نو عمر لڑکیوں کے ساتھ مکروہ کھیل کھیلنے والے 5 بچوں کے پاکستانی باپ نے بیرون ملک قوم کا سر شرم سے جھکا دیا

نو عمر لڑکیوں کے ساتھ مکروہ کھیل کھیلنے والے 5 بچوں کے پاکستانی باپ نے بیرون ...
نو عمر لڑکیوں کے ساتھ مکروہ کھیل کھیلنے والے 5 بچوں کے پاکستانی باپ نے بیرون ملک قوم کا سر شرم سے جھکا دیا

  


لندن (نیوز ڈیسک) پاکستان کیلئے عظیم بدنامی کا باعث بننے والے مقدمے میں ایک اور پاکستانی نژاد شخص کو نوعمر بچیوں کو ورغلانے اور ہوس کا نشانہ بنانے کا مجرم قرار دے دیا گیا ہے۔

مزیدپڑھیں:قومی کھلاڑیوں کا حو صلہ بڑھانے کیلئے غیر ملکی حسینہ نے شرمناک پیشکش کر دی

43 سالہ محمد حبیب پانچ بچوں کا باپ ہے اور پیٹرز بورو شہر میں ایک ریسٹورنٹ چلاتا تھا۔ اس پر الزم تھا کہ وہ 12 سے 15 سال کی بچیوں کو میکڈونلڈز کے برگر، رقم، سگریٹ اور تحائف کا لالچ دے کر ورغلاتا تھا اور دوستوں کے ساتھ مل کر ان کے ساتھ جنسی درندگی کرتا تھا۔ حبیب کو اولڈ بیل میں ایک جیوری نے پانچ گھنٹے کی سماعت کے بعد مجرم قرار دیا۔ اسے ایک 14 سالہ لڑکی کو ورغلانے اور اس کے ساتھ جنسی فعل کا مجرم قرار دیا گیا جب کہ نومبر 2010ءسے جنوری 2013ءکے دوران نوعمر لڑکیوں کو جنسی مقاصد کیلئے بردہ فروشی کے 9 الزمات میں مجرم قرار دیا گیا۔ حبیب کو مجرم قرار دیئے جانے کے بعد آپریشن ارل نامی قانونی کارروائی اور مقدمے کے دوران مجرم قرار دیئے جانے والوں کی تعداد 10 ہو گئی ہے جن میں سے 5 پاکستانی نژاد ہیں۔ حبیب کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے اور عدالت 15 مئی کو اس کی سزا کا فیصلہ سنائے گی جو متعدد سالوں پر مشتمل ہو سکتی ہے۔

مزید : انسانی حقوق


loading...