جوڈیشل کمیشن، دھاندلی کے حوالے سے پنڈورا بکس کھلے گا

جوڈیشل کمیشن، دھاندلی کے حوالے سے پنڈورا بکس کھلے گا

تجزیہ چودھری خادم حسین

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان معاہدہ کے بعد صدر کی طرف سے جاری کردہ آرڈیننس کے تحت جوڈیشل کمیشن قائم ہو گیا جس نے انتخابی دھاندلیوں کے حوالے سے کام بھی شروع کر دیا، کمیشن سپریم کورٹ کے تین فاضل جج صاحبان پر مشتمل ہے جس کی سربراہی خود چیف جسٹس کررہے ہیں، کمیشن نے 15اپریل (بدھ) تک متعلقہ حضرات سے اعتراضات طلب کرلئے ہیں اور پہلی سماعت جمعرات (16اپریل) کو ہو گی۔

اس سلسلے میں توقع کے مطابق پنڈورا بکس کی صورت بن گئی ہے۔ تحریک انصاف تو دھاندلی پر احتجاج کرتی چلی آ رہی تھی اور اب کمیشن بنا ہے تو پاکستان پیپلزپارٹی۔ عوامی نیشنل پارٹی۔ مسلم لیگ (ق) سمیت متعدد جماعتوں نے کمیشن سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا اور کمیٹیاں بھی بنا دی ہیں۔ تحریک انصاف کی ٹیم عبدالحفیظ پیرزادہ، پیپلزپارٹی کی چودھری اعتزاز احسن اور مسلم لیگ (ق) کی ڈاکٹر خالد رانجھا کی قیادت میں کیس لڑے گی۔ اے این پی نے بھی فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔کمیشن نے اپنا یہ کام 45روز کے اندر کرنا ہے جبکہ تحریک انصاف کی طرف سے سابق چیف جسٹس افتخار چودھری اور نگران وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی کے خلاف بھی الزام لگائے اور وہ بھی کمیشن کے روبرو اپنا دفاع کریں گے اور جواب دیں گے۔ جسٹس افتخار چودھری نے تو خود پیش ہونے کا بھی اعلان کیا ہے۔

کمیشن کے قیام کے بعد ہی سے قیاس آرائیاں اور بیان بازی شروع ہوگئی ہے۔ چودھری اعتزازاحسن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے تحریر وائٹ پیپر کے علاوہ جماعت کی طرف سے مہیا کئے گئے ثبوت بھی پیش کریں گے ان کے مطابق باضابطہ دھاندلی ثابت ہوئی تو حکومت کو اقتدار چھوڑنا ہوگا، یہی موقف تحریک انصاف اور مسلم لیگ(ق) کا بھی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تحریک انصاف تو نئے انتخابات چاہتی ہے۔ ان فریقین کے وکلاء کے نزدیک بھی یہی حال ہے۔اگرچہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کہتے ہیں۔ پیپلزپارٹی حکومت نہیں گرنے دے گی کہ جمہوری عمل جاری رہنا چاہیے اور حکومت کو اپنی معیاد پوری کرنا چاہیے، تاکہ یہ عمل جاری رہے۔

