گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چشتیاں کے پرنسپل پر کرپشن کے الزامات

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج چشتیاں کے پرنسپل پر کرپشن کے الزامات

 لاہور(کر ائم سیل)گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج چشتیا ں کے پرنسپل پر کرپشن کے الزامات،کالج فنڈز میں کروڑوں کی خررد برد، طلباء سے جرمانوں کی مد میں زبردستی سالانہ لاکھوں روپے جرمانہ کی وصولی،کالج میں موجود لاکھوں کی مالیت کے درخت بغیر نیلامی کٹوا کر فروخت کردیئے، درجہ چہارم کے ملازمین کے زبر دستی تبادلے، اپنے رشتہ دار تعینات کروا لئے، متاثرین کی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن بہاولنگر کو درخواستیں، ڈائریکٹر اینٹی کرپشن نے با اثر پرنسپل کے خلاف کارروائی سے معذوری ظاہر کردی۔تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پوسٹ گریجو ایٹ کالج چشتیا ں کے ا ساتذہ، طلبہ اورملازمین نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن لاہور کو دی جا نے والی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ پرنسپل نے کرپشن کی انتہا کرتے ہوئے چھ سالوں میں کرپشن اور اقرباء پروری کے ریکارڈ قائم کردیئے۔بہاولپور بورڈ میں پوزیشنز حاصل کرنے پر ملنے والی لاکھوں کی رقم جو کالج اساتذہ میں تقسیم کی جانی تھی اکیلے ہی ہڑپ کرلی۔کالج میں تعینات ملازمین کو اپنے ذاتی کاموں کیلئے ڈیوٹیاں سونپ دیں اور اس کے خلاف آواز بلندکرنے والے درجہ چہارم کے 11ملازمین کے دوردراز علاقوں میں تبادلے کرواکے اپنے قریبی رشتہ دارتعینات کروا لئے ۔گورنر پنجاب کی آمد کے موقع پر کالج میں موجود لاکھوں کی مالیت کے درخت کٹواکر بغیر نیلامی فروخت کردیئے ،ظلم کے خلاف آوار بلند کرنے پر مزید4ملازمین کو ڈسپوزل پر بھیج دیا ہے ، طلبا سے جرمانوں کی مد میں لاکھو ں روپے وصول کئے جاتے ہیں اور آواز بلند کرنے والے طلبہ پر غنڈہ گرد عناصر سے تشدد کروایا جاتا ہے۔پرنسپل کی ملی بھگت سے کلیریکل اسٹاف نے طلباء سے داخلوں کی مد میں فی کس 3500روپے وصول کرکے بینک میں فی کس 800روپے جمع کروائے اور باقی رقم ہڑپ کرلی ۔اپنی کرپشن چھپانے کیلئے پرنسپل نے ایک کلرک سے ملی بھگت کرکے کالج کے ریکارڈ نذر آتش کروا دیا جس کا ابھی تک کوئی آڈٹ نہیں ہو سکا۔پرنسپل کی کرپشن کے خلاف اساتذہ ، ملازمین اور طلبہ نے متعدد بار ڈائر یکٹر اینٹی کرپش بہاولنگر کو درخواستیں دیں مگر کچھ نہیں ہوا۔ ڈائر یکٹر اینٹی کرپشن کا موقف ہے کہ پرنسپل کاگریڈ 20ہے، اس لئے میں اس کیس کی انکوائری نہیں کر سکتا۔اساتذہ اور طلبہ نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے اپیل کی ہے کہ مذکورہ پرنسپل کی کرپشن کیخلاف شفاف تحقیقات کروا کے انصاف فراہم کیا جائے۔اس باے میں موقف کیلئے پرنسپل سے رابطہ کیا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ میرے اوپر لگائے جانے والے الزمات بے بنیاد ہیں۔

مزید : علاقائی


loading...