کوٹ لکھپت جیل کے 4قیدی ملٹری کورٹس منتقل ، ہائی کورٹ نے 6دہشت گردوں کی پراسرار گمشدگی کا کیس نمٹا دیا

کوٹ لکھپت جیل کے 4قیدی ملٹری کورٹس منتقل ، ہائی کورٹ نے 6دہشت گردوں کی پراسرار ...
کوٹ لکھپت جیل کے 4قیدی ملٹری کورٹس منتقل ، ہائی کورٹ نے 6دہشت گردوں کی پراسرار گمشدگی کا کیس نمٹا دیا

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کو6 مبینہ دہشت گردوں کی جیل سے پراسرار گمشدگی کے کیس میں سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل نے آگاہ کیا ہے کہ ان میں سے چارقیدیوں کو ملٹری کورٹس میں منتقل کردیا گیا جبکہ دوقیدی جیل میں ہی موجود ہیںجس کے بعد عدالت عالیہ نے اس سلسلے میں دائر درخواستیں نمٹا دیں ۔ان درخواستوں میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ قاری آصف محمود،عبدالرﺅف گجر،صابر شاہ،ہاشم عبداللہ،شیخ فرحان اوررفیع اللہ جو کہ مختلف مقدمات میں کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے ۔ ان کے مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چل رہے ہیں،ان کے بارے میں یکم اپریل سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور ان کے اہل خانہ کو بھی ان سے ملنے نہیں دیا جارہا،درخواست گزاروں کو خدشہ ہے کہ قیدیوں کو پولیس مقابلے میں ماردیاجائے گا، ان کے اہل خانہ کی ان سے ملاقات کرائی جائے،سپرنٹنڈنٹ کوٹ لکھپت جیل نے عدالت میں قیدیوں کے بارے میں رپورٹ جمع کرائی،رپورٹ کے مطابق عبدالرﺅف،محمد شبیر،رفیع اللہ اور قاری آصف محمود کو ملٹری کورٹس کے حوالے کیا جاچکا ہے اور ان کے مقدمات اب انسداد دہشت گردی کی عدالت کی بجائے ملٹری کورٹس میں چلائے جائیں گے، فاضل جج نے جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ کے بعد کیس نمٹا دیا ۔یہ درخواستیں قیدی قاری آصف محمودکی والدہ زینت نسرین،ہاشم عبداللہ کی والدہ نرگس،صابر شاہ کی والدہ لیلی بی بی،شیخ فرحان کے والد انتظارحسین،رفیع اللہ کی والدہ تاج النسا اور عبدالرﺅف گجر کی بیوی سعدیہ اجمل کی طرف سے دائر کی گئی تھیں ۔

مزید : لاہور


loading...