پاکستان سعودی عرب کے ساتھ۔۔۔سوالات کے جواب ملنے کے بعد

پاکستان سعودی عرب کے ساتھ۔۔۔سوالات کے جواب ملنے کے بعد
پاکستان سعودی عرب کے ساتھ۔۔۔سوالات کے جواب ملنے کے بعد

  


بات سادہ اور سمجھنے کی ہے۔ کہ سعودی عرب کی مدد اس کی چاہت کے مطابق کی جائے گی۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد میں گنجائش موجود ہے۔لیکن ابھی حکومت اور میاں نواز شریف اس کا اعلان نہیں کرنا چاہ رہے۔ اس ضمن میں حکومت مخالف لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کنفیوز ہیں۔ پارلیمنٹ نے انہیں باندھ دیا ہے۔ کوئی مستقل وزیر خارجہ نہیں ہے۔ اس لئے خارجہ پالیسی کمزور ہے۔ فوج نہیں مان رہی۔ اس لئے تاخیر ہے۔ لیکن کسی کو شائد آج یاد نہیں کہ نائن الیون کے بعد اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے پاس وزیر خارجہ بھی تھا۔ فیصلہ کرنے کی قوت بھی تھی۔ فوج بھی ان کے براہ راست ماتحت تھی۔لیکن وہ ایک فون کال پر ہی سب کچھ مان گئے۔ گو کہ بعد میں انہوں نے اپنی کتاب میں سب کچھ ماننے کی یہ توجیح پیش کی ۔ کہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انہیں نہ ماننے کی صورت میں پاکستان کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکی دی تھی۔ اور بہادر جنرل اس دھمکی سے مرعوب ہو گئے تھے۔ کہ کہیں امریکہ پاکستان پر بھی بمباری نہ شروع کر دے۔

اسی طرح آج بھی متحدہ عرب امارات کے وزیر نے بھی پاکستان کو دھمکی دی ہے۔ کہ پاکستان کو اپنے فیصلوں کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ پاکستان ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ دوستی کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہا ہے۔ متحدہ ا مارات کے وزیر کی دھمکی کا پاکستان نے باضابطہ کوئی جواب نہیں دیا۔ بلکہ یہ کہہ دیا گیا کہ چونکہ متحدہ امارات کے وزیر کا بیان سرکاری طور پر نہیں بتا یا گیا اس لئے اس پر رد عمل نہیں دیا جائے گا۔ بظاہر درست بات لگتی تھی کہ جب تک سرکاری سطح پر بات نہ ہوئی ہو۔ اس کا جواب نہیں دینا چاہئے۔ لیکن اس بیان پر پاکستان میں شدید رد عمل تھا۔ اس لئے ایسا لگ رہاہے کہ چودھری نثار علی خان سے جواب بھی ایک حکمت عملی تھا تاکہ غیر سرکاری بیان کا غیر سرکاری جواب دے دیا جائے۔ لیکن فی الحال ایسا لگ رہا ہے کہ میاں نواز شریف نے متحدہ عرب امارات کے وزیر موصوف کی دھمکی کا کوئی خاص اثر نہیں لیا ہے۔ اسی لئے میاں نواز شریف نے گزشتہ روز اپنے وضاحتی بیان میں پارلیمنٹ کی مشترکہ قرارداد کا دوبارہ اعادہ کر دیا ۔ اور فی الحال سعودی عرب فوج بھیجنے کا اعلان نہیں کیا۔ اگر ماضی کو سامنے رکھا جاتا یا اس وقت سابق صدر پرویز مشرف ہی بر سر اقتدار ھو تے تو وہ اب تک سعودی عرب اور متحدہ امارات کے تمام مطالبات مان چکے ہو تے۔ لیکن یہ جمہوریت ہے ۔ جس میں پارلیمنٹ کا سہارا طاقت بھی دیتا ہے اور فیصلوں میں مدد بھی کرتا ہے۔

میاں نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اپنے مختصر ترین خطاب میں کہا تھا کہ انہیں ابھی مختلف سوالات کے جواب کا انتظار ہے۔ اس لئے ابھی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ معاملات حساس ہیں۔ اس لئے پارلیمنٹ میں کھل کر بات نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس کوئی مینڈیٹ حاصل کرنے کے لئے نہیں بلا یا گیا ۔ بلکہ صرف ارکان کی راہنمائی حاصل کرنے کے لئے بلا یا گیا ہے۔ سب کو امید تھی کہ پار لیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے آخری روز وزیر اعظم میاں نواز شریف خطاب کریں گے۔ لیکن انہوں نے خطاب نہیں کیا۔ وہ خاموش رہے۔ شائد اس لئے کہ انہیں تب تک سوالات کے جواب نہیں ملے تھے۔ اسی طرح وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کل بھی پارلیمنٹ کی قرارداد سے آگے بات نہیں کی۔ ان کے پالیسی بیان کو سن کر ایسا لگتا ہے کہ جن سوالات کے جوابات کی انہیں تلاش تھی وہ انہیں ابھی نہیں ملے۔ سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد جو آجکل پاکستان کے دورہ پر ہے۔ اس کے لہجے میں گو کہ نرمی ہے۔ لیکن لگ یہی رہا ہے کہ سوالات کے جواب ابھی ان کے پاس بھی نہیں ہیں۔ اس لئے سفارتکاری کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کیونکہ میاں نواز شریف کو جن سوالات کے جواب کی تلاش ہے ان کا جواب سفارتکاری ہی سے ملے گا۔

بات اس سے زیادہ نہیں لکھی جا سکتی۔ فوج بھیجنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ اس سے قبل بہت سے معاملات طے ہو نا ضروری ہیں۔ وہ ابھی طے نہیں ہو ئے ہیں۔ فوج کیا کرے گی۔ اس کے ٹارگٹ کیا ہو نگے۔ وہ کس کی کمان میں ہو گی۔پاکستان کو کیا ملے گا۔ پاکستان کی معیشت کو اس سے کیا نقصان ہو گا۔ پاکستان کے دوست کیا چاہتے ہیں۔ کیا سعودی عرب کے لئے پاکستان چین ترکی کی قربانی دے سکتا ہے۔ اگر یہ قربانی دینی ہے تو اس کی کیا قیمت ہو گی۔ جب پاکستان فوج بھیج دے گا تو بھارت کیا کرے گا۔ایران کیا کرے گا۔ کل ہی ایرانی وزیر داخلہ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے ساتھ پاکستانی سرحد پر کچھ علاقوں میں پاکستان کی رٹ نہیں ۔ ایران یہاں سیکیورٹی دینے کو تیار ہے۔ ماضی میں بھی ایران اور بھارت کا اتحاد ی رہا ہے۔ ان تمام سوالا ت کے جواب میاں نواز شریف کی میز پر ہونے چاہئے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا تو ہے کہ انہیں سوالات کے جواب کا انتظار ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ کی قرارداد فی الوقت بہترین ہے۔ اگر صورتحال بدلتی ہے تو دوبارہ اجلاس بلا یا جا سکتا ہے۔ اس لئے صبر کی ضرورت ہے۔ یہ پرویز مشرف کی طرح فیصلے کرنے کا وقت نہیں ۔ کہ آج سو ارب ڈالر کانقصان ہو گیا ہے اور کوئی پر سان حال نہیں۔ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا وقت ہے۔ اس لئے شائد اس میں ابہام نہیں کہ سعودی عرب کی ان کی مرضی کے مطابق مدد کی جائے گی۔ لیکن بات سمجھنے کی ہے ۔ کہ سوالات کے جواب ملنے کے بعد۔

مزید : کالم


loading...