کرپسن نا قابل برداشت ،عدالتی نظام کالی بھیڑوں سے پاک کیا جائے

کرپسن نا قابل برداشت ،عدالتی نظام کالی بھیڑوں سے پاک کیا جائے

 کوئٹہ(اے این این) چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس نورمحمد مسکان زئی نے کہا ہے کہ کرپشن ناقابل برداشت ہے ،عدالتی نظام کو کالی بھیڑوں سے پاک کیا جائے ،مضبوط بار اور مستحکم عدلیہ ہی معاشرے کو سستا اور معیاری انصاف فراہم کرسکتی ہے ، وکلاء عوام بالخصوص غریبوں اور لاچاروں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے عدلیہ کا ساتھ دیں،علی احمد کرد کو ایوارڈ ملنا پورے صوبے کیلئے اعزازکی بات ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے سنےئر وکیل علی احمد کرد کو ایوارڈ ملنے کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے سنےئر وکیل علی احمد کرد‘بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد ترین اور دیگر وکلاء نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس نے کہاکہ ضیاء الحق کا دور ہو یا مشرف کا دونوں میں وکلاء نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے بول بالا کیلئے کردار ادا کیا تاہم انصاف کی فراہمی اس وقت ہی ہو ممکن ہو سکتی ہے جب بار مضبوط اور مستحکم ہو اور وکلاء عدلیہ کا حصہ بن کر کردار ادا کریں، وکلاء غریبوں ، ناداروں ، لاچاروں اور بے بسوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے اپنی خدمات پیش کریں اور عدلیہ کا ساتھ دیں ۔ انہوں نے کہاکہ وکلاء اور انتظامیہ عدلیہ میں کرپشن کے خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کریں کیونکہ عدلیہ میں کرپشن ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے اور ہم کرپشن کا جڑ سے خاتمے چاہتے ہیں تاکہ عوام کو فوری اور سستا انصاف مل سکے۔ انہوں نے علی احمد کرد کو مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ ان کوایوارڈ ملنا پورے صوبے کیلئے اعزاز ہے ۔اس موقع پر علی احمد کرد نے کہا کہ وکلاء نے مشرف کے دور میں آزاد عدلیہ کیلئے جو قربانی دی ان کو برقرار رکھنے کیلئے ہم بھرپور کوشش کرینگے انہوں نے کہاکہ وکلاء نہ صرف مشرف بلکہ ضیا ء دور میں بھی بڑی مشکلات کا سامنا کیا انہوں نے کہاکہ مجھے جو ایوارڈ ملا وہ پورے صوبے کیلئے اعزاز ہے اور میں اپنی جانب سے تمام عوام کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ

مزید : صفحہ آخر


loading...