ادھر سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کے ایک خط نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مستعفی اراکین کے استعفے منظور نہ کرکے آئین کی خلاف ورزی کی گئی ہے کہ آئین کے مطابق جونہی کوئی رکن استعفیٰ دیتا ہے۔ وہ از خود فی الفور منظور ہو جاتا اور نشست خالی ہو جاتی ہے۔ سپیکر نے یہ استعفے بھی عدالت عظمیٰ ہی کے ایک فیصلے کی روشنی میں اس عذر کی بناء پر منظور نہیں کئے کہ استعفیٰ دینے والا رکن ان کے چیمبر میں اپنے استعفے کی تائید کرنے اور دستخط کی تصدیق کرنے نہیں آیا، یہ آئینی نکتہ اپنی جگہ ہے کہ ایک اور آرٹیکل اور قواعد کی رو سے چالیس روز مسلسل (اسمبلی نشستوں) سے غیر حاضر رہنے والا رکن رکنیت کھو دیتا ہے۔ سابق چیف جسٹس نے جو چٹھی لکھی وہ پہلے حصے کے مطابق ہے۔ سپیکر کو موصول ہو گئی جو قانونی رائے کے بعد اس پر فیصلہ دیں گے جبکہ گزشتہ روز قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ لاہور آئے تو انہوں نے اس موقف کو مسترد کر دیا اور بڑی بات یہ کہی کہ ایسا کہنے والوں کو اسمبلی کے قواعد ہی کا علم نہیں کہ چالیس مسلسل اجلاسوں سے غیر حاضر رہنے والا اس وقت نشست سے محروم ہوتا ہے جب کوئی رکن اسمبلی میں اس حوالے سے تحریک پیش کرے اور وہ اکثریت سے منظور ہو جائے یہاں تو کسی نے ایسی کوئی تحریک ہی پیش نہیں کی۔انہوں نے سوال کیا کہ افتخار چودھری صاحب آٹھ ماہ سے کہاں تھے کہ ان کو اب یاد آیا ہے یوں بالواسطہ ہی نہیں واضح طور پر سید خورشید شاہ نے تحریک انصاف کی حمایت کر دی ہے، وہ تو شکر کرتے ہیں کہ تحریک انصاف والے اسمبلیوں میں واپس آئے اور ہاؤس مکمل ہوئے اب کارروائی آگے بڑھے گی۔

ابھی سماعت شروع نہیں ہوئی تو یہ صورت حال ہے جب فاضل کمیشن نے جمعرات سے باقاعدہ کام شروع کیا تو پھر صورت حال کیا ہوگی۔ وکلاء کی جھڑپیں دیکھنے اور سننے والی ہوں گی۔ یوں بھی فاضل کمیشن کھلی سماعت کرے گا اور اس کی کارروائی سننے کی بھی اجازت ہوگی اور یہ شائع اور نشر بھی ہوگی۔

اب سوال یہ ہے کہ تحریک انصاف کو تو یہ ثابت کرنا ہے کہ ایک سازش کے تحت منظم دھاندلی ہوئی جس کا مقصد مسلم لیگ (ن) کو برسراقتدار لانا تھا۔ اگر تحریک انصاف یہ ثابت کر دیتی اور فاضل کمیشن یہ رائے یا سفارش کرتا ہے کہ ایسا ہوا کہ ایک سازش کے تحت منظم دھاندلی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کو اقتدار دلایا گیا تو معاہدے کے مطابق وزیراعظم خود اسمبلی تحلیل کر دیں گے اور بوجودہ چاروں اسمبلیاں بھی تحلیل ہوں گی اور نئے انتخابات ہوں گے۔ عمران خان اسی لئے تو کہتے ہیں کہ 2015ء انتخابات کا سال ہے اگرچہ اب انہوں نے اسے 2016ء تک یہ کہہ کر بڑھا دیا کہ اگلے سال ہوگا۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد کے حوالے سے مشکل میں پڑ گئی ہے۔ خلیج سے سخت ردعمل آیا جبکہ سعودی حکومت کی طرف سے تو وزیر اور مشیر بھی آئے ہیں جنہوں نے مذاکرات کرکے پاکستان کو غیر جانبداری ترک کرکے حلیف بننے کے لئے کہا ہے اور دباؤ بھی بڑھایا جا رہا ہے۔ عرب لیگ کی طرف سے باقاعدہ شمولیت کی توقع جبکہ پاکستان یمن کی حد تک براہ راست کارروائی میں حصہ نہیں لے گا البتہ یہ یقین دہانی سو بار بھی کرائی جا چکی کہ حرمین شریفین اور سرزمین حجاز کو کوئی بھی خطرہ ہو، پاکستان دل و جان سے مدد کرے گا اور افواج بھی بھیجے گا، جبکہ سعودی حکومت کی طرف سے مصالحت کی جو شرط پیش کی گئی اسے حوثی قبائل ماننے کو تیار نہیں ہوں گے کافی پیچیدہ صورت حال ہے، نتیجہ بھی پتہ چل جائے گا۔

پنڈورا بکس

مزید : تجزیہ


loading...