گھریلو ملازمہ کودلہن بنانے کے خواہش مند کے خلاف لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا

گھریلو ملازمہ کودلہن بنانے کے خواہش مند کے خلاف لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ درج ...
گھریلو ملازمہ کودلہن بنانے کے خواہش مند کے خلاف لاہور ہائی کورٹ نے مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مظلوم گھریلو ملازمہ کوبیوی ظاہر کرنے والے شہری کی درخواست مسترد کرتے ہوئے متعلقہ پولیس کو اس کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دے دیاجبکہ فاضل جج اٹھ کر چیمبر میں چلے جانے کے بعد کمرہ عدالت میں ہی لڑکی کے وکیل نے پولیس اہلکار کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔مسٹر جسٹس کاظم رضاشمسی نے شہری محمد سلیم کی درخواست پر سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیا ر کیا کہ اس نے رفعت بی بی کے ساتھ پسند کی شادی کی ہے۔ اس کی بیوی کو بازیاب کروا کے اس کے ساتھ بھجوانے کا حکم دیا جائے۔ پولیس نے عدالتی حکم پر لڑکی رفعت کو عدالت میں پیش کیا۔ لڑکی نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اس نے سلیم کے ساتھ پسند کی شادی نہیں کی۔ وہ سلیم کے گھر ملازمہ تھی، سلیم اور اس کے رشتہ داروں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا یااور مقدمے کی کارروائی سے بچنے کے لئے جعلی نکاح نامہ تیار کرلیا ۔ پولیس اور ملزم پارٹی مل کر اسے اور اس کے اہل خانہ کو قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ متاثرہ لڑکی کمرہ عدالت میں اپنی اوپرظلم کی داستان سناتے ہوے رو پڑی۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ لڑکی کا بیان ریکارڈ کر کے اس کی روشنی میں ملزموں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عدالت نے لڑکی کو سخت سیکیورٹی میں گھرپہنچانے کا بھی حکم دیا۔ فاضل جج کے اٹھ جانے کے بعد لڑکی کے وکیل چودھری ابرار حسین اورمتعلقہ تھانے کے اے ایس آئی مرتضٰی کے درمیان اس وقت تلخ ہوگئی جب وکیل نے اسے کہا کہ آپ لوگ ایک مظلوم لڑکی پر ظلم نہ کریں بلکہ اسے انصاف دیں ۔اے ایس آئی مرتضی ٰ تکبرانہ لب و لہجہ اختیار کیا گیا جس پر وکیل نے اس کی تھپڑوں اور گھونسوں سے تواضع کردی ۔

مزید : لاہور


loading...