودی وفد خاص اس مقصد کے لئے پاکستان آیا ہوا ہے تو اسے تو مطمئن کرنا حکومت کا فرض ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی پوزیشن صاف صاف بتا دے کہ کیا وہ موجودہ حالات میں فوج بھیج بھی سکتا ہے یا نہیں، اگر فوج بھیجنے کی پوزیشن میں نہیں ہے تو بھی سعودی دوستوں کو ان عوامل کی نشاندہی کردینی چاہیے جن کی بنا پر فوج بھیجنا مشکل ہے یا ممکن نہیں ہے۔ اب اگر اس معاملے کو مزید ٹالا گیا تو مزید غلط فہمیاں بھی پیدا ہوں گی جو پہلے سے پھیل رہی ہیں اور اماراتی وزیر کا بیان انہی حقیقی یا موہوم غلط فہمیوں کانتیجہ ہو سکتا ہے ۔یہ درست ہے کہ پاکستان جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونے کاباربار اعلان کر رہا ہے لیکن کیا یہ لمحہ ابھی تک نہیں آیا۔ سعودی عرب تو فوج طلب کر رہا ہے ۔وہ تو محسوس کر رہا ہوگا کہ اس کی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں،ایسے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑاہونے کے اعلانات اور بالفعل فوجی تعاون دو الگ الگ باتیں ہیں اور یہ بات اماراتی وزیرنے بھی کہہ دی ہے کہ اب دیکھنا ہوگا کہ عملی طور پر تعاون کون کر رہا ہے اورمحض تعاون کے خالی خولی دعوے کون کر رہاہے۔

پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد جس انداز میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے بے اثر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کا تو ایک مطلب یہ بھی ہے کہ خارجہ پالیسی بحث و مباحثے اور غوروخوض کے بعد ٹھنڈے دماغ سے نہیں،جلسوں اور جلوسوں کی جذباتی اور ہیجانی فضا میں بنائی جائیگی۔وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے بیان میں اگرچہ قراردادکابھرپور دفاع کیا ہے لیکن وطن عزیز کے کچھ حلقے اس قرارداد کے حوالے سے اپنی اپنی من پسند خارجہ پالیسی بنانے کے متمنی ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کی سڑکوں پر خارجہ پالیسی کے خدوخال مرتب نہ کریں اور اگر ان کے دل عملی اقدامات کے لئے زیادہ ہی مچل رہے ہیں تو جا کر اپنی پسند کے ملکوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں ۔ پاکستان کی حکومت سفارتی حکمت عملی کو بہتر سمجھتی ہے اور وقت کی نزاکت کو مد نظر رکھ کر درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...