مسلمان نوجوان کی فیس بک پر ایک پوسٹ نے بھارت میں ہنگامہ برپا کردیا، پورے گاﺅں میں آگ لگادی گئی، ایسا کیا لکھا تھا؟ جان کر آپ بھی پاکستان میں رہنے پر خدا کا شکر کریں گے

مسلمان نوجوان کی فیس بک پر ایک پوسٹ نے بھارت میں ہنگامہ برپا کردیا، پورے ...
مسلمان نوجوان کی فیس بک پر ایک پوسٹ نے بھارت میں ہنگامہ برپا کردیا، پورے گاﺅں میں آگ لگادی گئی، ایسا کیا لکھا تھا؟ جان کر آپ بھی پاکستان میں رہنے پر خدا کا شکر کریں گے

  


نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت میں مسلمانوں کی زندگی پہلے بھی آسان نہ تھی لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں تو شدت پسندوں نے ظلم کی انتہا کر دی ہے اور بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ کبھی گائے کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیا گیا، تو کبھی مساجد کو بھارت کے وجود کیلئے خطرہ قرار دے کر حملوں کا نشانہ بنایا گیا، اور اب جنونی انتہا پسند ایک فیس بک پوسٹ کی وجہ سے دو مسلمان لڑکوں کی جان کے درپے ہیں، جبکہ درجنوں دکانوں اور گھروں کو نذر آتش کر چکے ہیں۔

انڈین یکسپریس کے مطابق ریاست جھاڑ کھنڈ کے شہر بکارو سے تعلق رکھنے والے مسلمان شخص محمد انعام الحق کے بیٹے عاد ل نے 15 مارچ کو فیس بک پر ایک پوسٹ شیئرکی۔ نوعمر عادل کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ پوسٹ ہندو مت کی دیوی ”درگا مائی“ کے متعلق متنازع مواد پر مشتمل تھی۔ فیس بک پوسٹ سامنے آتے ہی ہندو شدت پسندوں نے ہنگامہ شروع کر دیا اور شہر بھر میں جلاﺅ گھیراﺅ شروع ہو گیا۔

آسٹریا کی حکومت نے جرمن آمرہٹلر کے گھر پر’’ قبضہ ‘‘کرنے کا فیصلہ کر لیا

عادل کا کہنا ہے کہ اسے یہ پوسٹ ایک فیس بک فرینڈ کی طرف سے موصول ہوئی ، جوکہ اس کا دور کا رشتہ دار ہے اور عمر میں اس سے بھی چھوٹا ہے۔ فیس بک پوسٹ کو درگا دیوی کی توہین قرار دے کر شدت پسندوں نے نہ صرف عادل اور اس کے ساتھی لڑکے کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا، بلکہ مسلمانوں کی املاک کو جلانے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا۔

عاد ل کے والد کا کہنا ہے کہ اس نے شہر سے باہر شادی میں شرکت کیلئے گئے ہوئے اپنے بیٹے کو خود بلایا اور تحقیقات کیلئے پولیس کے سامنے پیش کیا۔ دوسرے لڑکے کو بھی اس کے والدین نے پولیس سٹیشن روانہ کیا، لیکن شدد پسندوں نے راستے میں ہی اسے پکڑ لیا۔ اتفاق سے پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لڑکے کو اپنے ساتھ لے گئی۔ مشتعل شدت پسندوں نے نوعمر لڑکے ہاتھ سے نکل جانے کا بدلہ قریبی علاقوں میں واقع مسلمانوں کے گھروں اور دوکانوں پر حملے کر کے لیا۔ شہر میں جگہ جگہ آگ لگائی گئی اور ہر طرف توڑ پھوڑ کے مناظر نظر آتے ہیں۔

اگرچہ پولیس دونوں لڑکوں کے خلاف فیس بک پوسٹ شیئر کرنے پر قانونی کارروائی کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود انتہا پسندوں کو چین نہیں آرہا، اور انہوں نے نہ صرف جلاﺅ گھیراﺅ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے بلکہ دونوں لڑکوں کو اپنے ہاتھوں سے موت کی سزا دینے پر بھی بضد ہیں۔

مزید : بین الاقوامی