ہائی کورٹ :انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست پر نوٹس جاری

ہائی کورٹ :انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کے خلاف حکم ...
ہائی کورٹ :انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے قائم جوڈیشل کمیشن کے خلاف حکم امتناعی کی درخواست پر نوٹس جاری

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ کے ججوںپر مشتمل جوڈیشل کمیشن کو کارروائی کو روکنے کے لئے دائر درخواست پر وزارت قانون اور الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا۔ جسٹس عائشہ اے ملک نے یہ کارروائی لائرز فاﺅنڈیشن فار جسٹس کی درخواست پرکی ، درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جس کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں آئینی درخواستیں زیر التواءہیں تاہم اس کے باوجود صدارتی آرڈیننس کے تحت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین جج صاحبان پر مشتمل جوڈیشل کمیشن نے انتخابی دھاندلی پر اپنی کارروائی شروع کر دی ہے، انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا صدارتی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل دو سو پچیس کی خلاف ورزی ہے، آرٹیکل 225کے تحت انتخابی تنازعات صرف الیکشن ٹربیونلز میں انتخابی عذرداریوں کے ذریعے ہی اٹھائے جا سکتے ہیں ، انہوں نے استدعا کی کہ ہائیکورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کے حتمی فیصلے تک صدارتی آرڈیننس کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا جائے اور جوڈیشل کمیشن کو کارروائی سے فوری روکا جائے، ابتدائی سماعت کے بعد عدالت نے وزارت قانون اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 29اپریل تک جواب طلب کر لیا۔

مزید : لاہور


loading...